سچے پیار کیلئے شادی کی تھی لیکن یہ تو ۸۵ سالہ بابے سے شادی کرنے والی پاکستانی لڑکی عدالت جاپہنچی اور ایسی بات کہہ دی کہ جج کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

سالہ شوہر سچا پیار نہیں دے سکا۔ رانجھا کے شہر تخت ہزارہ کے رہائشی 85 سالہ شخص غلام حیدر سے اس کی بیوی نے فیملی عدالت سے طلاق لے لی۔روزنامہ جنگ کے مطابق سرگودھا کے علاقہ تخت ہزارہ کے رہائشی 85 سالہ بزرگ غلام حیدر کا تنسیخ نکاح کا ایک مقدمہ سرگودھا کی فیملی عدالت میں زری سماعت تھا۔۔جاری ہے ۔

خاتون سول جج نوویزہ عباس نے سرگودھا کے چک 50 شمالی کی رہائشی غلام فاطمہ کی درخواست پر اس کے شوہر کو طلاق (خلع) موثر قرار دیتے ہوئے دونوں کی باضابطہ علیحدگی کا حکم دیا تو 85 سالہ غلام حیدر عدالت میں ہی آبدیدہ ہو گیا اور با ربار اپنی بیوی کو دیکھتے ہوئے ایک ہی مطالبہ کرتا رہا کہ میں اپنی سابقہ غلطیوں پر شرمندہ ہوں اور معافی مانگتے ہوئے اسے اپنے ساتھ رکھنے پر تیار ہوں۔جاری ہے ۔

لیکن غلام فاطمہ نے یہ کہہ کر غلام حیدر کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا کہ وہ ذہنی مریض ہے اور اس پر تشدد بھی کرتا ہے۔تخت ہزارہ کے رہائشی غلام حیدر نے بتایا کہا میری پہلی بیوی اور بیٹا فوت ہو گیا تھا، میں ایک مرتبہ پھر تنہا ہو گیا ہوں۔جاری ہے ۔

لیکن اب بھی طلاق کے باوجود نئی شادی کا خواہشمند بھی ہوں۔ غلام حیدر کے وکیل نے الزام لگایا کہ غلام فاطمہ نے محض دو لاکھ روپے ہڑپ کرنے کے لیے شادی کی تھی جو نہی رقم ہڑپ کی اس نے طلاق لے لی۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔