سعودی معاشرے کا جنسی شرمناک پہلو نے نقاب

سعودی عرب کو اسلامی دنیا میں اہم مقام حاصل ہے لیکن سعودی معاشرے کا شرمناک پہلو ایک سروے میں سامنے آگیا، یہ سروے گھریلو ملازمین کے بارے میں کیاگیا۔ کنگ سعود یونیورسٹی کے طلباءکی جانب سے کئے گئے۔جاری ہے۔

سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 58 فیصد خواتین ملازمائیں، کسی نہ کسی طریقے سے نامعلوم لوگوں کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرلیتی ہیں، اسی طرح 34 فیصد خواتین ملازمین کا گھر کے مردوں کے ساتھ جنسی تعلق موجود ہوتا ہے جبکہ 4 فیصد خواتین گھر کے مرد ملازمین کے ساتھ تعلق استوار کرلیتی ہیں۔ تحقیقی سروے کرنے والے تحقیق کار فہد الغامدی کا کہنا ہے کہ سروے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ سعودی گھروں میں کام کرنے والی خواتین ملازمین کس طرح کی زندگی گزار رہی ہیں۔۔جاری ہے۔

......
loading...

ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق بہت ہی خوفناک ہے اور اس میں کئی باتیں بے نقاب ہوئی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواتین ملازمین کی شہریت نہیں بتائی گئی تاکہ مسائل پیدا نہ ہوں۔

 مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔