ہوسکتا ہے کہ آپ کے پڑوس میں ایسا خاندان ہو جو۔۔۔

بیگم افطاری کے انتظام میں کوئی کمی بیشی نہیں رہنی چاہیے!” میں نے آموں کی پیٹی بمشکل نیچے رکھ کر پھولی سانس سے صوفے کی طرف لپکتے ھوئے فاطمہ سے کہا۔”میرے خدایا اور کتنی بار کہیں گے پہلے کبھی کوئی کمی بیشی رھی ھے جو اتنی تاکید کر رھے ھیں۔ پچھلی بار بھی کیسی مزے کی افطاری کروائی تھی۔ آج تک آپ کے دوست تعریفیں کرتے ہیں!” فاطمہ نے زچ ہو کر کر کہا- میں نے کہا: ہاں بھئی وہ تو یادہے آج بھی ویسیہی ہونی چاہیے۔ تمہیں پتہ ہے دوست احباب ھیں تو زرا تمہاری بھی عزت ہو گی میری بھی!” ہاں ہاں ٹھیک ہے۔ آپ فکر نہ کریں ویسی ہی ہو گی!” فاطمہ نے مجھے دیکھے بغیر روح افزاء کی بوتل دودھ میں انڈیلتے ھوئے کہا اور ساتھ ھی کہا: “چکن بریانی، مٹن کڑائی، بیف، شوارمہ، کباب، زردہ، نہاری، پکوڑے، سموسے اور ملک شیک ۔۔ یہ سب تیار ھو چکے ھیں۔ کجھوریں بھی منگوا لی ھیں۔ بس فروٹ کاٹنے والا ھے آپ زرا مدد کر دیں نا ٹائم تھوڑا رھتا ہے!”۔جاری ہے۔

خیر میں نے چھری لی اور فاطمہ کی مخالف سمت بیٹھ کر فروٹ کاٹنا شروع کر دیا۔ کچھ ھی دیر میں افطاری کا انتظام مکمل ھوا اور ساتھ ھی ھم نے صحن میں سجے ڈائنگز پہ لگا دی۔ دوستوں اور رشتہ داروں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ھوگیا۔ افطاری کے ٹائم تک سب پہنچ چکے تھے۔ افطاری کا وقت ھوتے ھی سب نے افطاری کی اور خوش گپیں کرتے کھانا کھا رھے تھے۔ “ارے نوید یار تھوڑا ھی کھانا ایسا نہ ھو کہ تمہیں یہاں سے اٹھا کر لے جانا پڑے۔ ھاھاھاھا” افضال نے نوید سے مذاق کرتے ھوئے کہا۔جاری ہے۔

جس پہ سب ھنس پڑے اور ھنسی مزاح کے ساتھ سب لذیذ کھانوں کی لذت سے لطف اندوز ھو رھے تھے- سب کھانے سے فارغ ہوکر جزاک اللہ بہت مزہ آیا کہتے ھوئے نکل رھے تھے۔ میں ھاتھ دھونے کےلئے بیسن پہ گیا۔ بیسن کی نل کھولی تو ساتھ ھی میرے کان میں ایک بچی کی آواز آئی: “امی سب لوگ تراویح بھی پڑھ رھے ھیں اور ھم نے ابھی تک روزہ افطار نہیں کیا۔ سحری بھی صرف پانی سے کی تھی!” میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ یہ آواز پڑوسیوں کی بارہ سال کی بچی کی تھی۔ میں یہ جانتے ھوئے بھی کہ یہ اخلاقیات کے خلاف ھے دیوار سے انکے گھر میں جھانکنے پر مجبور ھوگیا۔ دیکھا کہ وہ بچی اپنی ماں کے سر پہ کھڑی تھی اور اسکی ماں چارپائی پر سر جھکائے بیٹھی تھی۔جاری ہے۔

......
loading...

اور اس سے نظریں نہیں ملا رھی ھے اور باقی بچے اپنی بڑی بہن کا سوال سن کر اپنی ماں کے جواب کے منتظر تھے۔بچی بار بار کھانے کا مطالبہ کر رھی تھی میں یہ دیکھ کے جیسے پتھر کا ھو گیا۔ اسکی ماں نے جب سر اٹھایا تو نظر مجھ پہ پڑ گئی اسکی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں۔ مجھ پہ نظر پڑتے ھی زبردستی مسکرائی اور چادر سے آنسو پونچھتے ھوئے کہنے لگی: “بھائی کیسے ھیں آپ؟ یہ لڑکی بہت ضدی ھے۔ ابھی کھانا کھایا ھے سب نے۔ اب پھر ضد کر رھی ھے۔ وہ جھوٹ بول رھی تھی۔ شاید جانتی تھی کہ میں نے بچی کی باتیں سن لی ھیں۔ میں سوچ رھا تھا کہ افطاری کرتے وقت جو سب بار بار کھانے کی تعریف کر رھے تھے اور ایک دوسرے کو کہہ رھے تھے کہ بھائی کم کھاؤ وغیرہ وغیرہ۔ وہ سب انہوں نے سنا ھو گا تو کیا بیتی ھو گی ان پہ۔ کب فاطمہ یہ سب دیکھ کر میرے پہلو میں آ کھڑی ھوئی مجھے کچھ پتہ نہیں چلا۔ میں نے اپنے آپکو بڑی مشکل سے متحرک کیا اور بجلی کی سی تیزی سے باھر کی طرف لپکا۔ “ارے ارے کہاں جا رھے ھیں۔ کیا ھوا؟ خیریت تو ھے نا۔ آرام سے جائیں آخر ھوا کیا ھے؟” فاطمہ سوال پہ سوال کر رھی تھی۔ میں بغیر کسی سوال کا جواب دیئےے بازار کی طرف بڑھا وھاں سے ھر وہ چیز جو میں نے افطاری میں کھائی تھی لے کے واپس چل دیا۔ میرا ھر قدم مجھے بھاری لگ رھا تھا۔ اس بچی کی باتیں اور اس بیوہ خاتون کے آنسو مجھے نہیں بھول رھے تھے۔۔جاری ہے۔

خیر میں نے آدھے گھنٹے کا سفر 10 منٹ میں طے کیا اور آکر دروازے پہ دستک دی تو اسی بچی نے دروازہ کھولا۔ مجھ پہ نظر پڑتے ھی اسکی آبدیدہ آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ وہ واپس دوڑی اور شور مچانے لگی: “دیکھو جاوید انکل کیا لائے ھیں۔ دیکھو جاوید انکل کیا لائے ھیں!” سب بچے میری طرف لپکے اور میں نے سارا سامان ایک طرف رکھ کے سب کو باری باری سینے سے لگایا اور پیشانیوں پر بوسے دیئے۔ انکی ماں یہ سب دیکھ کر بلک بلک کر رونے لگی جیسے انسان کا ضبط ٹوٹا ھو۔ میں بھی اپنے آنسو نہ روک پایا۔ بچوں کا شور سن کر فاطمہ بھی دیوار پر آگئی تھی۔ یہ سب دیکھ رھی تھی اور جب میں نے اسکی طرف دیکھا تو مجھے دیکھ کر مسکرائی اور اپنے آنسو پونچھنے لگی- میں نے سامان کھولا بچوں کے ساتھ بیٹھ کر انکو کھانا کھلایا۔ ھر لقمے کے ساتھ بچے مسکرا کر شکر گزار نگاھوں سے میری طرف دیکھتے۔ بچوں نے جی بھر کے کھانا کھایا۔ جب سب کھانا کھا چکے تو میں نے کہا: “آپ لوگ آرام کریں اور امی سے بھی کہو کہ کھانا کھا لیں میں تھوڑی دیر میں آتا ھوں۔” بچوں نے کہا:”ٹھیک ہے، انکل””میں وھاں سے چلا اور مارکیٹ سے آ کر مہینے بھر کا راشن لیا اور دوبارہ انکے گھر آیا۔۔جاری ہے۔

سارے بچے سو چکے تھے اور انکی ماں جاگ رھی تھی۔ مجھے دیکھ کر اٹھ کھڑی ھوئی اور نظریں جھکا کے کہنے لگی: “بھائی اتنی زحمت کیوں اٹھائی آپ نے؟” میں نے کہا:”آپ میری بہن ھیں۔ اس میں زحمت والی کونسی بات ہے!”یہ کہہ کر میں نے سامان ایک طرف رکھنا شروع کیا۔ جب سامان رکھ چکا تو میں نے سوئے ھوئے بچوں کی طرف ایک نگاہ دیکھا تو جیسے سکون آ گیا۔ میں نے کہا: