فوج سے استعفیٰدے کر درجہ ولایت کو پہنچے والے انتہائی معروف ولی اللہ نے نواز شریف کے باتے میں کیا پیش گوئی کی تھی جواب پوری ہوئی کیا نواز شریف ایک بار پھر وزیراعظم بن سکیں گے حیرت انگیزانکشافات

کچھ پرانی تصاویر کے مطابقایک معروف صوفی بزرگ جناب محترمحضرت ابو انیس محمد برکت علیلدھیانویؒ ۔ قدس سرہ العزیزآپ نے میاں صاحب کے لیے دعا فرماتے ہوئے کہا تھا“جائو تمھیں سرداری سونپی”تم تین بار اقتدار میں آؤ گے اور صوفی صاحب کا کہنا درست ثابت ہوا ، نواز شریف تین بار اقتدار میں آئے ۔پیش گوئی کے حوالے سے دیکھا جائےٌ۔جاری ہے۔

توایسا لگتا ہے کہ نواز شریف آئندہ سیاست میں نہیںا ٓسکیں گے ۔ 3 بار منتخب ہو چکے ہیں.واضح رہےکہ صوفی صاحبحضرت ابو انیس محمد برکت علیلدھیانوی ۔ قدس سرہ العزیزؒ1911ء کو موضع برہمی ضلع لدھیانہ (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت میاں نگاہی بخش تھا۔ آپؒ نے اپنے وقت کے معروف بزرگ شاہِ ولایتحضرت شیخ سید امیر الحسن سہارنپوریؒکے دستِ مبارک پر بیعت کی۔آپؒ نے19 اپریل 1930ء کو فوج میں شمولیت اختیار کر لی. 1923ءمیں آپؒ انڈین ملٹری اکیڈمی کےوائی کیڈٹ منتخب ہوگئے۔کور کمانڈر جنرل وِچ ،آپؒ کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے اور وہ آپؒ کی تقلید میں رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں کچھ نہ کھاتے پیتے تھے۔ فوجی ملازمت کے دوران آپؒ اپنے فرائض سے فارغ ہو کر اکثر و بیشتر کلیر شریف میںحضرت مخدوم علاو الدینعلی احمد صابرؒ ۔ کلیر ( انڈیا )کے مزارِ پُر انوار پر حاضری دیتے اور وہاں ساری ساری رات مجاہدہ میں گزار دیتے۔ جوں جوں آپؒ کا سینہ صابری مے سے لبریز ہوتا گیا۔ آپؒ کی حالت روز بروز بدلتی گئی۔بالآخر آپؒ نے 22 جون 1945ء کو فوج سے استعفیٰ دے دیا۔اس وقت جنگ عظیم جاری تھیٌ۔جاری ہے۔

اور اس نازک وقت میں آرمی سے استعفیٰ ، برٹش حکومت سے غداری کے مترادف تھا، جس کی سزا کالا پانی، عمر قید یا پھانسی تھی۔ابتداءمیں برٹش حکومت کی طرف سے آپ کو فیصلہ تبدیل کرنے کے لئے طرح طرح کے لالچ دئیے گئے، لیکن جب آپؒ ان کے دام میں نہ آئے تو آپؒ کو زہر دے دیا گیا۔خدا کی قدرت کہ آپؒ کو ایک قے آئی ،جس سے زہر خارج ہوگیا۔بعد ازاں آپؒ کو کورٹ مارشل میں بھی باعزت بری کر دیا گیا۔ فوجی وردی اتارنے کے بعد آپؒ نے عہد کیا کہباقی زندگی ان کاموں میں صرف کروں گا۔-1 ذکر الله .2 دینِ اسلام کی دعوت و تبلیغ3 اللہ کی مخلوق کی بے لوث خدمتقیامِ پاکستان کے بعد آپؒ نے کچھ عرصہ گجرات میں قیام کرنے کے بعد حافظ آباد کے قصبہ سکھیکی میں کیمپ لگایا اور یہاں ایک سال تک مقیم رہے۔بعد ازاں آپؒ نے سالار والا ( دارالاحسان ) کو اپنی دینی، تبلیغی و رفاعی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جو دنیائے اسلاممیں دارلاحسان کے نام سے مشہور ہوگیا۔اس مقام پر آپؒ نے ایک خوبصورت مسجد، دو چھوٹی مساجد ٬ ایک دینی درسگاہ۔ قرآن کریم محل،مینار بیاد اصحاب بدرؓ اور ایک بہت بڑا فری آئی ہسپتالقائم کیا۔ جہاں لاکھوں مریضوں کو نہ صرف علاج معالجہ کی مفت سہولتیں فراہم کی جاتیں، بلکہ ان کے خورد و نوش کا بھی اہتمام کیا جاتا اور اس کے معاوضہ میں ایک پیسہ تک وصول نہ کیا جاتا۔ٌ۔جاری ہے۔

......
loading...


اس طرح دارالاحسان میں روحانی علاج کے ساتھ ساتھ جسمانی علاج بھی کیا جاتا۔ 1984ء میں باواجی سرکارفیصل آباد کے قریب دسوہہ سمندری روڈ ، نزد دالووال اڈا.پر تشریف لے گئے۔اس مقام کو ( سمندری روڈ . فیصل آباد )۔المستفیض کیمپ دارالاحسانسے منسوب کیا گیا۔یہاں بھی آپؒ نے ایک خوبصورت قرآن کریم محل ٬دارلشفاء فری حکمت خانہ ٬ مینار بیاد اصحاب صفہاور ایک بہت بڑا فری آئی ہسپتال قائم کیا۔ فری آئی کیمپ میں بچوں ، جوان ، بوڑھے ،لاکھوں مریض شفاءیاب ہو چکے ہیں.یہ آئی ہسپتال ہر 6 ماہ بعد لگایا جاتا ہے یعنی مارچ اور اکتوبر کا پورا مہینہ جاری رہتا ہے .اس آئی کیمپ کا ایڈریس یہ ہےکمیپ دارلاحسان دسوہہ ٬نزد دالووال اڈا. سمندری روڈ .فیصل آباد . پنجاب . پاکستانحضرت صوفی جنابابو انیس محمد برکت علی لدھیانویؒ ایک انقلاب آفریں شخصیت تھے، جنہوں نے خانقاہی نظام کو ایک نئی جہت دے کر اسے ترو تازگی بخشی۔ آپؒ نے عام سجادہ نشینوں کے برعکس کچی جھونپڑیوں میں ڈیرہ جما کر نہ صرفلاکھوں انسانوں کی کایا پلٹ ڈالی،ٌ۔جاری ہے۔


بلکہ عمل و کردار کا ایسا انمول عملی نمونہ پیش کیا،جس کے تذکرے رہتی دنیا تک ہوتے رہیں گے۔ انشاءالله العزیزوقت کے بڑے بڑے امراء، روسا، شہنشاہ اور وزراء آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے،لیکن کسی کو آپؒ کے آگے دم مارنے کی ہمت نہ ہوتی۔ بڑے بڑے حکمران ، وزراء لاکھوں روپے جیبوں میں لے کر آپؒ کے حضور پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوتے، لیکن آپؒ بے نیازی سے انہیں جواب دیتے ہوئے ایک پائی بھی قبول نہ کی اور فرماتے کہ جس خدائے بزرگ و برتر کی میں ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہوں۔
میرے مالک نے اس نظام کو چلانے کا بندوبست کر رکھا ہے۔ امریکہ کے ایک رفاعی ادارہ نے 1992ءمیں آپؒ کو 5 ارب روپے سے زیادہ رقم پیش کش کی، مگر آپؒ نے اسے بھی قبول نہ کیا۔ حضرت صوفی ابو انیس محمد برکت علی لدھیانویؒ ۔ قدس سرہ العزیز
نے عمر بھر اس اصول پر مداومت فرمائی کہ آج کا مال آج ہی ختم ہو۔ کل کی روزی کل ملے گی۔ نیز فرماتے کہ ہماری روزی پرندوں کی طرح ہے جو صبح گھونسلوں سے بھوکے اٹھتے ہیں، لیکن شام کو سیر ہو کر لوٹا کرتے ہیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔