غصے میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے ؟علمائ کرام نے ہزاروں گھروں کو اجڑنے سے بچالیا

شدید غصے میں جب انسان اپنے ہوش و حواس کھو دیتا ہے اور اسے اپنے عمل‘ اس کے نتائج کا ادراک نہیں رہتا تو قانون، عقل اور شریعت اس بات پر متفق ہیں۔جاری ہے۔

کہ اس وقت انسان پر احکام لاگو نہیں ہوتے۔ مولانا مفتی شبیر قادری ؒ کہتے ہیں کہ اگر آپ کے شوہر نے بھی ایسی ہی کیفیت میں طلاق دی تھی تو واقع نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس اگر غصہ شدید نہیں تھا اور آپ کے شوہر ہوش و حواس میں‌ تھے تو طلاق واقع ہوچکی ہے۔ طلاق دیتے وقت ان کی کیا کیفیت تھی؟ اس کا فیصلہ آپ کے شوہر نے کرنا ہے اور اسی کے مطابق طلاق کے واقع ہونے یا نہ ہونے کا حکم ہوگا۔ طلاق زبانی دی جائے یا لکھ کر‘ ہر دو صورت میں واقع ہوجاتی ہے۔۔جاری ہے۔

......
loading...

اگر بقائمِ ہوش و حواس شوہر نے زبانی طلاق دی ہے تو واقع ہوچکی ہے۔ طلاق دیتے وقت ان کی کیا کیفیت تھی؟ اس کا فیصلہ آپ کے شوہر نے کرنا ہے اور اسی کے مطابق طلاق کے واقع ہونے یا نہ ہونے کا حکم ہوگا۔ طلاق زبانی دی جائے یا لکھ کر‘ ہر دو صورت میں واقع ہوجاتی ہے۔ اگر بقائمِ ہوش و حواس شوہر نے زبانی طلاق دی ہے تو واقع ہوچکی ہے۔