ایک عرب نوجوان کہتا ہے کہ میں ایک جگہ اپنے رشتے کیلئے لڑکی پر شرعی نظر ڈالنے کیلئے گیا۔ میں بیٹھک میں لڑکی کے باپ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ نقاب پہنے ہوئے ایک پردے دار لڑکی اندر آئی، لمحہ بھر کیلئے مجھے بغور دیکھا اور کچھ کہے بغیر واپس چلی گئی۔میں نے لڑکی کے باپ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا: اس نے تو نقاب نہیں ہٹایا اور نا ہی میں نے کچھ دیکھا ہے لڑکی کے باپ نے کہا: بیٹے، اس نے مجھے کہا تھا کہ

ایک عرب نوجوان کہتا ہے کہ میں ایک جگہ اپنے رشتے کیلئے لڑکی پر شرعی نظر ڈالنے کیلئے گیا۔ میں بیٹھک میں لڑکی کے باپ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ نقاب پہنے ہوئے ایک پردے دار لڑکی اندر آئی، لمحہ بھر کیلئے مجھے بغور دیکھا اور کچھ کہے بغیر واپس چلی گئی۔۔جاری ہے۔

......
loading...

میں نے لڑکی کے باپ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا: اس نے تو نقاب نہیں ہٹایا اور نا ہی میں نے کچھ دیکھا ہے۔لڑکی کے باپ نے کہا: بیٹے، اس نے مجھے کہا تھا کہ اگر مجھے لڑکا پسند نہیں آیا تو میں نے نقاب نہیں ہٹاؤں گی ۔۔جاری ہے۔

نتیجہ:نوجوان سمجھتا تھا شریعت نے یہ رعایت بس اُسی کیلئے رکھ چھوڑی ہے۔