یہ دو ۸۰ سالہ پاکستانی حجاج دراصل کون ہیں سعودی عرب پہنچے تو جان کر سعودیوں کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئیں

حج کی سعادت حاصل کرنے کے لئے یوں تو لاکھوں حجاج سعودی عرب پہنچے ہیں، لیکن اس بار پاکستان سے دو ایسے منفرد حجاج فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے گئے ہیں کہ جو کوئی انہیں دیکھتا ہے بے اختیار سبحان اللہ پکار اٹھتا ہے۔ زائرین تو انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ہی لیکن سعودی میڈیا بھی اس معمر جوڑی کا دیوانہ نظر آتا ہے۔۔جاری ہے ۔


سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ دو ضعیف العمر دوست ہیں، جن کے نام اعجاز احمد اور احمد راج ہیں اور دونوں کی عمر 80 سال سے زائد ہے۔ ان دونوں نے کئی دہائیاں قبل ایک دوسرے کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ جب بھی انہیں موقع ملا تو وہ اکٹھے حج کیلئے جائیں گے۔ وہ اپنے اس خواب کو پورا کرنے کیلئے پچیس سال سے رقم جمع ہونے کا انتظار کر رہے تھے، اور بالآخر اس سال وہ مبارک موقع آ گیا کہ دونوں اپنا دیرینہ خواب پورا کرنے کے لئے اکٹھے سرزمین حجاز جا پہنچے۔ احمد راج نابینا ہیں لیکن ان کے مخلص دوست اعجاز احمد نے حج کے تمام مراحل کے دوران اپنے دوست کی ہر ممکن رہنمائی کی اور ان کا مکمل سہارا بنے رہے۔۔جاری ہے ۔

......
loading...

انہوں نے اپنے دوست کو کسی بھی موقع پر مشکل پیش نہیں آنے دی۔ اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 25 سال سے حج کی سعادت اکٹھے حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے اور بالآخر اس سال ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ”میرے پاس کافی عرصہ پہلے اتنی رقم جمع ہوگئی تھی کہ میں حج کرسکتا تھا لیکن میرے دوست کے پاس رقم نہیں تھی۔ ہم کئی سال تک منتظر رہے تاکہ ہمارے پاس اتنے پیسے جمع ہوجائیں کہ ہم دونوں اکٹھے حج کیلئے جاسکیں۔ اس سال ہمارے پاس اتنی رقم جمع ہوگئی تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ ہم دونوں بچپن کے دوست ہیں اور ساری عمر اکٹھے رہے ہیں، اس لئے ہم نے حج بھی اکٹھے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ہمیں یہ خواب پورا کرنے کیلئے 25 سال کا انتظار تو کرنا پڑا لیکن اب ہم اتنے خوش ہیں کہ اس خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے۔“۔جاری ہے ۔


اسی طرح دوسرے دوست احمد راج کا کہنا تھا کہ ”میں نابینا ہونے کے بعد اپنے دوست پر ہی انحصار کرتا ہوں۔ میں نے اپنے خیمے کی جانب جانا ہو، ٹوائلٹ جانا ہو یا کوئی بھی اور کام، وہ ہر وقت میری مدد کیلئے موجود ہوتا ہے۔ میری ہی وجہ سے اس نے اتنا طویل انتظار کیا، ورنہ وہ اکیلا حج کیلئے آسکتا تھا۔ وہی میری بصارت ہے جس کی وجہ سے میں اپنے کام کر سکتا ہوں اور وہی میری لاٹھی ہے جس کے ذریعے میں اپنا راستہ ڈھونڈتا ہوں۔ میں دنیا میں اس سے زیادہ بھروسہ کسی پر بھی نہیں کرتا۔ میں نے حج کے دوران خاص طور پر اس کیلئے دعا کی ہے اور جب تک زندہ ہوں اپنے دوست کے لئے دعا کرتارہوں گا۔“

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔