خلیفہ ہارون الرشید،اہلیہ زبیدہ اور طلاق

ختلاف نے جب طول پکڑا تو ہارون نے غصے میں قسم کھا لی کہ آنے والی رات تم میری سلطنت سے باہر گزارو ورنہ تمھیں طلاق….ہارون الرشید کی حدود سلطنت مشرق میں چین سے لے کر مغرب میں فرانس کی نواح تک پھیلی ہوئی تھی ، پھر ایسی وسیع و عریض سلطنت کو ایک ہی رات میں ہارون الرشید کی اہلیہ کیونکر طے کر سکتی تھی، جبکہ اس وقت نقل و حمل کے وسائل و ذرائع بھی آج کی طرح تیز رفتار نہ تھے.اب بات زبان سے نکل چکی تھی، اہلیہ بھی کوئی معمولی خاتون نہ تھی، زبیدہ تھی جواسے جان سے زیادہ عزیز تھی ….وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔جاری ہے۔

اور یہ دونوں نہایت پریشان، ادھر ہارون اپنی سبقت لسانی پر شرمندہ و پشیمان بھی تھا. چنانچہ اس معمہ کو حل کرنے کے لیے بڑے، بڑے علماء ہارون الرشید کی خدمت میں بلائے گئے…ان میں قاضی ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ بھی تھے، جب علماء کے سامنے اس مسئلے کو رکھا گیا تو سارے غور و خوض میں لگ گئے لیکن مسئلہ کا کوئی معقول حل نظر نہیں آ رہا تھا اس لیے ہر طرف خاموشی طاری ہو گئی، ہاں ایک بات پر سب ہی کو اتفاق تھا کہ اس طرح شرع میں طلاق ہو جاتی ہے، اس لیے ہارون الرشید کی دی ہوئی طلاق واقع ہو گئی …اب علماء کی نظریں قاضی ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کی طرف اٹھیں کہ :”حضرت اس کا آپ کے پاس کوئی حل ہے … اس کا آپ کے پاس کیا جواب ہے …؟؟؟”قاضی ابو یوسف مسکرائے، خلیفہ کی طرف دیکھا اور گویا ہوئے :”آپ کی قسم ایک صورت میں واقع ہونے سے بچ سکتی ہے …!۔جاری ہے۔

ہارون الرشید :”وہ کون سی صورت ہے …؟”امام ابو یوسف :”اپنی بیوی سے کہیں کہ وہ آج رات کسی بھی مسجد میں گزار لیں، اس لیے کے مسجد آپ کی ملکیت میں نہیں ہے، وہ آپ کی سلطنت سے باہر ہے .کیونکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے کہ :ترجمہ : ” اور یہ کہ مساجد صرف اللہ کے لیے ہی خاص ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو “۔جاری ہے۔

(الجن :18) …امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فتوی سن کر تمام علماء عش، عش کر اٹھے اور ان کی ذہانت و فطانت کے قائل ہو گئے …چنانچہ قاضی ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے فتوی کے مطابق ہارون الرشید کی اہلیہ زبیدہ نے رات مسجد میں گزاری اور اس طرح ہارون الرشید کی اہلیہ کو طلاق ہوتے، ہوتے رہ گئی …