بیٹی کی خواہش رکھنے والی خواتین کو دوران حمل یہ چیز نہیں کھانی چاہئے، نئی تحقیق نے ہلچل مچا دی دیکھیے اس رپورٹ میں

بچے کی جنس کے انتخاب کے لئے آج کے جدید دور میں جینیاتی سائنس کی مدد لی جا رہی ہے جبکہ ماضی میں لوگ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق طرح طرح کے ٹوٹکے استعمال کیا کرتے تھے۔ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو دو بیٹوں کے بعد بیٹی کی تمنا ہوئی تو اس نے نا جینیاتی سائنس کی مدد لی اور نا ماضی کے ٹوٹکوں کی جانب دیکھا،۔جاری ہے۔

بلکہاپنی خوراک میں ایک دلچسپ تبدیلی کر کے اپنا خواب پورا کر لیا۔میل آن لائن کے مطابق خاتون بریڈی برانوائن کا کہنا ہے کہ ”میں نے بچے کی جنس کا انتخاب کرنے کے لئے انٹرنیٹ پر تحقیق شروع کی اور بہت سی طبی تحقیقات کی رپورٹیں کھنگالنے کے بعد اپنی خوراک میں تبدیلی کا فیصلہ کیا۔ میں نے اپنی خوراک سے ٹماٹروں، آلوؤں اور کیلوں کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا اور میرا یہ تجربہ کامیاب رہا کیونکہ اس بار میرے ہاں ایک پیاری سی بیٹی کی پیدائش ہوئی، جو اب چار سال کی ہے۔مجھے تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ میں اپنی غذاءمیںا یسی اشیاءکا زیادہ استعمال کررہی تھی جن کے نتیجے میں عموماً بیٹوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ میں غذائیت سے بھرپور کھانے کھارہی تھی جن میں خصوصاً سرخ گوشت اور آئرن و توانائی سے بھرپور غذائیں شامل تھیں۔ میں آلو اور کیلے بھی بہت زیادہ کھاتی تھی۔جاری ہے۔

......
loading...

جن میں پوٹاشیم کی بہتات ہوتی ہے۔ مجھے پتہ چلا کہ اس معدنیات کی وجہ سے بیٹے کی پیدائش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ بس میں نے فیصلہ کیا کہ اب میری غذا میں ٹماٹر، آلو اور کیلے شامل نہیں ہوں گے تاکہ میں آئرن اور پوٹاشیم کی مقدار کم کرسکوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ حکمت عملی مکمل طور پر کامیاب رہی۔“واضح رہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی اور اکسیٹر یونیورٹی کی ایک تحقیق میں بھی بتایا جا چکا ہے کہ حمل کے دنوں میں زیادہ حراروں والی خوراک اور کیلوں کا زیادہ استعمال بیٹے کی پیدائش کے امکانات کو بڑھادیتا ہے۔ یہ تحقیق 2008ءمیں کی گئی اور اسے سائنسی جریدے ’پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بائیولوجیکل سائنس‘ میں شائع کیا گیا تھا۔تاریخی طور پر بھی ایسے شواہد ملتے ہیں کہ قحط اور عمومی غذائی کمی کے دنوں میں خواتین کے ہاں بیٹوں کی نسبت بیٹیوں کی پیدائش زیادہ ہوتی رہی۔۔جاری ہے۔

اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کم حراروں پر مشتمل غذا کا استعمال بیٹی کی پیدائش کے امکانات کو بڑھادیتا ہے۔ اسی بناءپر یہ رائے پائی جاتی ہے کہ بیٹی کی پیدائش کا امکان بڑھانے کیلئے ایسی غذائیں استعمال کی جائیں جن میں حراروں اور دیگر اجزاءکی مقدار نسبتاً کم ہو۔ عموماً یہ خوراک 1500 سے 1800 حرارے یومیہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ آلو، ٹماٹر، کیلے، دودھ و دہی، گوشت وغیرہ کا استعمال کم کردیا جائے۔یہاں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ تولیدی سائنس کے ماہر سائنسدانوں کی اکثریت غذائی تبدیلیوں کے بچے کی جنس پر قابل ذکر اثرات کے نظریے کی حامی نہیں ہے۔