بیویوں کو اپنے خاوند سے سب سے زیادہ کیا چیز چاہیے ہوتی ہے پیسہ بلکل بھی نہیں ہے

پیار اور توجہ کی طلب ہر انسان میں پائی جاتی ہے کیونکہ یہ ہماری فطرت کا حصہ ہے لیکن اگر یہ طلب حد سے بڑھ جائے تو باہمی تعلق کیلئے زہر قاتل ثابت ہوسکتی ہے۔ فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں کچھ ایسے ہی دلچسپ انکشافات سامنے آئے ہیں جو ایک جانب تو کچھ عام پائے جانے والے نظریات کی تصدیق کرتے ہیں تو دوسری جانب عورت و مرد کے تعلقات کے کچھ حیرت انگیز پہلوﺅں سے پردہ بھی اٹھاتے ہیں۔۔جاری ہے۔


میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں 157 جوڑوں کے باہمی تعلقات کا مطالعہ کیا گیا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ فریقین میں مدد اور توجہ کی طلب ان کے باہمی تعلق پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جن جوڑوں میں خاتون، مرد کی نسبت زیادہ توجہ کی طلبگار ہو اور گاہے بگاہے اس سے جذباتی مدد اور دلاسے کی امید لگائے رکھے، ان کا باہمی تعلق زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرد عموماً ایسی خواتین سے بہت جلد بیزار ہوجاتے ہیں جنہیں ہر وقت توجہ اور جذباتی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری جانب یہ حیرت انگیز انکشاف بھی ہوا ہے۔جاری ہے۔

......
loading...

کہ مرد اگر جذباتی سہارے اور توجہ کے زیادہ طلبگار ہوں تو خواتین نہ صرف کافی حد تک انہیں برداشت کرتی ہیں بلکہ عموماً انہیں زیادہ توجہ دینے بھی لگتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فرق کی وجہ غالباً یہ ہے کہ خواتین فطری طور پر دوسروں کی دیکھ بھال اور انہیں توجہ دینے کا رویہ رکھتی ہیں۔ جب وہ خود ہی جذباتی سہارے اور دیکھ بھال کی غیر معمولی تمنا کرنے لگیں تو مردوں کی جانب سے مثبت ردعمل نہیں ملتا۔ تحقیق کی سربراہی کرنے والی سائنسدان ایشلی کارٹر نے نتائج کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا۔جاری ہے۔

کہ مختصراًہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مردوں کو جذباتی سہارے کی ضرورت پڑے تو عورتیں ان کیلئے مددگار ثابت ہوتی ہیں لیکن اگر عورت جذباتی سہارے کی فرمائش کرنے لگے تو مرد عموماً بہت برا محسوس کرتے ہیں۔