ایک نوجوان کو چوری کے جرم میں حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔جب تفتیش کرنے پر اس نوجوان کا جرم ثابت ہوگیا تو آپ نے شرع کے مطابق چور کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم صادر فرمادیا ۔وہ نوجوان فریاد کرنے لگا اور رونے لگا معافی کا طلبگار ہوا کہ یہ میری پہلی چوری ہے میں آئندہ کبھی بھی چوری نہیں کروں گا ۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ’تم غلط کہتے ہو تم نے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ چوریاں کی ہیں۔آخر کار اس نوجوان کو

ایک نوجوان کو چوری کے جرم میں حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔جب تفتیش کرنے پر اس نوجوان کا جرم ثابت ہوگیا تو آپ نے شرع کے مطابق چور کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم صادر فرمادیا ۔۔جاری ہے۔

وہ نوجوان فریاد کرنے لگا اور رونے لگا معافی کا طلبگار ہوا کہ یہ میری پہلی چوری ہے میں آئندہ کبھی بھی چوری نہیں کروں گا ۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ’تم غلط کہتے ہو تم نے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ چوریاں کی ہیں۔آخر کار اس نوجوان کو اس بات کا اقرا ر کرنا پڑا کہ واقعی اس نےپہلےبھی چوری کی وارداتیں کی ہیں۔اب وہ بجائے معافی مانگنے کے اس بات پر حیران تھا۔جاری ہے۔

......
loading...

کہ حضرت عمرؓ کو کیسے اس کی گزشتہ چوریوں کی خبر ہوئی اس نے حیرانگی کے عالم میں پوچھا اے امیر المومنینؓ !میری گزشتہ کی ہوئی چوریوں کا علم میرے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو نہیں ہے ۔آپ کو اس بات کی اطلاع کس طرح ہوگئی ہے؟حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اس وقت تک ذلیل و خوار نہیں کرتا جب تک کہ وہ برائی کی حد سے آگے نہ بڑھ جائے‘‘۔