کیا بہوانسان نہیں ہوتی ؟؟؟

شادی کے بعد یہ اسکا پہلا رمضان تھا- امی کے گھر تو اس پر کوئی خاص ذمے داری نہیں تھی کیونکہ امی سحری بناکر اسکو باقی سب کےساتھ ہی اٹھایا کرتی تھیں-انکا کہنا تھا “چار دن ماں کے گھر آرام کرلے پھر سسرال جا کے ذمے داریاں ہی نبھانی ہیں-“مگر اب شادی کے بعد دو مہینے کا بچہ رات بھر جگائے رکھتا تھا- اور جو ذرا آنکھ لگنے لگتی تو سحری کا وقت ہوجاتا تھا- میٹھی نیند قربان کرکے وہ اس خیال سے بہت جلد اٹھ جایا کرتی تھی کہ سب کی سحری بنانے کے لئے زیادہ وقت درکار ہوگا- اگر صرف اپنی اور اپنے شوہر کی سحری بنانی ہوتی تو مزید ایک گھنٹہ سونے کی گنجائش نکل ہی جاتی- مگر اب جب کہ پورے گھر کی سحری کی ذمے داری اس اکیلی کے سر پر تھی تو ایک گھنٹہ پہلے ہی اٹھنا پڑتا تھا پھر ہر ایک کی الگ الگ پسند کے مطابق سحری بنانے میں تھوڑا وقت بھی زیادہ لگتا تھا-۔جاری ہے۔

اپنے طور پر وہ پوری کوشش کرتی تھی کہ کوئی کمی نہ رہ جائے, ہر ایک کو اسکی پسند کے مطابق ہی سحری ملے- آج انیسواں روزہ تھا اور وہ رات کو ایک لمحہ بھی نہیں سوسکی تھی- پتہ نہیں اس کے بیٹے کو کیا ہوگیا تھا- مسلسل روئے چلا جارہا تھا-رات بھر وہ اس خیال سے اپنے بیٹے کو لے کر ٹہلتی رہی تھی کہ اس کے رونے سے شوہر کی نیند نہ خراب ہوجائے- انہوں نے صبح آفس بھی تو جانا تھا- سحری کے قریب جا کے بیٹا سویا تو نجانے کیسے بچے کو سلاتے سلاتے اسکی بھی آنکھ لگ گئی تھی- رات بھر ٹہل ٹہل کر تھک بھی تو چکی تھی-ایک گھنٹہ سونے کے بعد لاشعوری طور پر احساس ذمے داری سے اسکی آنکھ کھلی تو سحری کا وقت ختم ہونے میں بیس منٹ باقی تھے وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی تھی اور گھبرا کر جلدی سے کچن کا رخ کیا تھا-ابھی کچن کے قریب ہی پہنچی تھی کہ اپنی ساس کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی-۔جاری ہے۔

وہ اس کی نند سے سحری لگانے کو کہہ رہی تھیں، اور ساتھ میں اسکی بھی خبر لی جارہی تھی “کہ وہ ایک بہت ہی غیر ذمے دار بہو ہے- سونے سے ہی اسکو فرصت نہیں، اور یہ کہ اگر انکی وقت پہ آنکھ نہ کھلتی تو آج اس نے سب کو شدید گرمی میں بغیر سحری کا روزہ رکھوادیا تھا”-جواب میں نند کی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی “ہاں نا امی اب انکو بھی اٹھانے کی ضرورت نہیں- رکھیں بغیر سحری کا روزہ, ہمیں رکھوانے چلی تھیں- آج مزہ آجائے گا، جب خود بغیر سحری کا روزہ رکھینگی- سزا ملنی چاہئے انکو اس غیر ذمے داری کی-۔جاری ہے۔

اور وہ حیران ہو کر بہتے آنسؤں کے ساتھ سوچ رہی تھی کیا اسکی ذمے داری ہے سب کو روزہ کے لئے اٹھانے کی؟روزہ تو انسان کو اپنے لئے رکھنا ہوتا ہے تو پھر کیا وہ اپنی ذمہ داری پر خود اپنے روزے کی فکر میں نہیں اٹھ سکتا؟وہ مزید آگے بڑھ کر انکو شرمندہ نہیں کرنا چاہتی تھی کہ اس کی امی کی تربیت ایسی نہیں تھی-آنسو پونچھ کر اپنے دل کو یہ تسلی دیتے ہوئے شوہر کو اٹھانے چلدی تھی کہ اگر وہ سب کو اٹھا کر سحری کرواتی ہے تو اس کے بدلے اللہ سے اجر بھی تو پاتی ہے-۔جاری ہے۔

اسکی سحری اگر نہ بھی ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی کہ سارا دن اسے گھر میں ہی تو رہنا تھا- مگر اس کے شوہر کو تو آفس جانا تھا انہیں سحری کرنا بہت ضروری تھا-ویسے بھی جو تکلیف وہ یہ باتیں سن کر اٹھا چکی تھی اس تکلیف کے سامنے بغیر سحری کے روزے کرنے کی تکلیف کیا معنی رکھتی تھی؟

کیٹاگری میں : Viral