یہ نوجوان لڑکا میانمار کے ظلم سے تنگ آکر اپنے ضعیف ماں باپ کو اس طرح اٹھا کر ہجرت کیلئے کتنے دن چلتا رہا اور کس ملک پہنچا جان کر آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آجائیں گے

برمی حکومت کے مظالم سے تنگ روہنگیا مسلمان جائے پناہ کی تلاش میں خلیج بنگال کے بے رحم تھپیڑوں کے رحم و کرم پر یا بنگلہ دیش کی جانب رواں دواں ہیںجبکہ سینکڑوں کی تعداد میں برما کے جنگلات میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ بنگلہ دیش پہنچنے والے ہر روہنگیا مسلمان کی کہانی دردناک ہے مگر اب ایک نوجوان نے ایسی داستان لکھ دی کہ تاریخ بھی اس نوجوان پر فخر کرے گی۔۔۔۔۔۔جاری ہے ۔

......
loading...

بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں کے کیمپ میں ایک برمی نوجوان پہنچا جس نے خصوصی ٹوکریاں بنا کر انہیں ترازو کی شکل میں تیار کیا اور ان ٹوکریوں میں اپنے بوڑھے والدین کو بٹھا کر ٹوکریاں دونوں کندھوں پر اٹھا لیں۔نوجوان اپنے والدین کو اٹھائے مسلسل سات دن چلتا رہا ، اس نوجوان نے رات دن اپنا سفر جاری رکھا اور جائے۔۔۔۔۔جاری ہے ۔

امن کی تلاش میں چلتا رہا،نوجوان اپنے سفر کے دوران برساتی نالوں سے گزرا، جنگلات میں بھی اس کا سفر جاری رہا جبکہ والدین کو کندھوں پر اٹھائے اس نوجوان نے سنگلاخ وادیوں کا سفر بھی کیا۔اس نوجوان کے سفر کو دھوپ روک سکی۔۔۔۔۔جاری ہے ۔

اور نہ ہی بارشیں اس کی منزل کو متزلزل کر سکیں۔نوجوان سات دنوں کے کٹھن سفر کے بعد اپنی منزل پر پہنچا جس کو دیکھ کر وہاں موجود ہر آنکھ اشکبار ہوگئی جبکہ بین الاقوامی میڈیا نے اس کے جذبے کو سلام پیش کیا ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔