حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ وہ کسی ائیرپورٹ پر فلائٹ کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ ایک نوجوان سامنے سے گزرا۔ وہ شراب پی رہا تھا۔ ایک مرتبہ تو وہ سامنے سے گزر گیا۔ تھوڑی سی دور جا کر وہ پھر لوٹا اور آ کر مجھ سے ہیلو ہائے کرنے کے بعد کہنے لگا۔میں آپ جیسا بننا چاہتا ہوں، I want to be the you ، جب میں نے اسے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں شراب کی بوتل بھی ہے تو میں سمجھا کہ اس کویہ پگڑی اور لباس اچھا لگا ہو گا۔ ہم سے جب

حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ وہ کسی ائیرپورٹ پر فلائٹ کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ ایک نوجوان سامنے سے گزرا۔ وہ شراب پی رہا تھا۔ ایک مرتبہ تو وہ سامنے سے گزر گیا۔ تھوڑی سی دور جا کر وہ پھر لوٹا اور آ کر مجھ سے ہیلو ہائے کرنے کے بعد کہنے لگا۔میں آپ جیسا بننا چاہتا ہوں، I want to be the you ، جب میں نے اسے دیکھا۔جاری ہے۔

کہ اس کے ہاتھ میں شراب کی بوتل بھی ہے تو میں سمجھا کہ اس کویہ پگڑی اور لباس اچھا لگا ہو گا۔ ہم سے جبباہر ملک میں لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ نے یہ لباس کیوں پہنا ہوا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ’’کیوٹ‘‘ لباس ہے۔ ان کافروں کو ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ سنت ہے کیونکہ کیا پتہ کہ وہ آگے سے کیا بکواس کر دیں۔ اور کیوٹ والا ایسا لفظ ہے کہ جب ہم ان کو جواب میں کہتے ہیں تو وہ آگے بول ہی نہیں سکتے۔ خیر جب اس نے کہا کہ میں آپ جیسا بننا چاہتا ہوں تو میں نے اس سے کہا، کیا آپ یہ پگڑی اور سفید لباس پسند کرتے ہیں؟ وہ کہنے لگا، نہیں، میں آپ کی طرح اس لیے بننا چاہتا ہوں کہ مجھے آپ کے چہرے پر نور نظر آیا ہے۔جب اس نے یہ الفاظ کہے تو مجھے فوراً احساس ہوا کہ کیا پتہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا۔اے بھائی! آپ مجھ سے بھی بہترین بن سکتے ہیں، وہ کہنے لگا: کیا سچ مچ ایسا ہی ہے؟۔جاری ہے۔

......
loading...

وہ کہنے لگا، ٹھیک ہے میں ابھی آ رہا ہوں۔وہ یہ کہہ کر سامنے واش روم میں چلا گیا۔ اس نے میرے دیکھتے ہی شراب کی بوتل پھینکی اور واش بیسن پر کلی کرکے چہرہ دھویا۔ وہ تازہ دم ہو کر دوبارہ میرے ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ وہ کہنے لگا، کیا میں آپ کو اپنا تعارف کراؤں؟ میں نے کہا، جی ہاں کرائیں۔اب اس نے اپنا تعارف کرایا کہ میرا یہ نام ہے اور میں نے ٹوکیو (جاپان) کی یونیورسٹی سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنسز کیا ہوا ہے اور میں اس وقت فلاں بڑی کمپنی کے اندر منیجر ہوں۔اس نے پھر وہی بات دہرائی کہ (میں آپ جیسا بننا چاہتا ہوں)۔میں نے بھی کہا، آپ تو مجھ سے بھی بہترین بن سکتے ہیں، وہ کہنے لگا یہ کیسے ممکن ہے جب کہ میں نوجوان ہوں۔ میں نے کہا، تو کیا ہوا نوجوان ہی تو بن سکتے ہیں۔وہ کہنے لگا نہیں، میں آپ کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ میری شخصیت کو دیکھ رہے ہیں کہ میں کتنا خوبصورت ہوں، میرا عہدہ اور تنخواہ بھی آپ کے سامنے ہے مجھے اس ملک میں ہر دن کہیں نہ کہیں سےگناہ کی دعوت ملتی ہے۔جاری ہے۔

اور میں ان کا مہمان ہوتا ہوں۔ آج ادھر عیاشی کر رہا ہوتا ہوں تو کل ادھر، میرے گاہک نت نئے ہوتے ہیں، جب معاملہ یہاں تک پہنچ چکا تو مجھے بتائیں کہ میں گناہ سے کیسے بچ سکتا ہوں۔ میں نے کہا بھئی! اگر آپ کے لیے گناہوں سے بچنا مشکل ہے تو اللہ تعالیٰ کے لیے تو آپ کو گناہوں سے بچا دینا آسان ہے۔وہ کہنے لگا، ہاں یہ تو ہے۔۔۔ میں نے کہا، ہم نے گناہوں سے بچنے کے لیے اپنے بڑوں سے ایک نسخہسیکھا ہوا ہے، میں آپ کو وہ سکھا دیتا ہوں پھر اس کی برکت خود دیکھنا۔وہ کہنے لگا، جی بتائیں۔۔۔ میں نے اسی جگہ پر بیٹھے ہوئے؟ اس آدمی کو بیعت کے کلمات پڑھائے اور اس کو مراقبہ کرنے کا طریقہ بتایا۔ اس نے کہیں اور جانا تھا اور میں نے کہیں اور۔ البتہ ہم نے ایڈریس ایکسچینج کر لیا۔اللہ کی شان کہ تین ماہ کے بعد اس نوجوان نے انگلش میں خط لکھا۔۔جاری ہے۔

اس خط کو میں نے محفوظ کیا ہوا ہے۔ اس نے اس خط میں دو باتیںلکھیں:پہلی بات یہ لکھی کہ ’’میں پانچ وقت کی نماز تو پڑھتا ہی ہوں، کبھی کبھی مجھے تہجد کی نماز بھی مل جاتی ہے۔دوسری بات یہ لکھی کہ اس بات پر حیران ہوں کہ میں گناہوں کے سمندر میں رہتے ہوئے گناہوں سے بچا ہوا کیسے ہوں؟ میں نے اس کو جواب میں لکھا کہ ہمارے بڑوں کی دعائیں ہمارے گرد پہرہ دیا کرتی ہیں۔دور بیٹھا کوئی تو دعائیں دیتا ہے۔۔۔میں ڈوبتا ہوں سمندر اچھال دیتا ہے