اے لیول کی طالبہ پاکستانی لڑکی کی خودکشی کی کوشش یہ انتہائی قدم اُٹھانے پر مجبور کیوں ہوگئی جان کر تمام پاکستانی والدین شرم سے پانی پانی ہوجائیں گے کیونکہ

خودنمائی کی لت نے ہماری زندگیاں اجیرن کر دی ہیں۔صبر کی دولت ہم نے گنوا دی ہے اور ہر چیز میں مقابلہ بازی پر اترے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ بچوں کے امتحان میں حاصل کردہ نمبروں پر بھی۔ ہم نے اپنی زندگیاں تو وبال بنا رکھی تھیں لیکن والدین کی یہ مقابلہ بازی بچوں سے زندگی کی امید چھینتی نظر آ رہی ہے۔۔جاری ہے۔

ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کی رپورٹ کے مطابق جنید اکرم نامی ایک شخص نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرکراچی کی رہائشی ایک ایسی ہی لڑکی کی کہانی بیان کی ہے جس پر ماں باپ کا دباﺅ تھا کہ فلاں کی بیٹی سے زیادہ ’As‘ لینے ہیں۔بدقسمتی سے لڑکی اتنے Asنہ لے سکی اور دلبرداشتہ ہو کر اپنی کلائی کی نس کاٹ کر خودکشی کی کوشش کر ڈالی اور ہسپتال جا پہنچی ہے۔جنید اکرام نے لکھا ہے کہ ”ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔جاری ہے۔

کہ ہر کوئی چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈاکٹر، انجینئر یاوکیل نہیں بن سکتا۔ ہم سب میں مختلف نوعیت کی صلاحیتیں ہوتی ہیں اورہمیں انہی کے مطابق کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ والدین کو سمجھنا چاہیے کہ وہ بچے پر بہتر امتحانی نتائج کے لیے اتنا دباﺅبھی مت ڈالیں کہ وہ اس لڑکی کی طرح انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جائے۔“

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news