خدا باپ اور بیٹی

ایک بار ایک بدو کعبہ کے غلاف کو پکڑ کر کہہ رہا تھا یا اللہ مجھے بخش دے، یا اللہ مجھے بخش دے ورنہ دیکھ لے تجھے بخشنا پڑے گا۔ اسی طرح مدینہ کا واقعہ ہے کہ ایک بدو نہایت متفکر ہو کر نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور پوچھا یا رسول اللہ روزِ محشر حساب کون لے گا۔۔جاری ہے ۔

اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی خود لیں گے تو وہ بدو مسکرایا اور خوشی خوشی جانے لگا۔ نبی کریم ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا آپ کیا سمجھے، اور آپ کے خوش ہونے کی وجہ کیا ہے تو اس بدو نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اکثر یہی دیکھا ہے کہ جب قبیلہ کا سردار معاملہ کرے تو ہمیشہ بندے کی توقع سے کہین زیادہ احسان ہی کا فیصلہ کرتا ہے اور جب حساب لینے والا اللہ تعالی خود ہوں تو احسان کی انتہا کیا ہو گی(دونوں مفہوم ہیں)۔ ان دونوں واقعات پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا توحید انہیں سمجھ آئی ہے۔
باپ اور بیٹی کا رشتہ دنیا میں سب سے نایاب رشتہ ہے۔ اسے لفظوں سے کسی طور بیان نہیں کیا جا سکتا۔۔جاری ہے ۔

باپ اولاد کا کریڈٹ کارڈ ہوتا ہے۔ آگے سے آگے، پہلے سے پہلے ہر ضرورت کا انتظام حسبِ استطاعت، بڑھ چڑھ کر ، کر کے رکھتا ہے۔ماں بیٹی کی خواہ کتنی ہی جوشِ قدح سے ہنڈیا ابلے مگر باپ اور بیٹی میں ایسی نوبت شاید ہی کبھی آئے، یا کبھی آتی ہی نہیں۔باپ جہیز بھی دیتا ہے، وراثت میں حصہ بھی الگ رکھتا ہے اور ساری عمر رواج کمال محبت سے نبھاتا ہے صرف اسی پر اکتفا نہیں ساری عمر جب تک وہ زندہ ہے یا بااثر رہے بیٹیوں کو دیتا ہی رہتا ہے۔لیکن اس انتہائی محبت کے باوجود جب عزت کا سوال آئے تو دہلیز عبور کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ بالکل چڑیوں کی طرح کہ جو بچہ ایک بار گھونسلے سے گر جائے تو اسے خواہ کوئی کتنا ہی ترس کھا کر دوبارہ گھونسلے میں رکھے۔جاری ہے ۔

اسے پھر نیچے گرادیا جاتا ہے حتی کہ وہ چیونٹیوں کی خوراک بن جاتا ہے ۔ یا پھر بلی کے بچے کی طرح کہ بلی اپنے بچوں کو انسانی دسترس سے بچا کر رکھتی ہے اور وہ اپنے بچوں کو صرف ایک ہی بات بار بار کہتی رہتی ہے کہ میرے علاوہ کسی اور کو خود پر رسائی نہ دینا لیکن اگر کوئی بچہ خواہ کتنا ہی مجبور ہوکر ایک بار کسی آدمی کے چھونے سے متاثر ہوجائے تو بلی اسے پھر دودھ نہیں پلاتی آخرکار وہ بغیر دودھ کے مرجاتا ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news