بیوی کی جان بچانی ہے تو پہلے مجھے ٹھنڈا کرنا پڑے گا – میڈم سلطانہ اسوقت اپنے مدہوش کردینے والی خوشبو سے مزین بیڈروم میں میرے سامنے تھی اسنے ایک ادائے ناز سے مجھے دیکھا تو تمہیں دو لاکھ روپے قرض کی ضرورت ہے ؟

ٹی وی پرمیڈم سلطانہ کی ریکارڈ شدہ چنگھاڑتی ہوئی آواز کمرے میں گونج رہی تھی . آواز میں دکھہ درد افسوس ملامت اور جوش سب کچھ شامل تھا۔جاری ہے۔

.یہ معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے. مردوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوے معاشرے کو اپنا غلام بنا رکھا ہے .جی جناب آپ کو حیرت ہوگی یہ جان کر کہ ایک چوتھائی ایشیائی مردوں نے ’جنسی زیادتی‘ کرنے کا اعتراف کیا ہے .اور عالمی ادارہء صحت کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کہ مطابق دنیا بھر میں ایک تہائی خواتین گھریلو یا جنسی تشدد کا نشانہ بنائی جاتی ہیں۔.بس اب یہ ظلم ختم ہونا چاہئے .آج اکیسویں صدی میں بھی اگر عورت کوٹھوں پر ظالم مردوں کی جنسی وحشت کا نشانہ اور گاہک بنی بیٹھی ہے تو تف ہے ایسی انسانی ترقی پر جو صرف چاند کو تسخیر کرنا ہو جبکہ آج بھی زمانہ جاہلیت کی طرح عورت مرد کی غلام اور محکوم ہےمیڈم کی بات ختم ہوتے ہی حال میں بیٹھے لوگ زور زور سے تالیاں پیٹھنے لگیں .دروازہ کھلنے کی آوازسے چونک کر میں نے ٹی وی سے نظریں ہٹائیں میڈم سلطانہ اسوقت اپنے مدہوش کردینے والی خوشبو سے مزین بیڈ روم میں میرے سامنے تھی . اسنے ایک ادائے ناز سے مجھے دیکھا .۔جاری ہے۔


تو تمہیں دولاکھ روپے قرض کی ضرورت ہے ؟جی . میری وائف ہسپتال میں داخل ہے . اسے دل کا مسلہ ہے .آپریشن کے لیے ڈاکٹروں نے دولاکھ روپے جمع کرانے کو کہا ہے . میں نے نظریں جھکاتے ہوۓ جواب دیا .کیوں کے میری بات سننتے ہوۓ میڈم اپنا دوپٹہ درست کرتے ہوۓ اسے اور زیادہ خراب کرچکی تھی .میری بات سن کر میڈم نے مجھے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا .اور بولی .میں تمھاری مدد ضرور کرونگی لیکن تم جانتے ہو نا میں نے یہاں تمہیں کیوں بلایا ہے؟ .یہاں کچھ فری میں نہیں ملتا یہ دنیا کچھ لینے اور کچھ دینے کا نام ہے . شکر ہے تمہیں ضرورت تو پڑی ورنہ تم تو کسی کو گھاس ہی نہیں ڈالتے .تم نے ایک بہت لمبا عرصہ مجھے نظر انداز کیا اور میری انا کو زخمی کیا ہے .اب تمہیں اگر میری مدد کی ضرورت ہے تو اپنے اس طرز عمل کی بھرپائی کرنا ہوگی .جی میڈم میں سمجھتا ہوں .میں نے کوشش کی کے میری آواز سے میرے اندر کی مجروحیت کا اظہار نہ ہو .میڈم نے مجھے مزید اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا .۔جاری ہے۔


میں نے درد سے چیختے چلاتے ہوۓ احساس کی فریاد کو نظر انداز کیا .غم سے چٹختے ہوۓ جذبات کو بے دردی سے روندتے ہوۓ .بیمار بے وی کی جان بچانے کے خیال سے شکستہ قدموں کے ساتھ آگے بڑھ گیا .مجبوری کی آگ میں جھلستے ہوے مجھے آ ن ٹی وی سے معروف سوشل ورکر میڈم سلطانہ کی آواز سنائی دے رہی تھی .یہ معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے ………..

کیٹاگری میں : Viral