ماہواری، حیض ، کے درد بندش رک رک کر آنا اور تمام مسائل کے علاج کا ایک مفید اور آسان تریں نسخہ جانیں

حیض (یا ماہواری) کسی خاتون کے جسم میں چکر سے متعلق ہارمونی تبدیلیوں کی وجہ سے لگاتار خون بہنے کو کہتے ہیںجب بچی پیدا ہوتی ہے، تو اس کی بیضہ دانیوں میں پہلے ہی سے ملینوں ناپختہ کار بیضے ہوتے ہیں۔ بلوغت کے وقت، مہینے میں ایک بار ان میں سے دسیوں ہارمونی ہیجان کے تحت بڑھنا شروع کردیں گے۔ عام طور پر، بیضہ دانی میں صرف ایک بیضہ پختگی کو پہنچتا ہے اور وہ ہر چکر میں رحم مادر میں چلا جاتا ہے (جسے اخراج بیضہ کہا جاتا ہے)اسی دوران، حمل کی تیاری کے لیے رحم مادر زیادہ موٹا ہوجاتا ہے۔ اگر بیضہ زرخیز نہیں ہے، تو یہ حیض کے خون کے طور پر پیٹ کے اضافی ٹشو استر کے ساتھ اندام نہانی سے باہر نکل جائے گا۔ پھر، حیض کا دوسرا چکر دوبارہ شروع ہوتا ہے۔جاری ہے ۔


لڑکی کو کس عمر میں ماہوری آنے لگتی ہے؟ کس عمر میں ماہواری بند ہوتی ہے؟اکثر لڑکیوں کو تقریبا 11 – 12 سال کی عمر میں ماہواری آنی شروع ہوتی ہے۔ اکثر خواتین کے لیے، قدرتی طور پر 45 – 55 سال کی عمر کے درمیان حیض آنا بند ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں، ماہواری مستقل طور پر بند ہوجاتی ہے (سن یاس) اور خواتین اب مزید بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیںکیا یہ ضروری ہے کہ مجھے ہر مہینہ ماہواری آ ہی جائے؟نہیں، ہر خاتون کو ہر مہینہ ماہواری نہیں آتی ہے۔ کسی بھی خاتون کا چکر اس کی کیفیت کے اعتبار سے مختلف ہوسکتا ہےحیض کا چکر 21 – 35 دنوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ چکر کی طوالت کی صراحت ماہواری کے پہلے دن سے لے کر اگلی ماہواری کے پہلے دن کے درمیان کے دنوں کی تعداد کے طور پر کی جاتی ہےمثلا: پچھلی ماہواری کا پہلا دن: 1 اکتوبر موجودہ ماہواری کا پہلا دن: 29 اکتوبر چکر کی طوالت: 28 دنجنسی طور پر سرگرم کسی بھی خاتون میں حمل کے امکان پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ کو ماہواری نہیں آئی ہے، تو براہ کرم اپنی نگہداشت صحت کے فراہم کنندگان سے صلاح لیں۔۔جاری ہے ۔

ان لڑکیوں میں، جن کے حیض کی شروعات ہوئی ہے اور سن یاس کو پہنچنے والی خواتین میں بے ضابطہ ماہواریاں آسکتی ہیںمخصوص کیفیات ہارمونی عدم توازن کے ساتھ وابستہ ہوسکتی ہیں، جو سلسلہ وار بے ضابطہ ماہواریوں کا سبب بنتی ہیں۔ ان میں شامل ہے:زیادہ وزن یا کم وزنکھانے کی بد نظمیاں (جیسے بھوک مرجانا)تھکا دینے والی ورزشتناؤمخصوص ادویات (جیسے مانع حمل انجکشن)منشیات کا غلط استعمالدودھ پلانادیرینہ امراض، ہارمونی گڑبڑیاں (جیسے کثیر تھیلیوں پر محیط و مشتمل بیضہ دانی کا سنڈروم، تھائی رائیڈ کی بیماری وغیرہ)ایسی کیفیات جو بچہ دانی کے عمل کو متاثر کرتی ہیںرحم مادر کے استر میں غیر طبعی حالت، پولپس، رحم کی گردن یا اندام نہانی کے انفیکشن کی وجہ سے، یا رحم کی گردن کے کینسر وغیرہ کی وجہ سے ماہواریوں کے درمیان اندام نہانی سے خون بہہ سکتا ہے۔ اس پر بسا اوقات ‘بے ضابطہ ماہواری’ کا شبہ ہوسکتا ہےکیا مجھے بھاری ماہواری ہوئی ہے؟بھاری ماہواریوں کا مطلب ہے حیض کے خون بہنے کی شدت یا طوالت میں اضافہآپ کو بھاری ماہواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر:آپ کی ماہواری 7 دنوں سے زیادہ جاری رہتی ہے (اکثر خواتین کی ماہواری 2 – 7 دنوں تک جاری رہتی ہے)۔جاری ہے ۔


آپ کو ہر 1 – 2 گھنٹے میں دیرپا اور بہت زیادہ جذب کرنے والے پیڈز کو تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہےآپ کے جسم سے خون کے بڑے بڑے لوتھڑے نکل رہے ہیںآپ کے جسم سے سیال نکل رہے ہیں (یعنی اچانک بڑی مقدار میں خون نکلنا جو آپ کے زیر جامہ اور کپڑوں میں جذب ہوجاتا ہے)آپ کو پیڈ بدلنے کے لیے رات میں بار بار جاگنے کی ضرورت پڑتی ہےپیڈ / پھاہا استعمال کرنے کے باجود، سونے کے دوران آپ کی بیڈ شیٹ پر خون لگ جاتا ہےآپ کی بھاری ماہواری سے آپ کے کام، خاندانی زندگی اور معاشرتی زندگی پر اثر پڑ رہا ہے
آپ کو اپنی ماہواری کے دوران اور اس کے بعد چکر، سانس پھولنے اور تھکن کا احساس ہوتا ہے۔جاری ہے ۔


ماہواری کے درد کیا ہیں؟ماہواری کا درد اکثر ماہواری آنے سے ٹھیک پہلے یا اس کے آغاز پر شروع ہوتا ہے۔ عام طور پر نچلے پیٹ میں ہلکے تا شدید درد کا احساس ہوتا ہےبھاری خون آنے کے وقت عام طور پر درد زیادہ ہوتا ہےدرد پیٹ کی گڑبڑی کے ساتھ وابستہ ہوسکتا ہے جیسے قیئ یا پتلا پاخانہ کرناماہواری کے درد 2 طرح کے ہوتے ہیں: