چوری – بیوی اپنے شوہر سے مثالی محبت کرتی تھی پھر ان کے گھر سے ۴۰ لاکھ کا میکلس چوری ہو گیا پولیس کا سارا شک شوہر کی طرف جا رہا تھا اور بیوی ہر بارا سے بچا لیتی تھی آخر پولیس نے چور کوپکڑلیا ۔۔چور کون تھا ؟؟؟؟

لیفٹیننٹ ولیم ڈیکر شعبہ قتل کا سربراہ تھا۔ وہ طویل القامت تھا۔ اس کی آنکھیں اور بال بھورے تھے۔ اپنی تیس سالہ ملازمت کے دوران میں وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ دشواری اور کٹھن کیس عموماً ناشتے کی میز پر ہی سامنے آتے ہیں۔ چنانچہ جب وہ کافی کی دوسری پیالی حلق سے اتار رہا تھا تو آفس کی طرف سے فون آیا۔ایک کیپٹن نے بتایا کہ اکسٹھویں بورگس لین میں مسٹر ویلینڈ کے ہاں سے جواہرات کی چوری ہوگئی ہے۔ چوری کی واردات سے شعبہ قتل کا کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر ان دنوں لیفٹننٹ ڈیکر کے پاس کوئی کیس نہیں تھا لٰہذا اسے اطلاع دی گئی تھی۔ ڈیکر نے وہاں جانے کا فیصلہ کرلیا۔وہ مکان پکی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا تھا اور وکٹورین طرز کا تھا۔ اطلاعی گھنٹی بجانے پر ایللک ویلینڈ نے دروازہ کھولا ۔وہ تیس سالہ ،مناسب قامت کا آدمی تھا اور اس کی شخصیت میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔”معاف کرنا میری بے پروائی کہ وجہ سے تمہیں زحمت اٹھانی پڑی۔” وہ مسکرا کر خلیق لہجے میں بولا “ورنہ جولوگ اپنی چیزیں احتیاط سے سنبھال کر رکھتے ہیں ان کے ہاں چوری نہیں ہوتی۔”وہ ڈیکر کو ڈرائنگ روم میں لے گیا جہاں ایک سراغ رساں پہلے ہی سے موجود تھا۔ سراغ رساں کوئن نے ابتدائی تحقیق کرلی تھی۔ وہ ویلنیڈ وہاں سے چلا گیا توکوئن نے تخلیے میں کہا”مسٹر ویلنیڈ اور ان کی اہلیہ ہر ہفتے چھٹی کے روز اسکوفیلڈ جاتے ہیں۔ وہ دونوں اس پر متفق ہیں کہ جب کل سہ پہر کو گھرسے جارہے تھے (جاری ہے) ہ


جرم کی اس منصوبہ بندی کا قصہ جس میں کوئی سقم نہیں تھا(کوئی شھر یا قصبہ ایسا نہیں ہے جہاں چوری ڈکیتی اور قتل جیسی وارداتیں نہ ھوتی ھوں۔ ان کے گھر بھی ایک واردات ھو چکی تھی اور چور نہایت آسانی سے ایک قیمتی نیکلس چرا کر غائب ھو گیا تھا۔)تو وہ قیمتی نیکلس جس کا بیمہ چالیس ہزار ڈالر میں ہوا ہے، مسز ویلنیڈ کی الماری کی ایک دراز میں رکھا ہوا تھا۔ مسز ویلنیڈ کا خیال ہے کہ نیکلس زیوات کے لاکر میں رکھنے کی بجائے الماری میں رکھنا مناسب تھا۔ زیورات رکھنے کے لیے الماری میں ایک خاص خانہ ہے اور اس میں ایک ڈبا ہے لیکن وہ اسے استعمال نہیں کرتیں۔””مگر الماری کی دراز بھی محفوظ ثابت نہیں ہوئی؟” ڈیکر نے کہا۔ (جاری ہے) ہ


“یہی میںنے بھی کہا تھا۔” کوئن بولا ” بہر حال نصف شب کے قریب ملازمہ فلیسیا نے انہیں فون کیا اور نکلیس کی گم شدگی کی رپورٹ دی۔ پھر کہا کہ بہتر ہوگا کہ وہ واپس آجائیں معاملہ سنگین تھا لٰہذا وہ دونوں واپس آگئے۔ فلیسیا مہاجر ہے اور لیتھونیا سے آئی ہے۔ گھر والوں کا رویہ ا س کے ساتھ اچھا ہے، وہ ملازمہ کے بجائے دوستوں کی طرح رہ رہی ہے۔ وہ تعلیم یافتہ اور سمجھدار ہے۔””مگر فلیسیا کو کیا پڑی تھی کہ وہ نصف شب کے قریب اٹھی اور اس نے جاکر الماری کاجائزہ لیا اور پھر یہ دیکھ کر کہ نیکلس غائب ہے، اس کی گم شدگی کی اطلاع اپنے مالکان کو دی؟”ڈیکر نے کہا۔” اس کی ایک وجہ ہے کہ اس نے انگریزی سکھانے والے ایک اسکول میں داخلہ لے رکھا ہے تاکہ اس کی انگریزی بہتر ہوجائے۔ وہاں اسے ایک شخص جارج ملا وہ اس کا مکمل نام نہیں جانتی۔ بہر حال وہ گھرآگیا اور اس نے اصرار کیا کہ فلیسیا اس کے ساتھ فلم دیکھنے چلے۔ فلیسیا کی اس سے پہلے کبھی اس سے تنہائی میں ملاقات نہیں ہوئی تھی اور کوئی واقفیت بھی نہیں تھی لٰہذا اس نے جارج کے ساتھ جانے سے انکار کردیا پھر بطور اخلاق فلیسیا نے اسے کچھ پینے کو پیش کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ جارج نے ہاتھ کی صفائی دکھا کر شراب کے گلاس میں کچھ ملا دیا جس سے اس پر غنودگی کی سی کیفیت طاری ہوگئی ۔ جب اس کی آنکھ کھلی اور وہ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوسکی تو اس کے سر میں شدید درد ہورہا تھا اور کنپٹی کے قریب کوئی رگ پھڑک رہی تھی ۔”
“نیکلس کے بارے میں اسے کب معلوم ہوا؟” ڈیکر نے سوال کیا۔ (جاری ہے) ہ


“اسی وقت چونکہ گھر میں ساری چیزیں اس کی نگاہ کے سامنے گھوم رہی تھیں اس لیے اسے احساس ہوگیا کہ شراب میں کوئی چیز ملائی گئی تھی۔ اس مرحلے پر اس نے ضروری سمجھا کہ وہ گھر کی چیزوں کا جائزہ لے۔ تب اسے مسز ویلنیڈ کی الماری کھلی نظر آئی اور اس کی ایک دراز الٹی پڑی ملی۔ اس میں سے نیکلس غائب تھا۔ چونکہ اس نے اپنے مالکان کو فون کیا اور ۔۔۔۔۔” کوئن نے اپنے رائٹنگ پیڈ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا”وہ لوگ دوبجے رات کو واپس آئے۔ مسٹر ویلنیڈکو نیکلس کی گم شیدگی سے بہت صدمہ ہوا۔ فلیسیا کی طبیعت ویسے ہی خراب تھی۔ مسٹر ویلنیڈ بھی اس صدمے کو برداشت نہں کرسکے اور گھر سے کچھ کہے بغیر نکل گئے، اپنی کرسلر کار میں کچھ دیر بے مقصد ڈرائیونگ کرنے کے بعد ان کی طبیعت سنبھل گئی تو وہ چھ بجے صبح واپس آگئے۔ پھر سب نے ایک ساتھ ناشتا کیا۔ اس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔”(جاری ہے) ہ

“ہوں۔ ” ڈیکر نے سر کو اثباتی جنبش دی “تم نے اس شخص جارج کو تلاش کرنے یا اس کا پتا لگانے کی کوشش کی؟””جی ہاں، جناب میں انگلش لینگویج والے اسکول سے اس کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہا ہوں، لیکن میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ اسے نیکلس کے بارے میں کس نے بتایا ؟ یہ اطلاع کس نے دی کہ نیکلس کہاں ہے ؟ اس لیے کہ اس نے ٹھیک اسی جگہ ہاتھ ڈالا ہے جہاں کہ اسے ہونا چاہئے اس نے دوسری کسی قیمتی چیز پر ہاتھ نہیں ڈالا اور یہاں سے چلا گیا۔”ڈیکر نے پھر سر ہلایا۔ وہ کوئن کی اب تک کی تحقیق سے مطمئن تھا۔ جہاں تک جارج کا تعلق تھا تو جلد یا تاخیر سے اس کا سراغ لگ جانا تھا، لیکن اتنا اسے معلوم تھا کہ جب وہ اس سے نیکلس کے بارے میں استفسار کریں گے تو وہ صاف مکر جائے گا۔ اور یہ بھی کہے گا کہ اس نے ملازمہ کی شراب میں کوئی خراب آور چیز نہیں ملائی۔ بہر حال جب وہ ہاتھ آتا تو اس سے متعدد سوالات کیے جاسکتے تھے۔ اس سے پہلے ڈیکر ان دونوں خواتین سے ملاقات کرکے اس واردات کی تہ تک پہنچنا چاہتا تھا۔ (جاری ہے) ہ


تھوڑی دیر بعد ازا بیلا ویلنیڈ ڈرائنگ روم میں آگئی اور اس نے اخلاقا ڈیکر کو ایک کپ کافی پیش کی۔ وہ نیلی آنکھوں والی ایک حسین عورت تھی اور اس کی آنکھوں سے ذہانت جھلکتی تھی۔ گفتگو کے دوران جب وہ مسکرائی تو ڈیکر کو اس کے موتیوں جیسے دانتوں کی قطاریں نظر آئیں۔ مجموعی طور پر وہ ایک باوقار خاتون تھی۔گفتگو کے دوران فلیسیا ہی کافی لے کر آئی تھی ۔اس دوران میں ڈیکر نے اس کا مشاہدہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ نوجوان، دل کش اور موہنی صورت والی لڑکی تھی۔ جس کے بال اور آنکھیں سیاہ تھیں۔ ہر چند کہ وہ “آہنی پردے”کے پیچھے سے آئی تھی، لیکن اس کے انداز میں تمکنت اور خودداری تھی۔ وہ قابل رحم بننے کے بجائے محنت اور مشقت کرکے آگے بڑھنا چاہتی تھی۔ وہ بظاہر نرم خو لیکن اندر سے سخت لگتی تھی۔ (جاری ہے) ہ


یہ یقینا تمہارے لیے ایک تلخ تجربہ ہوگا؟” ڈیکر نے اس سے کافی کی پیالی لیتے ہوئے کہا۔”ہاں ۔لیتھونیا میں ایسے افسوس ناک واقعات پیش نہیں آتے۔” اس نے ایک گہرا سانس لے کر کہا پھر ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اس نے دوسرے ہی لمحے مڑ کر کہا”یہ کال تمہارے لیے ہے۔”اس فون کال کے ساتھ ہی حالت سنگین تر ہوگئے۔ ڈیکر کو شعبئہ قتل کی اطلاع دی گئی کہ دریا کی جانب والے مکان میں مقیم ایک شخص جارج میک کوسٹر کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔”جارج” ڈیکر نے پلکیں جھپکا کر دہرایا۔فلیسیا براہِ راست اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے فون کے ذریعے آنے والا پیغام اس نے ٹیلی پیتھی قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے سن لیا ہواور اب خیال خوانی کے ذریعے ڈیکر کا دماغ ٹٹول رہی ہو۔جارج میک کوسٹر ایک مشہور چور تھا جو صرف جواہرات پر ہاتھ صاف کرتا تھا۔ اس کی لاش اس کے مکان کے دروازے پر ملی تھی۔ اس پر سامنے سے صرف ایک یا دوفٹ کے فاصلے سے فائر کئے گئے تھے۔ ڈاکٹری تجزیے کے مطابق وہ صبح چار بجے ہلاک ہوا کہ اسے اسمتھ اینڈ ولسن ریوالور سے ہلاک کیا گیا ہے۔ قرب وجوار میں کہیں سے ریوالور دستیاب نہیں ہوا اور نہ ہی مسزویلنیڈ کا نیکلس مل سکا۔ ڈیکر وہاں سے جائے قتل کی طرف چل پڑا۔ (جاری ہے) ہ


لاش کا معائنہ کرنے کے بعد اس نے پولیس کے ایک اسکواڈ کو گردونواحِ میں بھیجا کہ وہ آلہ قتل تلاش کریں اور ایسے کسی گواہ کا پتا لگائیں جس نے قاتل کو دیکھا ہو یا فائرنگ کی آواز سنی ہو۔لاش کو سرد خانے لے جایا گیا اور اس کے بعد ڈیکر نے ایک پولیس والے کو بھیجا کہ وہ جاکر فلیسیا کو بلا لائے۔ وہ باوردی پولیس والا اسے لے کر آگیا ۔فلیسیا نے لاش کا چہرہ دیکھ کر کہا “ہاں یہی شخص اس مکان پر آیا تھا جہاں میں ملازمت کرتی ہوں۔”ڈیکر نے اپنے سر کو اثباتی جنبش دی اور پھر فلیسیا کو پولیس اسٹیشن چلنے کو کہا۔ پولیس کار میں وہ اسٹیشن تک آگئے۔ وہاں لیفٹیننٹ ڈیکر نے اپنے چھوٹے سے آفس میں فلیسیا کو طلب کیا۔”کیا تمہیں یہ احساس ہے کہ تم ایک مصیبت میں گرفتار ہوچکی ہو؟” اس نے کہا۔فلیسیا مسکرائی جیسے کہہ رہی ہو”مصیبت کا شکار تو تم ہو اس لیے کہ قاتل کو تو تمہیں تلاش کرنا ہے۔””اب تک جتنئ بھی شہادتیں ملی ہیں یا جو بھی حالات وواقعات پیش آئے ہیں، وہ تمہاری طرف اشارہ کررہے ہیں، ڈیکر بولا” اس لیے تم صاف صاف بتا دو کہ تم نے نیکلس کے ساتھ کیا کیا ہے ؟””میں نے نیکلس کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ ویسے بھی مسز ویلنیڈ میری اچھی دوست ہیں اس لیے میں انہیں نقصان نہیں پنچا سکتی۔”وہ بولی۔”تم ایک عورت ہو اور اس ناتے یہ اندازہ کرسکتی ہوکہ کون سامرد کس ٹائپ کا ہے۔ اس کے باوجود وہ تمہارے مکان پر پہنچ گیا ۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ اس مکان پر جہاں تم ملازمت کرتی ہو؟””میں نے اس سے کہا تھا کہ وہ چلا جائے۔ ” فلیسیا نے باوقار لہجے میں کہا۔”فلیسیا! کیا مسٹر ویلنیڈ نے تم سے محبت جتانے کی کوشش کی ہے؟”فلیسیا اس کی طرف یوں دیکھنے لگی جیسے اس کا سوال ہی نہ سمجھ پائی ہو۔”کیا انہوں نے کبھی یہ کہا کہ انہیں تم سے محبت ہے؟””ہاں ۔ مگر میں نے انہیں دست درازی کی اجازت نہیں دی۔ اگر وہ اس کی کوشش کرتے تب بھی ناکام رہتے اس لیے کہ میں ان سے زیادہ طاقت ور ہوں۔””کیا تم نے مسٹر ویلنیڈ کو اس بارے میں بتایا؟”(جاری ہے) ہ


“ہاں ۔ ہم نے بار ہا اس موضوع پر گفتگو کی ۔” اس نے انکشاف کیا”اچھا اب مجھے صحیح یہ بتاؤ کہ جب مسٹر ویلنیڈ اپنی کرسلر لے کر باہر چلے گئے تھے تو رات دوبجے سے صبح چھ تک تم دونوں عورتوں نے کیا کیا تھا؟”۔اس نے جو کچھ بتایا مسزویلنیڈ نے اس کی تصدیق کی تو لیفٹیننٹ ڈیکر نے اسے مشتبہ افراد کی فہرست سے خارج کردیا۔ اس لیے کہ دونوں عورتیں بہر حال ٹیلی پیتھی تو جانتی نہیں تھیں کہ دونوں کے جوابات یکساں ہوتےڈیکر نے حالات وواقعات کا تجزیہ کیا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ کسی غیر معمولی چیز کی تلاش میں ہے۔ اسے معلوم تھا کہ جارج میک کو سٹر کو اس نیکلس کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے جب کہ اس نیکلس کی چوری کے بارے میں صرف تین افراد باخبر تھے۔ یعنی فلیسیا اور ویلنیڈ میاں بیوی۔ اب اگر یہ فرض کرلیا جاتاکہ فلیسیا نے جارج کو ہلاک نہیں کیا ہے اور نہ ہی مسز ویلنیڈ اپنے مکان سے رات کو نکلی ہے تو پھرمسٹر ویلنیڈ ہی باقی بچتے تھے۔ایللک ویلنیڈ سے پوچھ گچھ سے پہلے ڈیکر نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ ایللک ویلنیڈ کے بارے میں تحقیقات کریں۔ خاص طور پر اس کا سراغ لگائیں کہ اس نے ایسا قیمتی نیکلس کیسے خرید لیا اور یہ کہ ازابیلا سے اس کی شادی کیسے ہوئی؟تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ازابیلا ایک دولت مند لڑکی تھی اور جب اس نے ایللک سے شادی کی تو ازابیلاکی عمر سترہ سال تھی۔ وہ ایک پُرکشش اور خوب رو شخص تھا۔ اس کی محبت میں گرفتار ہونے کے بعد ازابیلا نے اس سے شادی کرلی اور رفتہ رفتہ اپنی ساری دولت اس کے نام منتقل کردی۔ عملی طور پر اس وقت اس کے ہاتھ خالی تھے اور وہ ایللک کے رحم وکرم پر تھی۔ (جاری ہے) ہ


ایللک ایک جواری تھا۔ وہ گھوڑوں پر داؤلگاتا تھا اور ناکامی ونامرادی اکثر اس کا مقدر بنتی تھی۔ حد یہ کہ وہ لاس ویگاس گیا اور اس نے وہاں کے سارے جوئے خانوں میں جاکر رولٹ مشینوں پر داؤلگایا لیکن اس کا نمبر ہربارغلط پڑا اور وہ بازی ہار تا چلا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اپنی بیوی ازابیلا کی طرف سے حاصل ہونے والی ساری رقم کنوادی۔رقم اس کے ہاتھ سے یوں نکل گئی جیسے پانی انگلیوں کے درمیان سے نکل جاتا ہے ۔۔۔۔ اور یہ سنہری پانی اس نے گیلنوں کے حساب سے اپنے ہاتھ سے بہا دیا۔چیکوں پر دستخط کرنے میں بھی اس کا انداز شہزادوں جیسا تھا۔ اس بات کی پروا کیے بغیر کہ اس کے اکاؤنٹ میں کتنی رقم ہے۔ وہ چیک پر دستخط کردیتا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ چیک واپس ہوجاتے یوں اس کی ساکھ روز بہ روز خراب ہوتی چلی گئی۔عورتوں کے معاملے میں بھی ایللک بہت بے راہروآدمی تھا اور ہرلڑکی کو دیکھ کر رال ٹپکانے لگتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں اسے ایک غیر وفادار شوہر کہا جاسکتا تھا۔ مجموعی رائے یہ تھی کہ ازابیلا فرشتہ صفت اور نیک سیرت ہے۔ اگر اس کی جگہ کوئی اور عورت ہوتی تو اسے بہت پہلے ہی چھوڑ چکی ہوتی۔ (جاری ہے) ہ

......
loading...


جب ایللک آکر اسکواڈ روم میں بیٹھ گیا تو ڈیکر نے اس سے کہا “تم نے یہ نیکلس بیس ہزار ڈالر میں خریدا تھا؟” اس نے رسید کی طرف بھی اشارہ کیا” اور چالیس ہزارڈالر میں اس کا بیمہ کرایا تھا؟””ہاں ۔ تم اس کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہو۔””نیکلس کو خریدنے کے لیے تمہارے پاس اتنی رقم کہاں سے آئی؟””میں اس بنیاد پر اس کا سوال کا جواب دینے سے انکار کرتا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔””مجھے معلوم ہے کہ رقم تمہارے پاس کہاں سے آئی۔” ڈیکر نے اس کا جملہ قطع کرتے ہوئے کہا” ایک رات جوئے میں تمہارا داؤلگ گیا تو تمہیں پانچ ہزار ڈالر ملے ۔تم نے نیکلس کا سودا کرلیا اور ڈیلر سے کہا کہ وہ باقی رقم ادھار کرلے ،وہ مان گیا۔””اگر تمہیں یہ ساری کہانی معلوم ہے تو تم مجھ سے سوالات کیوں کررہے ہو؟””تم نے اسے کیوں خریدا تھا؟””اپنی بیوی کے سال گرہ پر دینے کے لیے۔””یہ اکتوبر کا مہینہ ہے اور اس کی سال گرہ جنوری میں ہوتی ہے۔””میرا خیال ہے کہ تم نے مجھے یہاں اس لیے بلایا ہے کہ مجھ سے کچھ معلومات حاصل کرسکو مگر تمہارے سوالات اتنے بے ڈھب ہیں کہ۔۔۔۔۔” اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔”دیکھو لیفٹننٹ تم مجھ پر الزام تراشی کررہے ہو۔””کیسی الزام تراشی؟”
“تمہارا خیال ہے کہ میں نے بیمہ پالیسی اس لیے کی ہے کہ اس میں گڑ بڑ کرکے کچھ رقم بنا سکوں۔ مگر اس شخص جارج نے فلیسیا کے ساتھ مل کر وہ نیکلس چوری کرلیا یوں میری گردن بچ گئی۔ تم اب مجھ پر الزام عائد نہیں کرسکتے۔ اس لڑکی فلیسیا کی گردن پکڑو۔ وہ کچھ بھی کرسکتی ہے۔””تمہارے پاس ایک ریوالور ہے۔ اسمتھ اینڈ ولسن۔ اس کا تمہیں باقاعدہ لائسنس جاری کیا گیا ہے۔ وہ ریوالور کہاں ہے؟””معلوم نہیں، وہ یکایک غائب ہوگیا ہے۔”(جاری ہے) ہ


“ان حالات میں اس کا غائب ہونا تمہیں سنگین محسوس نہیں ہوتا۔””میرے بیڈ کے برابر میں ایک چھوٹی میز ہے۔ میں ریوالور اس کی اوپری دراز میں رکھتا ہوں۔ جب ہم چھٹی منانے پرسوں روانہ ہورہے تھے تو وہ دراز ہی میں تھا، مگر جب واپس آکر میں نے دراز کھول کردیکھا تو وہ غائب تھا۔”ایللک نے وضاحت کی “ممکن ہے جارج نے اسے وہاں سے غائب کیا ہو۔””ان حالات میں اس کا غائب ہونا تمہیں سنگین محسوس نہیں ہوتا۔””میرے بیڈ کے برابر میں ایک چھوٹی میز ہے۔ میں ریوالور اس کی اوپری دراز میں رکھتا ہوں۔ جب ہم چھٹی منانے پرسوں روانہ ہورہے تھے تو وہ دراز ہی میں تھا، مگر جب واپس آکر میں نے دراز کھول کردیکھا تو وہ غائب تھا۔”ایللک نے وضاحت کی “ممکن ہے جارج نے اسے وہاں سے غائب کیا ہو۔””تمہاری اس سے پہلی بار کب ملاقات ہوئی تھی؟”ایللک اس پھندے میں نہیں آیا۔ اس نے کہا”ملاقات تو درکنار میں نے اسے دیکھا تک نہیں۔ بس سنا ہی ہے کہ فلیسیا اسے مکان پر لائی تھی۔””کیا تم اس سے انکار کرو گے کہ تم اسے جانتے ہو؟””ہاں ۔میں نے اسے آج تک نہیں دیکھا۔” وہ بولا۔”کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ تم نے نیکلس کی چوری کے لیے اس کی خدمات حاصل کیں۔ اس سے یہ طے کرلیا کہ وہ چوری کرنے کے بعد اسے فروخت کرکے رقم جیب میں رکھ لے تاکہ بیمے کی رقم جیب میں رکھ سکو۔””کیا جارج نے اپنے بیان میں یہ کہا ہے؟” ایللک نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔”مجھے معلوم ہے تم ایک خوش طبع انسان ہو، مگر مناسب ہوگا کہ تم اپنی خوش طبعی تھوڑی دیر کے لیے سنبھال کر رکھو۔”ڈیکر نے ناگواری ظاہر کی۔اس کے آفس کی فضا میں تھوڑی دیر کے لیے کھینچاؤ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ پھر ڈیکر نے کھنکار کر کہا”اب یہ بتاؤ کہ چوری کی اطلاع پاکر تم دوبجے رات کے گھر آگئے تھے۔ اس کے بعد تم نے سلر لے کر گھر سے نکل گئے اور صبح چھ بجے واپس آئے۔ یہ چار گھنٹے تم نے کہاں گزارے؟””چوں کہ میرا دماغ ہیجان ۔۔۔ اور پریشانی کا شکار تھا اس لیے میں کار لے کر نکل گیا اور ڈرائیونگ کرنے لگا۔ غالباً میںشمال کی طرف نکل گیا تھا۔ ویسے صحیح طور پر یاد نہیں ہے کہ میں کہاں گیا تھا۔ یوں سمجھ لو کہ میں ان دونوں عورتوں سے اکتا یا ہوا ہوں اس لیے ان سے دور رہنا چاہتا ہوں۔ میں بے مقصد ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ تم ان عورتوں کو نہیں جانتے ۔۔۔۔۔ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہیں، میری موت کی خواہش مند ہیں۔ انہوں نے نیکلس غائب کردیا اور اس کی چوری کا الزام مجھ پر عائد کر دیا۔ تمہار اندازہ درست ہے کہ اس شخص جارج کو نیکلس کی چوری کی دعوت دی گئی (جاری ہے) ہ

پھر اسے قتل کرادیا گیا۔””مگر یہی بیان تو انہوں نے دیا ہے۔””میں سچ کہہ رہا ہوں کہ اس شخص جارج سے میں قطعی واقف نہیں ہوں۔”دوسرے روز سے اٹھائیس گھنٹے تک مسلسل تحقیقات کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ایللک کا بیان درست نہیں ہے اس لیے کہ اس کی جارج سے دوبار ملاقات ہوئی تھی۔ پہلی ملاقات ایک شراب خانےمیں ہوئی جہاں وہ کسی نیکلس کے بارے میں گفتگو کررہے تھے۔ ان کی یہ گفتگو ایک ویٹر نے سن لی۔ اس کے ایک روز بعد ایللک نے اپنی کار میں جارج کے مکان کے سامنے پارک کی اور اتر کر اندر جاتا دیکھا گیا۔یہ معلومات سامنے رکھ کر ڈیکر نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرتے ہوئے موجود صورت کا جائزہ لیا” تاریکی میں اب ہلکی سی روشنی دکھائی دے رہی ہے۔” اس نے کہا “عملی طور پر ایللک نے یہ اعتراف کرلیا ہے کہ وہ نیکلس کے بیمے کے فراڈ میں شامل تھا۔ اس نے نیکلس کی چوری کا منصوبہ تیار کرلیا۔ اس نے جارج کو فلیسیا کے بارے میں بتا دیا کہ وہ چھٹی گزارنے کس روز جائیں گے ۔۔۔۔۔ گویا سارے واقعات اسی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ مناسب لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کہانی میں ایللک کے سوا کسی کی تصویر فٹ نہیں ہورہی ہے۔””لیکن قتل کس نے کیا ہے؟ تمہاری باتوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جارج کو ایللک نے قتل کیا ہے؟ ایللک کو تو صرف بیمہ فراڈ کی سزادی جانی چاہئے۔” اس کانائب بولا۔”قتل کا مسئلہ اس وقت حل ہوگا جب ہمیں ریوالور مل جائے گا۔” ڈیکر نے کہا۔”قتل کا مسئلہ اس وقت حل ہوگا جب ہمیں ریوالور مل جائے گا۔” ڈیکر نے کہا۔”وہ کسی درخت کے نیچے دفن کردیا گیا ہوگا ممکن ہے کہ دریا برد کردیا گیا ہو یا کوڑے کے ڈرم میں ڈال دیا گیا ہو۔ اس لیے کہ ایللک نے تو گھنٹوں ڈرائیونگ کی ہے یہ کیسے پتا لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے ریوالور کہاں پھینکا؟” نائب نےالجھن بیان کی۔ (جاری ہے) ہ


“اس کے لیے باقاعدہ چیکنگ کرنا پڑے گی۔” ڈیکر نے کہا “کسی نے اسے چار بجے صبح دیکھا۔ کسی اور نے فائرنگ کی آواز سنی۔ ایک گواہ نے بتایا کہ اس نے ایللک کی کار دیکھی تھی۔””گواہ کا بیان ہے کہ اس نے ایللک کی کار نہیں دیکھی بلکہ کچھ لڑکوں نے ایک چھوٹی سی ہرے رنگ کی کار جارج کے دروازے پر کھڑی دیکھی جو غیر ملکی لگتی تھی۔” نائب نے گویا تصحیح کی۔ یہ صبح کے چار بجے کی بات ہے ۔ان لڑکوں میںسے ایک نے شراب کی زیادتی سے اس کے سامنے والے فینڈر پرقے کردی تھی۔”تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ ایللک کے پاس دو کاریں ہیں۔ دوسری غیر ملکی ہے اور اس کا رنگ ہرا ہے۔ اس کے فینڈر کا کیمیائی تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس پر قے کی گئی ہے اور قے کرنے والے کے معدے میں وہسکی تھی!دوسری کار کے بارے میں معلوم ہوتے ہی کیس کی نوعیت تبدیل ہوگئی۔ ایللک اور زیادہ پھندے میں پھنستا معلوم ہونے لگا۔ اب صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ کار لے کر ایللک ہی جارج کے ہاں گیا تھا۔ اس بات کے لیے بہترین گواہ مسز ویلنیڈ ہی ہوسکتی تھی اس لیے ڈیکر نے اسے اگلے روز صبح اپنے آفس میں طلب کرلیا۔مسز ویلنیڈ نے سارے سوالوں کے جوابات خود اعتمادی سے دیے۔ ڈیکر محسوس کررہا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو بچانے کی پوری کوشش کررہی ہے۔”تم نے کہا تھا کہ ایللک کار لے کر رات کو معلوم نہیں کہاں چلا گیا تھا۔ تم نے کار کی آواز سنی تھی؟””ہاں ۔ یقیناً۔””تمہارے شوہر کے پاس ایک بڑی کرسلر ہے اور ایک چھوٹی غیر ملکی گار۔ کیا تم کو معلوم ہے کہ دونوں کی آوازوں میں کیا فرق ہے؟””کیا کاروں کی آوازوں میں فرق ہوتا ہے؟”ازابیلا نے تذبذب سے کہا۔”اچھا اس بات کو چھوڑو ۔۔۔۔۔ یہ بتاؤ کہ ایللک کون سی کار لے کر گیا تھا؟””تم یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہو کہ ایللک نے جارج کو ہلاک کیا ہے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا ہے کیوں کہ اس کے پاس ریوالور نہیں تھا۔””تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟”ریوالور ایللک کی سائڈ ٹیل کی اوپری دراز میں رہتا تھا۔ جب ہم واپس آئے تو وہ غائب تھا۔ دراز کھول کر میں نے خود دیکھی تھی۔””مسز ویلنیڈ اپنے شوہر سے تمہارے تعلقات خوش گوار نہیں ہیں تو تم اس سے علٰیحدگی اختیار کیوں نہیں کرلیتیں؟””اگر تم عدالت سے رجوع کرو گی (جاری ہے) ہ

تو آسانی سے علٰیحدگی ہوجائے گی۔””میں ایسا نہیں کرنا چاہتی۔” وہ بولی “اس لیے کہ میرے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں۔”اس جواب نے ڈیکر کو ایک نئی راہ پر ڈال دیا۔ اس نے سوچا کہ ازابیلا اپنے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن کسی مجبوری کے تحت ایسا نہیں کرپا رہی ہے۔ تو پھر کیاوہ ایسی کوشش نہیں کرسکتی کہ اس کا شوہر قاتل گر دانا جائے؟ اب تک اس نے اگر اپنے شوہر کا دفاع کیا ہے تو محض اسی وجہ سے کہ وہ خود کو ایک وفاداراور شوہر پرست بیوی ثابت کرنا چاہتی ہے۔ وہ کیوں چاہے گی کہ اس پر کوئی الزام آئے؟اس سے سوال وجواب کا سلسلہ وہیں ختم ہوگیا۔ڈیکر نے سوچا کہ اس نے فلیسیا سے نرمی سے سوالات کیے تھے اور اس نے جو کچھ کہا اس پر اس نے یقین کرلیا۔شروع سے آخر تک جائزہ لینے کے بعد یہ منکشف ہوا کہ وہ غیر ملکی کار تو ان عورتوں میں سے بھی کوئی استعمال کرسکتا تھا۔ خاص طور پر اس صورت میں کہ وہ دونوں ایللک سے نفرت کرتی ہیں۔اس کا مطلب یہ تھا کہ اسے ان دوعورتوں کو اپنے تفتیشی دائرے میں رکھنا چاہئے تھا۔ اس لیے کہ دونوں کے پاس ایللک کو تباہ وبرباد کرنے کو جواز تھا۔ ان عورتوں نے اپنی گردنیں بچانے کے لیے یہ کیا کہ جائے واردات سے اپنی غیر موجودگی ثابت کردی۔ڈیکر سوچنے لگاکہ ان دونوں عورتوں میں سے کس نے جارج کو ہلاک کیا ہوگا؟ کون کار لے کر وہاں تک گیا؟ کس نے ریوالور سے فائرنگ کی اور پھر اسے گم کردیا؟ ان عورتوں نے یہ کوشش بھی کی ہوگی کہ وہ ایللک کے واپس آنے سے پہلے لوٹ آئیں۔ڈیکر نے شہر کا نقشہ منگوایا اور پھر اس پر جگہ جگہ نشانات لگائے۔ ایک نشان جارج کے مکان پر اور دوسراویلنیڈ کے مکان پر۔ پھر وہ خود اپنی کار میں سوار ہوا اورجارج کے مکان تک گیا۔ وہاں تک جانے کے تین راستے تھے۔ ان تینوں راستوں پر اس نے اس امکان کا جائزہ لیا کہ ریوالور کہاں چھپایا یا پھینکا جاسکتا ہے۔راستے میں اسے بہت سے پارکنگ لاٹ اور کوڑے دان دکھائی دیے۔ اس کے علاوہ کاروں کے گیراج بھی تھے۔ اس نے چار سراغ رسانوں کو اس کام پر لگا دیا کہ وہ ان سب جگہوں کی اچھی طرح تلاشی لیں۔چاروں سراغ رساں صبح پانچ بجے واپس آئے تو ان کے پاس ریوالور اور نیکلس دونوں چیزیں تھیں جو انہیں کوڑے کے ایک ڈرم میں ملی تھیں۔ دونوں چیزیں ایک بڑے رومال میں لپٹی ہوئی تھیں۔ (جاری ہے) ہ

دونوں چیزیں کا لیبارٹری میں تجزیہ ہواتو معلوم ہوا کہ ریوالور سے دو فائر کیے گئے ہیں۔ اس پر پڑے ہوئے سیریل نمبر سے معلوم ہوا کہ وہ ایللک کا ہے۔ اس سے فائر کرنے کے بعد یہ تصدیق ہوگئی کہ جارج کو اسی سے قتل کیا گیا ہے۔نیکلس کو الٹتے پلٹتے وقت اس میں سے ایک ناخن کا ٹکڑا نکل کر گر پڑا جس پر نیل پالش لگی تھی۔ غالباًکسی عورت کا ناخن عجلت میں ٹوٹ گیا تھا۔”گویا اب یہ معلوم کرنا رہ گیا ہے کہ کس عورت کا ناخن ٹوٹا ہوا ہے اور کون سی عورت یہ نیل پالش لگاتی ہے۔” ڈیکر نے مسکرا کر کہا”نیکلس جارج کی جیب سے نکالتے وقت کسی عورت کا ناخن ٹوٹ گیا اور اسی میں پھنس گیا۔ نیکلس کو اس نے رومال میں لپیٹ لیا۔”وہ سب ویلنیڈ کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔ازابیلا نے ڈیکر کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا اور پوچھا “تم یہاں کیا لینے آئے ہو؟””تم لوگوں کے ہاتھ دیکھنے آیا ہوں۔ “ڈیکر نے کہا۔ازابیلا نے اپنے ہاتھ آگے بڑھا دیے۔اس کے سارے ناخن بلکل درست حالت میں تھے ۔ فلیسیا جو تھوڑی دیر پہلے وہاں داخل ہوئی تھی، ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔ ڈیکر نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنے ناخنوں کا معائنہ کرائے۔فلیسیا نے اپنے ہاتھ آگے کردیے ۔اس کے ناخنوں کے کونے ٹوٹے ہوئے تھے اور نیل پالش پھٹا پھٹا سا تھا ۔اس لیے کہ وہ گھر کے کام کاج کرتی تھی۔”یہ کیسے ٹوٹ گئے؟””ٹوٹتے ہی رہتے ہیں ۔” اس نے بے پروائی سے کہا۔”میں ملازمہ ہوں اس لیے میرے ناخن عمدہ ۔۔۔۔۔ پالش کیے ہوئے اور صحیح سالم نہیں ہوسکتے۔”ڈیکر نے وضاحت کردی اور بولا”تم دونوں میں سے کوئی ایک جارج کے گھر تک گیا تھا اور اس نے جارج کو قتل کیا ہے اب میں نیل پالش ٹیسٹ کروں گا تو پتا لگ جائے گا کہ تم میں سے کون مجرم ہے۔””(جاری ہے) ہ

معلوم نہیں کہ تم کیا کہہ رہے ہو، ہم نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔” ازابیلا نے کہا پھر اس نے فلیسیا کی طرف دیکھا دونوں نے نگاہوں کی زبانی بات کی جسے ڈیکر نے بھی محسوس کرلیا۔”چند روز پہلے میرا ایک ناخن کار کے ہڈبٹن سے ٹکڑا کر ٹوٹ گیا تھا۔ میں نے اسے فائل سے گھس کر برابر کرلیا پھر اس پر پلاسٹک کی ایک پٹی لگالی۔ جس کی وجہ سے یہ ٹوٹا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔” اس نے ہاتھ بڑھا کرکہا”یہ دیکھو تمہیں بالکل واضح دکھائی دے گا۔”ڈیکر اور لیبارٹری کے ماہرنے جھک کر اس کا ٹوٹا ہوا ناخن دیکھا۔ وہ صحیح کہہ رہی تھی۔ ڈیکر کو حیرت ہونے لگی کہ ازابیلا نے اس وقت ایسا اعتراف کیوں کیا ہے؟فلیسیا کو تحفظ دینے کے لیے؟ڈیکڑ کا دماغ نہایت تیزی سے تانے بانے بُن رہا تھا۔ غیر ملکی کار کے ہڈپر ایک بٹن تولگا ہوا تھا۔۔۔۔۔دفعتاً وہ فلیسیا کی طرف مڑا اور اس نے کہا “کیا تم ڈرائیونگ جانتی ہو؟””نہیں ،میں ۔۔۔۔۔ ” اس نے کہا پھر ٹھٹک کر خاموش ہوگئی۔ (جاری ہے) ہ

ازابیلا پر اس کے جواب کا شدید ردعمل ہوا۔ وہ مبہوت ہو کر اسے دیکھنے لگی ۔ وہ گویا اس روایتی شہزادی کی طرح پتھر کی ہوگئی تھی جس پر جادو گرنیاں سور پھونک دیتی ہیں۔”ہاں میرا بھی خیال ہے۔”ڈیکر نے کہا “لیتھونیا میں زیادہ کاریں نہیں ہیں اور زیادہ ترلوگوں کو ڈرائیونگ نہیں آتی۔ اس لیے فلیسیا ۔۔۔۔۔ اگر تم ڈرائیونگ نہیں جانتیں تو مجھے کوئی حیرت نہیں ہے۔”وہ ڈرامائی طور پر ازابیلا کی طرف مڑا اور گردن کو خفیف ساخم دے کر بولا”مسز ویلنیڈ! اگر زحمت نہ ہوتو تم ہمارے ساتھ پولیس اسٹیشن تک چلو۔ میں تمہارا بیان ریکارڈ کرنا چاہتا ہوں۔”مسز ویلنیڈ یعنی ازابیلا کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔ اور ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے اس کی ۔۔ٹانگوں میں جان نہ رہی ہو!۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔