برما میں آخر ایسا کیا ہوا تھا کہ مسلمانوں پر زمین تنگ ہوگئی فساد کیسے شروع ہوا وجہ کیا بنی اسرائیل کا کیا کردار ہے مکمل تفصیلات

برطانیہ سے آزاد ہونے سے لے کر اب تک لسانی اور مذہبی اعتبار سے مسلسل داخلی خانہ جنگی کا شکار رہنے والے ملک برما کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کا ایک باشندہ یو تھانٹ (U Thant) دس سال تک اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل رہا اور برما ہی کی ایک خاتون Aung San Kyi کو 1991ء میں نوبل امن انعام کا مستحق بھی قرار دیا گیا۔گزشتہ 1962ءسے 2011ءتک کے پچاس سالہ عرصے کے دوران برما مسلسل فوجی حکومت کے ماتحت رہا۔ اگرچہ کے عام انتخابات کے بعد برما سے فوجی اقتدار کا سورج غروب ہوا چاہتا ہے لیکن درحقیقت پسِ پردہ ابھی بھی فوجی حکمتِ عملی ہی چل رہی ہے۔جاری ہے ۔

۔برما کی حکومت کے ہاتھوں بدھ بھکشو اور مگھوں کے استعمال کی باقاعدہ داستان کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ برما میں مذہبی فسادات کی تاریخ کافی پرانی ہے، تاجِ برطانیہ کے دور میں بھی یہاں پر فسادات عروج پر رہے، برما کے مسلمانوں نے 1945ئ میں اپنے تحفظ کیلئے (بی ایم سی) برما مسلم کانگریس کے نام سے ایک سیاسی تنظیم بنائی۔ اسکے پہلے سربراہ “یو رزاق” تھے، وہ برما کی آئینی کونسل کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ یورزاق کو بعد ازاں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور بی ایم سی پر پابندی لگا دی گئی۔جب 1962ئ میں جنرل Ne Win برمی قومیت کا نعرہ لگا کر حکمران بنا تو اس نے برمی فوج سے مسلمانوں کو نکال دیا اور اسی دور میں مسلمانوں کو “گائے کش” کے علاوہ “کالے” اور “غیر ملکی” کے خطابات سے بھی نوازا گیا۔ بعد ازاں جب افغانستان میں طالبان برسرِ اقتدار آئے تو انہوں نے عالمِ اسلام کی صورتحال کا جائزہ لئے بغیر دیگر اقلیتوں پر دھونس جمانا شروع کر دیا۔۔جاری ہے ۔

......
loading...

خصوصاً انہوں نے جب بدھ مت کے آثار مٹانے اور گرانے شروع کر دیئے تو اس کا براہِ راست اثر برما کے مسلمانوں پر پڑا۔بدھ مت کے پیروکاروں نے طالبان کے تشدد کا تشدد کے ساتھ جواب دینے کا فیصلہ کیا اور برمی مسلمانوں کی تنظیم”البرما مسلم یونین” کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی لگوا دی، اس کے علاوہ مسلمانوں کی جامع مساجد کو شہید کرنے کے مطالبے نے بھی زور پکڑا، قرآن مجید کی بے حرمتی کے متعدد واقعات ہوئے اور مسلمانوں کے کاروباری مراکز تباہ کئے گئے۔ برما میں اگرچہ مذہبی فسادات کا سابقہ قدیم تھا، لیکن طالبان کی شدت پسندی نے غیرمسلم قوتوں کو مسلمانوں کے خلاف متحد ہونے کا جواز فراہم کیا اور اس کے بعد حکومت نے بھی کھل کر مسلم کش عناصر کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔۔جاری ہے ۔

برما کی حکومت نے جب طالبان کے تیور دیکھے تو انہیں بھی اسلام ایک خطرے کی صورت میں دکھائی دیا، چنانچہ جس طرح افغانستان میں طالبان اقلیتوں کے خلاف من پسند کارروائیاں کرتے رہے اسی طرح برما میں مسلمانوں کے خلاف، غیر مسلم بھی پرتشدد کارروائیاں انجام دیتے رہے۔ طالبان نواز حلقے یوں تو آپ کو برما کے بارے میں بہت کچھ بتا دیں گے، لیکن شاید وہ آپ کو یہ کبھی بھی نہ بتائیں کہ برما کے بسنے والے مسلمانوں کے گھر بار اجاڑنے میں “طالبان” کی حماقتوں کا کتنا ہاتھ ہے۔ طالبان کے مظالم کے منظرِ عام پر آنے کے بعد برما کی حکومت “غیرمسلموں کے ساتھ ملی بھگت کرکے مسلمانوں کو مرواو اور حکومت کرو” کی پالیسی پر آج تک عمل پیرا ہے۔۔جاری ہے ۔


برما میں حالیہ فسادات کی کڑیاں اپریل کے ان واقعات سے جا کر ملتی ہیں کہ جب بدھ بھکشوں کی دو لڑکیوں نے اسلام قبول کیا اور بھکشوں نے اس کا برا منایا۔ اس کے بعد انہوں نے 2 جون 2012ءکو مسلمانوں کی ایک بس پر حملہ کرکے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ یہ بس برما کے دارالحکومت رنگون سے ارکان کے ضلع ناونگ کوک کی طرف جا رہی تھی۔ اس حملے میں انہوں نے بڑی بے رحمی سے خنجروں، چھریوں اور تلواروں سے مسافر مسلمانوں کا قتل عام کیا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔