حمل جلد ہو سو فصید نتیجہ

سے دن مناسب سمجھے جاتے ہیں جن کے دوران میاں بیوی کو مباشرت کرنی چاہئیے ؟۔ ۔ ایک مرد کی منی اور خاتون کے انڈہ کے ملاپ سے اللہ تعالٰی سے نئی زندگی کی امید لگاتے ہیں۔ ۔ میڈیکل سائنس کے مطابق عام طور پہ ۔ خواتین کو ایک ماہ میں یعنی ایام ختم ہونے کے بعد اگلی بار ایام شروع ہونے تک عام طور پہ خواتین کے جسم میں ایک بار بیضہ بنتا اور خارج ہوتا ہے۔ مرد کا مادہ منویہ یعنی اسپیرم خاتون کے اندر 3 تین سے 5 پانچ دن تک زندہ رہتا ہے ۔ جبکہ خاتون کے انڈہ کی عمر عام طور پہ 4 چارگھنٹے سے 12 بارہ گھنٹے ہوتی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق اگر خاتون کا انڈہ اور مر د کی منی چار سے چھ گھنٹے تک ساتھ رہیں تو حمل یعنی امید کے لگنے کے لئیے یہ نہائت ہی مناسب اور تقریباً یقینی مانا جاتا ہے۔۔جاری ہے ۔

لیکن اگر مادہ منویہ یعنی مرد کے اسپریم کے جرثومہ اور خاتون کا بیضہ اس سے کم وقت بھی ساتھ رہیں تو بھی امید یعنی پریگننسی ہونے کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ ۔ امید لگنے یا پریگننسی کے لئیے مباشرت کرنے کے مفید دن ۔ اگر ایک خاتون کے ایام 28 اٹھائیس دن کا مکمل دائرہ ہو تو 11 گیارہویں دن سے لیکر 14 چودہویں دن کے ایام میں بیضہ خاتون کے جسم میں سے خارج ہو گا۔ لیکن سو فیصد درست بتانا ممکن نہیں۔ اس لئیے ڈاکٹرز عام طور پہ میاں بیوی کے لئے خاتون کے ایام ختم ہونے کے بعد 7 ساتویں دن سے لیکر 20 بیسویں دن تک اس عرصے میں مباشرت کرنے کو امید لگنے یعنی پریگننسی ہونے کو مفید سمجھتے ہوئے ان دنوں مباشرت تجویز کرتے ہیں۔ ۔ خواتین کے بیضہ کے اخراج کے دن جاننے کی علامتیں۔ ایام گزر جانے کے بعد وجائنا خشک ہو جاتی ہے۔۔جاری ہے ۔

اور اس میں سیرویکل فلوئڈ بلکل نہیں ہوتا۔ پھر پھر کچھ دنوں بعد وجائنا میں ایک طرح کا ربڑی سا فلوئڈ یعنی گُم کی طرح کا چپکنے والا مواد یا سیال سا ظاہر ہوتا ہے۔ پھر پھر یہ سیال بہت زیادہ نمدار اور کریم کی طرح سفید سا ہو جاتا ہے۔ ان دنوں مباشرت پریگننسی کے لئیے مفید ہوتی ہے۔پھر ۔۔۔۔ مفید اسکے بعد وجائنا میں یہ سیرویکل فلوئڈ ۔ مرغی کے کچے انڈے کی سفیدی کی طرح صاف اور پھسلنے والی سی ہوجاتی ہے ۔ یہ دن پریگننسی کے لئیے انتہائی مفید اور پر امید ہوتے ہیں۔۔۔۔ انتہائی مفید بیضہ کی مدت پوری ہوجانے کے بعد وجائنا ایک بار پھر سے خشک ہوجاتی ہے ۔ یعنی اس میں سرویکل فلوئد یا سیال نہیں رہتا۔ یہ فلوئڈ چیک کرنے کے لئیے خواتین اپنے انگھوٹے اور شہادت والی انگلی کو وجائنا کے نچلے حصے میں اندر کر کے باہر نکال کر فلوئڈ چیک کرسکتیں ہیں ۔ اور اسکی رنگت اور ماہئیت سے اندازہ لگا سکتیں ہیں کہ بیضہ کا اخراج نزدیک ہے ۔ ۔ میڈیکل سائنس کے مطابق ۔باڈی ٹمپریچر سے بیضہ کے اخراج کا دن جاننے کا طریقہ ۔ جس دن خواتین کا بیضہ جونہی خارج ہوتا ہے انکے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے ۔اور امید لگنے یا پریگننسی ہونے کا وقت گزرنے کے بعد جسم کا درجہ حرارت پھر سے نارمل ہو جاتا ہے۔ اسکے لئیے ضروری ہے کہ خاتون ایک ہی تھرمامیٹر استعمال کرے جو اسکے بیڈ کے پاس ہاتھ کی پہنچ میں ہو اور خاتون کو کسی طور اسکے لئیے اٹھنا نہ پڑے اور نہ ہلنا جلنا پڑے ورنہ جسم کا درجہ حرارت ہلنے جلنے سے ہی بڑھ جائیگا اور اور مطلوبہ نتیجے کا پتہ نہیں چلے گا ۔۔جاری ہے ۔

اور لازمی ہے کہ ایک قلم اور کا غذ پہ روزانہ کا درجہ حرارت لکھا جائے ۔ تھرما میٹر ڈیجیٹل ہو یا پارہ والا مگر پورے ماہ میں ایک ہی تھرما میٹر ہو ۔ مختلف تھرما میٹرز سے درجہ حرارت کا درست پتہ نہ چلنے کا امکان رہتا ہے۔ ۔ درجہ حرارت ماپنے کا طریقہ یہ ہے ۔ صبح کے وقت رو زانہ ایک ہی وقت پہ بستر سے اٹھے بغیر سب سے پہلے تھرما میٹر سے خاتون اپنا درجہ حرارت چیک کرے اور اسے روز لکھتی جائے ۔یوں ایام کے بعد سے ایام کے آنے تک لکھتی جائے ۔، اور اس چارٹ میں جس دن جسم کا درجہ حرارت اعشاریہ دو درجہ یا اس سے زائڈ بڑھا ہوا ہو تو اس دن مباشرت کرنے پریگننسی کا امکان ہوتا ہے ۔۔جاری ہے ۔

یو ں لگاتارتین ماہ کرنے سے سے ایک خاتون کو پریگننسی کے لئیے اپنے بیضہ کے خارج ہونے کا اندازہ ہو جاتا ہے یہ طریقہ کار نہائت مفید جانا جاتا ہے ۔ اور ان دنوں میں پریگننسی کے لئیے مباشرت مفید جانی جاتی ہے ؛۔ ۔ اولیشن پریڈیکٹر کٹ۔ جن خواتین کے ایام ریگولر نہیں۔ یعنی ان کے دن مقرر نہیں ان کے لئیے یوروپ اور امریکہ میں عام طور پہ ”اولیشن پریڈیکٹر کٹ “ نامی میڈیکل اسٹورز پہ دستیاب ہے ۔ یہ ایک ایک ٹیسٹ ہے جو خواتین ایام کے ختم ہونے کع بعد گیارویں دن سے گھر پہ کر سکتی ہیں ۔ اگر وہ پازٹو ہو تو اسکا مطلب یہ بنتا ہے کہ اگلے 24 چوبیس سے 36 چھتیس گھنٹے تک انکے بیضہ کے اخراج ہونے کا امکان ہے