اونٹ کی ھڈی حجاج بن یوسف نے ایک اعرابی (دیہاتی) کو کسی علاقے کا والی بنا کر بھیجا، وہ ایک مدت تک اپنے اہل و عیال سے دور قیام

حجاج بن یوسف نے ایک اعرابی (دیہاتی) کو کسی علاقے کا والی بنا کر بھیجا، وہ ایک مدت تک اپنے اہل و عیال سے دور قیام پذیر رہا، ایک مرتبہ اس کی بستی کا کوئی شخص اس کے دروازے پہ پہنچا، وہ بھوک کی شدت سے نڈھال ہو رہا تھا، اعرابی نے اپنے اہل و عیال کی خیریت معلوم کرنے کے غرض سے اس کی بڑی آؤ بھگت کی، اس کے سامنے کھانا پیش کیا اور پھر اپنے اہلخانہ کے بارے میں پوچھنے لگا،’’اعرابی! میرے بیٹے عمیر کا کیا حال ہے؟ مہمان: ماشاء اللہ! اس نے تو آپ کے پوتے،۔جاری ہے۔


پوتیوں سے پورا محلہ آباد کر دیا ہے۔ اعرابی: عمیر کی ماں کیسی ہے؟ مہمان: وہ بھی خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے۔ اعرابی: میرے کتے کے بارے میں کچھ بتاؤ۔ مہمان:تمہارا کتا تو دن رات بھونک بھونک کر سارا محلہ سر پہ اٹھائے رکھتا ہے۔اعرابی: اچھا! یہ تو بتاؤ میرا اونٹ کس حال میں ہے؟ مہمان: تمہارا اونٹ بھی موج کر رہا ہے۔ جب اعرابی کو اپنے گھر بار کی خیریت و عافیت کے متعلق تسلی ہو گئی تو اس نے خادم کو آواز دی ’’ذرا کھانا اور برتن اٹھا کر لے جاؤ‘‘ مہمان جو ابھی تک سیر نہیں ہوا تھا، کھانا اٹھا لینے کا حکم سن کر تلملا کر رہ گیا اور دل ہی دل میں اعرابی کو برا بھلا کہنے لگا، اعرابی اس کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا ’۔جاری ہے۔

......
loading...

’اللہ تجھے خوش رکھے! جو کچھ تو نے کہا ’’ذرا دوبارہ بتانا‘‘ مہمان برا سا منہ بنا کر بولا ’’جی! آپ پوچھتے جائیے‘‘۔ اعرابی: میرے کتے کا کیا حال ہے؟ مہمان: آپ کا کتا تو مر گیا ہے۔ اعرابی: (حیران ہو کر) کیسے؟ مہمان: آپ کے اونٹ کی کوئی ہڈی اس کے حلق میں پھنس گئی تھی۔ اعرابی: (حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر) کیا میرا اونٹ بھی مر گیا ہے؟ مہمان: ہاں وہ بھی مر گیا ہے۔ اعرابی! وہ کیسے؟ مہمان: عمیر کی ماں کی قبر کیلئے پانی کی ضرورت تھی جسے بار بار ڈھونے کی وجہ سے بیچارہ جان سے چلا گیا۔۔جاری ہے۔

اعرابی: (چلاتے ہوئے) کیا عمیر کی ماں بھی چل بسی؟ مہمان: (سرد آہ بھرتے ہوئے) بیچاری محبت کی ماری ماں، بیٹے کی جدائی کا غم آخر کب تک برداشت کرتی۔ اعرابی: (بھرائی ہوئی آواز میں) کیا میرا بیٹا بھی دنیا میں نہیں رہا؟ مہمان: ہائے افسوس! وہ غریب تو مکان تلے ہی دب گیا تھا۔ اعرابی: (سر پکڑ کر) کیا میرا مکان بھی گر گیا ہے؟ مہمان: افسوس! تمہاا مکان بھی گر گیا ہے۔ یہ سن کر اعرابی نے ڈنڈا اٹھایا اور اس کے پیچھے دوڑا تو وہ دروازے سے نکل چکا تھا۔