بینظیربھٹو کا قتل برطانوی وزیراعظم نے ۱۰ سال بعد اہم انکشافات کردیے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں اجلاس میں پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو یاد کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے عالمی رہنماؤں کو یاد دہانی کروائی کہ دنیا کے کسی ملک نے دہشت گردی سے اتنا نقصان نہیں اٹھایا، جس نقصان کا سامنا پاکستان کو کرنا پڑا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جاری ہے

برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رواں سال اُس خاتون کی 10 ویں برسی ہوگی جنہوں نے مجھے میرے شوہر سے متعارف کروایا اور جنہیں اقوام متحدہ میں موجود کئی لوگ بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ تھریسا مے کا کہنا تھا بینظیر بھٹو کا بےدردی سے قتل اُن افراد نے کیا جو ان تمام روایات کے مخالف ہیں جن کے لیے ہم یہاں اقوام متحدہ میں موجود ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرنے والی بینظیر بھٹو کے دسمبر 2007ء میں ایک دہشت گرد حملے میں قتل کو یاد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے ہاتھوں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معروف سیاسی رہنما کو دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرنے، رواداری کی وکالت کرنے اور خاتون ہونے پر قتل کیا گیا۔جاری ہے

......
loading...

بینظیر بھٹو کے عزم اور مضبوط ارادوں کو سراہتے ہوئے برطانوی رہنما نے خبردار کیا کہ دہشت گردی سے لڑنے کے صرف یہ کافی نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سربراہ کی حیثیت سے ہم سب نے بہت سے ہسپتالوں کا دورہ کیا ہے اور اپنے ملک کے کئی معصوم لوگوں کو قتل ہوتے دیکھا ہے، تاہم اب دہشت گردوں سے جوابی لڑائی لڑنے کا وقت آگیا ہے۔ تھریسا مے کے مطابق پچھلی دہائی کے دوران دنیا بھر کے ہزاروں افراد دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں، یہ ایک عالمی سانحہ ہے جو ہماری زندگی کو متاثر کرتا چلا جارہا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا، جب میں دنیا بھر میں موجود دہشت گردوں کے ہزاروں متاثرین کے بارے میں سوچتی ہوں جاری ہے

تو ان کے تباہ حال دوستوں، اہل خانہ اور برادریوں کا خیال آتا ہے، یہ سب اب بہت ہوچکا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں دہشت گردوں کے خلاف متحد ہو کر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ تھریسا مے نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پہلی بار گلوبل انٹرنیٹ فورم کے ذریعے حکومت اور صنعت ایک ساتھ سامنے آئی ہیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوششیں کی جاسکیں۔ برطانوی سربراہ کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ہمیں جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ پچھلے ادوار سے کہیں زیادہ مختلف ہیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔