آخر میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں ؟ ریپ کے باوجود بھی ہم سے کیونکہ

بھارت میں خواتین کی عصمت دری کے واقعات اتنی بڑی تعداد میں ہوتے ہیں کہ اسے معمول کی بات سمجھ کر کوئی ان پر خاص توجہ بھی نہیں دیتا، البتہ بسا اوقات یہ جرائم اس قدر بھیانک اور قابل نفرت ہوتے ہیں کہ ہر سننے والا لرز اٹھتا ہے۔ ایک ایسا ہی لرزہ خیز واقعہ جموئی شہر کے نواحی گاﺅں میں پیش آیا،(جاری ہے) ہ

جہاں پنچایت نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی کمسن لڑکی کے والد کو 60 ہزار روپے کا جرمانہ کر دیا۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق کم عمر لڑکی کو گزشتہ اتوار کی رات راجیش نامی نوجوان نے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ لڑکی کے والد نے بتایا کہ انہیں رات کے وقت اپنی بیٹی کی چیخوں کی آواز سنائی دی تو وہ بھاگ کر اس کے کمرے کی طرف گئے۔ اسی وقت انہوں نے وہاں سے راکیش نامی نوجوان کو فرار ہوتے دیکھا۔ شور سن کر ہمسائے بھی جاگ گئے تھے اور انہوں نے راکیش کو فرار ہونے سے قبل ہی دبوچ لیا۔(جاری ہے) ہ

......
loading...


بجائے اس کہ متاثرہ لڑکی کا والد ملز م کے خلاف کوئی کاروائی کرتا، الٹا ملزم کے والد نے پنچایت بلا لی۔ اگلے دن متاثرہ لڑکی کے والد کو پنچایت میں بلا کر بتایا گیا کہ اس کی لڑکی بد کردار ہے لہٰذا ملزم راکیش کو بلاوجہ بدنام کرنے پراسے 60000 روپے بطور جرمانہ ادا کرنا ہوں گے۔ پنچایت نے اسے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر جرمانہ ادا نہ کیا تو لڑکی کے گلے میں جوتوں کا ہار ڈال کر اسے سارے گاﺅں میں گھمایا جائے گا۔(جاری ہے) ہ


بدنصیب والد کاکہنا ہے کہ اسے صرف غریب اور بے سہارا ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ اس کی جانب سے پولیس کی دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ملزم رات کے اندھیرے میں اس کے گھر میں گھسا اور اس کی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا، جس پر لڑکی نے شور مچایا اور ہمسایوں نے ملزم کو پکڑا، لیکن اس کے باوجود الزام اس کی بیٹی پر لگایا جا رہا ہے۔(جاری ہے) ہ


اس کیس کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر سنجے کمار کا کہنا تھا کہ شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں اور گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کئے گئے ہیں، تاہم پنچایت کے ارکان کے خلاف سخت کاروائی کے دعووں کے باجود تاحال کسی کو حراست میں نہیں لیا جا سکا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔