اللہ نے ہیجڑے کو کیوں بخش دیا؟؟حضرت عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی فرماتے ہیں، میں نے ایک جنازہ دیکھا جس کو تین مرد اور ایک عورت نے اٹھایا تھا، میں نے عورت کی جگہ لے لی، جنازہ کو قبرستان پہنچا کر دفن کرایا، پھر میں نے عورت سے ’’کیا آپ کے پڑوسی وغیرہ نہیں ہیں؟‘‘ کہنے لگی

حضرت عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی فرماتے ہیں، میں نے ایک جنازہ دیکھا جس کو تین مرد اور ایک عورت نے اٹھایا تھا، میں نے عورت کی جگہ لے لی، جنازہ کو قبرستان پہنچا کر دفن کرایا،۔۔۔جاری ہے

پھر میں نے عورت سے اس کا تعارف پوچھا، کہنے لگی، ’’یہ میرا بیٹا تھا‘‘ میں نے دریافت کیا ’’کیا آپ کے پڑوسی وغیرہ نہیں ہیں؟‘‘ کہنے لگی ’’ہیں، لیکن انہوں نے اسے حقیر جاناکیونکہ یہ مخنث (ہیجڑا) تھا، شیخ عبدالوہاب فرماتے ہیں۔۔۔جاری ہے

......
loading...

کہ میں نے اسی رات خواب میں سفید لباس میں ملبوس ایک شخص دیکھا جس کا چہرہ چودھویں رات کے چاندکی طرح چمک رہا تھا اس نے آ کر میرا شکریہ ادا کیا میں نے پوچھا ’’آپ کون؟‘‘ وہ کہنے لگا ’’۔۔۔جاری ہے

میں وہی مخنث ہوں جسے تم نے آج دفن کیا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے بخش دیا کہ لوگ مجھے حقیر سمجھتے تھے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔