اگر آپ نے کبھی اکوافینا پانی پیا ہے تو یہ خبر بھی ضرور پڑھ لیں دن میں تارے نظر آجائیں گے کیونکہ کمپنی کے پلانٹ پر

شہریوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق غذائی اشیا فروخت نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری ہے, اکوافینا (AQUAFINA) ملک کی ان چند بڑی کمپنیوں میں شامل ہے، جو پینے کا پانی گھروں، دفاتر، ہوٹلز وغیرہ میں رقم کے عوض فراہم کرتی ہے,(جاری ہے) ہ

اس کمپنی کی طرف سے ناقص پانی کی فراہمی کی شکایت ملنے پر اسلام آباد کے تھانے سہالہ کے ہمک میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اے سی سٹی اسلام آباد نے پولیس اور فوڈانسپکٹرز کی موجودگی میں سیل کردیا ۔ذرائع کے مطابق اس کمپنی کے پانی کے بارے میں متعدد شکایات موصول ہوئیں، جس کے بعد اس کا سٹاک سیل کرکے مارکیٹ میں موجود پانی کی بوتلیں واپس لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اکوافینا کمپنی جو دراصل اسلام آباد میں پیپسی کولا کے ہمک پلانٹ کے اندر ہی کام کررہی ہے، اس کی پانی کی مارکیٹنگ منیجر آرزو نے دعویٰ کیا کہ ان کا واٹر لانٹ گزشتہ روز مرمت کی وجہ سے بند تھا(جاری ہے) ہ

اور آج معمول کے مطابق کام کررہا ہے۔روزنامہ امت کے مطابق آرزو نے گزشتہ روز کے چھاپے اور کمپنی کے پاس صحت مند پانی کی فراہمی کے سرکاری ثبوت کے حوالے سے رضوان احمد نامی کسی بڑے عہدیدار سے بات کرانے کی حامی بھری، لیکن دوبارہ ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد سٹی سعد بن اسد وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو اچھی اور معیاری خوراک کی فراہمی کیلئے پوری تندہی سے کام کررہے ہیں۔ اب انہیں ہمک کے علاقے سے معروف برانڈ کے ناقص اور مضر صحت پانی کی فراہمی کی اطلاع ملی تو انہوں نے فوڈ انسپکٹر راجہ اشرف اور تھانہ سہالہ کے ڈیوٹی آفیسر اے ایس آئی غلام رسول کے ہمراہ پیپسی پلانٹ میں واقع اکوافینا کے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر چھاپہ مارا۔ اس پلانٹ سے پانی کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری کو بھجوادئیے گئے ہیں،(جاری ہے) ہ

......
loading...

جہاں سے 10 سے 15 دنوں میں رپورٹ آئے گی، جس کے بعد اس واٹر کمپنی کے خلاف باقاعدہ کارروائی کی جائے گی۔سرکاری ذرائع کے مطابق اس طرح کے چھاپوں کے بعد حاصل کئے گئے مزید کچھ نمونے شامل کرکے ایک سے زائد لیبارٹریز کو بھجوائے جاتے ہیں اور اپنے طور پر نمبرلگالئے جاتے ہیں اور یہ بات ذہن میں رکھی جاتی ہے کہ ان چند نمونوں میں سے وہ دراصل کسی ایک نمونے کے نتائج کے متلاشی ہیں۔ ان ذرائع کے بقول پوری کوشش کی جاتی ہے کہ لیبارٹری کا نام خفیہ رکھا جائے، کیونکہ واٹر کمپنیاں پیسے کی مدد سے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔(جاری ہے) ہ


اسلام آباد انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ ناقص اور مضر صحت پانی کی فراہمی کی وجہ سے واٹر پلانٹ اور اس کا سٹاک سیل کیا گیا ہے کیونکہ اس کے بارے میں شکایات ملی ہیں، یہ ناقابل برداشت ہے کہ لوگ سینکڑوں روپے دے کر مضر صحت پانی خریدیں اور پھر پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہوکر اپنے اور اپنے بچوں کی بیماریوں پر بھی ہزاروں روپے کے اخراجات کریں۔ پانی کی کوالٹی اور سٹینڈر معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔ مضر صحت پانی کسی صورت فروخت نہیں کرنے دیا جائے گا۔ اکوافینا روزانہ لاکھوں لٹر پانی  مختلف سائز کی بوتلوں میں فروخت کرکے کروڑوں روپے وصول کرتی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ ملک کی پانی فروخت کرنے والی دو تین بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔