لاہور دھماکے میں شہید ہونیوالے ایک پولیس اہلکار سے میں چند گھنٹے پہلے ملا تھا وہ سڑک کنارے کھڑا الفٹ مانگ رہا تھا میں نے گاڑی میں بیٹھا یا تو کہنے لگا معروف صحافی نے ایسی بات بتادی کہ جان کر آپ کی بھی آںکھیں تم ہوجائیں گی

کوٹ لکھپت سبزی منڈی ارفعہ کریم ٹاور کے قریب خود کش دھماکہ میں شہید سب انسپکٹر ریاض اور اے ایس آئی فیاض تھانہ کاہنہ میں تعینا ت تھے ۔سب انسپکٹر ریاض اور اے ایس آئی فیاض کی تجاوزات کے خاتمے کیلئے۔جاری ہے۔

خصوصی ڈیوٹی لگائی گئی۔ سب انسپکٹر ریاض 26جنوری 1981میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہوے اور 8ستمبر 2016سے کاہنہ تھانہ میں تعینات تھے ان سے ان کے پانچ بچے جن میں دو بیٹے اور 3بیٹیا ںہیں اور کاہنہ کے علاقہ سرائچ گاوں کے رہنے والے تھے جبکہ اے ایس آئی فیاض 17اکتوبر 1989کو بطور کانسٹیبل بھرتی ہوے اور 13نومبر 2016سے کاہنہ تھانہ میں تعینات تھے ان کے دو بچے تھے جن میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے اور یہ شاہ پور صدر کے رہنے والے تھے۔خود کش دھماکے میں تباہ ہونے والی کار شہید اے ایس آئی فیاض کی تھی۔جاری ہے۔

......
loading...

کار نمبر ایل آر بی9308پر کاہنہ تھانے میں تعینات اسسٹنٹ سب انسپکٹر فیاض موقع پر پہنچے تھے کار ان کے بھائی امتیاز کے نام ہے جو کہ گوجرانوالہ کا رہائشی ہے دھماکے کے بعد ماڈل ٹائون کچہری میں خوف وہراس پھیل گیا۔ عدالتوں میں آنے والے سائلین نے بھگدڑ مچ گئی جس کے بعد ماڈل ٹائون کچہری کو فوری طور پر خالی کروا لیا گیا۔ عدالتوں کے قریب اور کچہری کے باہر کھڑی موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کو وہاں سے فوری ہٹا دیا گیا۔