طلاق اور علیحدگی ہر ڈرامے کا لازمی جزو بن گئی

عنبرین فاطمہ ۔پاکستانی ڈرامہ ہمیشہ ہمارے کلچر ، ہماری ثقافت کا آئینہ دار رہا ہے، ستر اسی اور نوے کی دہائی میں بننے والے ڈراموں میں سوشل ایشوز کو اس انداز میں اجاگر کیا جاتا تھا کہ دیکھنے والے کو سبق یا پیغام ملے، ایک وقت وہ بھی تھا کہ ایشوز کو ہائی لائٹ کے لئے جانداز کہانی اور ڈائیلاگ کا سہارا لیا جاتا تھا۔اور اداکاروں کی جاندار اداکاری کا تو کیا ہی کہنا تھا۔۔۔۔جاری ہے

ستر اور اسی کی دہائی میں پی ٹی وی کا ڈرامہ ہی عوام کی واحد تفریح تھا ۔ پرائم ٹائم کے دوران پی ٹی وی کے ڈراموں کو دیکھنے کے لیے سڑکیں سنسان ہوجاتی تھیں ۔ ایک یہ بھی وقت ہے آج جا ڈرامہ باقاعدہ بزنس کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ آج نہ وہ لکھنے والے اور نہ ہی وہ ڈرامہ بنانے والے موجود ہیں گزشتہ ایک دہائی میں پاکستانی ڈراموں نے اپنی شکل بدل لی ہے ۔ ہم یہاں یہ ثابت نہیں کرنا چاہتے کہ آج بننے والا ڈرامہ اچھا یا معیاری نہیں ہے۔ بلکہ ہم یہاں یہ ڈسکس کرنا چاہتے ہیں۔ کہ آج کے ڈرامے کا مقصد اصلاح نہیں صرف ریٹنگ حاصل کرنا اور پیسہ کمانا بن گیا ہے۔اگر چینلز اپنی ضرورت اور ڈیمانڈ کے مطابق ڈرامہ تیار کرئے گے تو تخلیق اور سبق کا عنصر دونوں پیچھے رہ جائیں گے۔ آج ٹی وی چینلز پر بہت زیادہ ڈرامے دیکھائے جارہے ہیں ۔ نجی چینلز کا سیلاب آنے سے قبل بہت کم مگر معیاری ڈرامے بنتے تھے۔۔۔۔جاری ہے

اس دور میں ڈرامہ کا کاروباری پہلو کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتا تو شاید ڈرامہ ہماری پہچان نہ ہوتا مقام افسوس ہے کہ پرانے لکھنے والے کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ ڈائجسٹ اور جاسوسی ناول لکھنے والوں سے ڈرامے لکھوائے جارہے ہیں ۔ ان کے لکھنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن پروفیشنل ڈرامہ لکھنے اور جاسوسی ناول اور ڈائجسٹ لکھنے والوں کے انداز اور وژن میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ آج ڈرامے کی کہانیوں میں سبق یا پیغام نام کی چیز تو کہیں دور درو تک نظر نہیں آتی، ہر ڈرامے کی کہانی میں شادی طلاق اور غیر ازدواجی تعلقات کو ہائی لائٹ کیا جاتا ہے۔ اور ان دو تین چیزوں کے بغیر کسی ڈرامے کی کہانی آگے نہیں بڑھتی۔ ہمیں وہ وقت بھی یاد ہے کہ جب کسی ڈرامے میں اس طرح کی چیز دکھانی ہوتی تھی تو اس کو بہت ڈھکے چھپے انداز میں دکھایا جاتا اور ڈائیلاگ ایسے ہوتے کہ دیکھنے والے کو اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے میں کوئی شرمندگی نہ ہوتی۔ آج مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے غیر ازدواجی تعلقات دکھانے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کی جاتی۔ اب تو شادی شدہ عورت کو اپنے پرانے افئیر کے لئے طلاق لینا ہر دوسرے ڈرامے کی کہانی کا لازمی لازمی جزو بن گیا ہے۔۔۔۔جاری ہے

ڈرامہ سیریل ”تو دل کا کیا ہوا“ کی کہانی شروع ہی ایک شادی شدہ خاتون کے طلاق لینے کے گرد گھومتی ہیں ۔ اور طلاق کی وجہ پرانی محبت کی چنگاری دوبارہ بھڑک اٹھنا ہوتی ہیں ۔ اسی طرح سے ڈرامہ سیریل ”بے قصور“ میں بھی بیٹی کے جوان ہوجانے کے بعد بیوی (ثمینہ پیر زادہ) کو طلاق دینا اس کے بعد کہانی میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سے سوتیلی والدہ کے سابق شوہر (ساجد حسن )سے بیٹی (ایمن شادی کرتی ہیں پھر اسی آدمی کیساتھ اسی لڑکی کی پھوپھو (جویریہ خلیل )کا شادی کرنا شائقین پر کیا اثر چھوڑے گا۔ ہر ڈرامے میں اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور گالیوں کو باقاعدہ ڈائیلاگ استعمال کرنے کا رجحان رواج پکڑرہا ہے۔ حالیہ آن ائر ہونے والے ڈرامہ ”باغی“میں ایک گالی کا استعمال بہت ہی روانی کے ساتھ بار بار کیا جاتا رہا۔ یہ ڈرامہ قندیل بلوچ کی زندگی پر بنایا گیا ہے۔صباء قمر نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا جبکہ سرمد سلطان کھوسٹ نادیہ افغان اہم کرداروں میں جلوہ گرہوئے۔اسی طرح ڈرامہ سیریل ”تمہارے ہیں“میں سارا خان اور آغا علی ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار دکھائے گے۔ اس کی شادیاں نہیں ہوپاتی زندگی اس موڑ پر آجاتی ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے جدا ہونا پڑتا ہے۔ شادی کے کئی برس گزرنے کے بعد یہ دونوں ایک دوسرے سے دوبارہ ملتے ہیں دونوں طلاق لیکر ایک دوسرے سے شادی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ اس چیز کو مدنظر رکھ کر کہانی اگے بڑھتی ہے۔ ایسی کہانی سٹار پلس کے ڈراموں میں دیکھنے کو ملتی تھی ۔۔۔۔جاری ہے

......
loading...

پاکستانی ڈرامہ دنیا بھر میں ہماری پہچان ہے۔ مگر آج بھارتی ڈراموں کا گلیمر اور بیہودہ پن ہمیں اپنے ڈراموں میں دیکھنے کو مل رہا ہے اور سونے پہ سہاگہ یہ عدعوی کیا جاتا ہے کہ فلاں ڈرامے کو ریٹنگ مل رہی ہیں اور فلاں ڈرامہ نمبر ون جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ریٹنگ کا طریقہ کار خاصا بھونڈا ہے۔ ایک ڈیوائس چند ہزار لوگوں کے گھروں میں لگاکر بیس کروڑ عوام کی پسند نہ پسند کا اندازہ لگالیا جاتا ہے ۔ اس موضوع کی مناسبت سے ہم نے ماضی کی معروف ڈرامہ نگار” حسینہ میمن “ کی تو انہوں نے کہا میں چالیس برس سے کہتی آرہی ہوں کہ عورت کو تماشا نہ بنایا جائے ۔ افسوس آج کے ڈرامے میں عورت کی تذلیل کی جارہی ہیں ۔ ہمیں تو یہ سکھایا گیا تھا ۔ جس کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے اس کی ذمہ داری ہوتی ہیں کہ وہ اس کا استعمال فرض سمجھ کر کرے اور جس نے اس قلم کا غلط استعمال کیا گویا گناہ عظیم کیا۔ ہماری تربیت یہ تھی کہ معاشرے میں اگر کوئی غلط کام ہورہا ہے۔۔۔جاری ہے

تو اس کو اس انداز میں دکھایا جائے کہ دیکھنے والے کو گراں نہ گزرے اور وہ سوچنے پر مجبور ہوجائے ۔ آج ہمارے ہاں ہر کوئی برائی کو مزے لیکر دکھایا جارہا ہے۔ کہ ایک نوکرانی اگر اپنے مالک سے عشق کرے تو وہ گھر کی مالکن بن سکتی ہے۔ معاشرتی برائیاں رائٹر کے لئے چیلنج ہوتی ہیں کہ کس طرح اس نے اس کو دکھانا ہے اور ان کا حل کیا ہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگر کسی کو موضوع کے بارے میں زیادہ اگاہی نہیں ہے تو پھر اس کو نہیں لکھنا چاہیے۔ آج ڈرامہ بنانے والوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ پاکستان ہے کوئی غیر ملک نہیں ہے اس کا ڈرامہ دنیا بھر میں اسکی پہچان ہے۔خواتین اور مردکے جس طرح غیر ازدواجی تعلقات ۔ پرانی اور نئی محبت کو دکھایا جارہا ہے ۔ اس کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ایسی چیزیں دکھانے سے آپ برائی کا راستہ بند کرنے کی بجائے کھول رہے ہیں ۔ ہم ڈرامہ لکھ کر بھیجواتے تھے تو سینئر نہ صرف اسے پڑھتے تھے بلکہ ایک ایک لفظ کو تولہ جاتا تھا۔۔۔جاری ہے

اور جائزہ لیا جاتا تھاکہ ڈائیلا گ میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہونا چاہئے جس سے لوگوں کو اخلاقیات پر اثر پڑے ۔ آج ہر چینل کا مالک بزنس میں ہے۔ اس نے ڈرامے کو بھی بزنس بنادیا ہے ۔ کسی بھی چینل کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کو کہانی میں ذرا سا بھی مصالحہ دکھائی نہ دے تو وہ اس کہانی اور ڈرامے کو رد کردیتے ہیں ۔اب کوئی یہ بتائے کے مارکیٹنگ والوں کا علم و ادب سے کیا تعلق ہے ؟ یہی حال رہا تو ڈرامے کا مزید بیڑا غرق ہوجائیگا ۔میں یہاں یہ بتانے میں فخر محسوس کرتی ہوں کہ ہماری ڈرامہ ہمسایہ ملک میں بھی بے حد مقبول تھا ۔ معروف بھارتی آرٹسٹ وہ بھی ہمارے ڈرامے اپنی شوٹنگز چھوڑ کر دیکھنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔ حسینہ معین کا مزید کہنا ہے کہ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ بھارتی فلم ”حنا“ کے ڈائیلاگ لکھنے کیلئے جتنی بار بھی راج کپور نے بھارت بلایا ۔ میں وہاں گئی۔ مجھے وہاں جو بھی ملتا تھا میرے لکھے ڈراموں کی بات کرتا تھا۔ مجھے تو اس چیز پر سخت حیرت ہوتی ہیں کہ ہم دکھا توایک غریب لڑکی کو ہوتے ہیں۔۔۔جاری ہے

لیکن اس کا میک کپڑے اور جیولری سے بالکل گماں نہیں ہوتا کہ وہ غریب ہے ۔ یہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جن کو ڈرامہ بنانے کی تکنیک کہا جاتا ہے ۔ ڈرامہ بنانے والوں اور لکھنے والوں سے یہی کہوں گی کہ ٹھیکے پر کام نہ کریں بلکہ ڈرامے کی اصلی روح کو برقرار رکھنے کے لیے پروفیشنل انداز میں کام کریں ۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔