کراچی میں خواتین پر پراسرار حملے،بڑی گرفتاری ہوگئی سنسنی خیزانکشافات

گلستان جوہر اور گلشن اقبال میں ایک درجن سے زائد خواتین پر تیز دھار چاقو سے حملہ کرنے والے ملزم کی گرفتاری سے متعلق اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس کے تحت ایک اہم ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق چاقو بردار شخص کی جانب سے دس سے زائد خواتین کو سر سراہ چلتی خواتین پر وار کرنے والے ملزم نے جہاں خواتین میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے وہیں عوام اور اعلی افسران کے دبا کے شکار پولیس نے بالآخر کیس میں اہم کامیابی حاصل کرلی ہے۔۔جاری ہے

۔ذرائع کے مطابق ایڈیشنل آئی جیکراچی نے چاقو بردار شخص کے حوالے سے ایک اہم شخص کی گرفتاری کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کے نہایت قریب پہنچ گئے ہیں گرفتار ملزم سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے اس اہم پیشرفت سے وزیراعلی سید مراد علی شاہ کو آگاہ کرنے کے لیے ایڈیشنل آئی جی کراچی وزیراعلی ہاس پہنچے اور اس پیشرفت سے متعلق اہم انفارمیشن شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ شب 15 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اسی سے متعلق چاقو بردار شخص سرگرم، تین گھنٹے میں چھ خواتین کو نشانہ بنایا ۔ایڈیشنل آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد میں سے ایک شخص کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہی چاقو بردار ملزم ہے تاہم ابھی تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے اور اس ملزم کی گرفتاری سے اہم معلومات کے حصول کا امکان ہے۔یاد رہے گزشتہ دو ہفتوں کے درمیان گلستان جوہر میں سات خواتین کو چاقو بردار شخص نے اپنا نشانہ بنایا جب کہ گزشتہ شب گلشن اقبال، یونیورسٹی روڈ اور گلشن جمال میں یکے بعد دیگرے محض تین گھنٹے کے دوران پانچ خواتین پر چاقو سے وار ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔۔۔جاری ہے

جس کے بعد وزیراعلی سندھ نے گزشتہ شب آئی جی سندھ کو فون کر کے چاقو بردار شخص کی عدم گرفتاری ہر برہمی کا اظہار کرتے ملزم کی جلد از جلد گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ گزشتہ رات خواتین پر ہونے والے چاقو حملے کی دو ایف آئی آر تھانہ شاہراہ فیصل اور عزیز بھٹی میں درج کرلئے گئے ہیں،جس کے بعد ان مقدمات میں درج ایف آئی آر کی تعداد 7 ہوگئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات گلشن اقبال میں نامعلوم چاقوبردار نے ڈیرھ گھنٹے کے دوران کارروائیاں کرتے ہوئے چار خواتین کو زخمی کردیا تھا، زخمیوں میں لائبہ، سونیا، نورین اور عریشہ شامل ہیں ،جس کے بعد گلشن اقبال ، گلشن جمال اور اطراف کے علاقوں میں خواتین میں خوف وہراس پھیل گیا تھا۔نامعلوم چاقو بردار کے ہاتھوں زخمی ہونے والی سونیا اورنورین نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مقدمات درج کرائے،مقدمات شارع فیصل اور تھانہ عزیز بھٹی میں درج کئے گئے۔پولیس کے مطابق مقدمات زخمی سونیا اورنورین کیاہل خانہ کی مدعیت میں درج کیے گئے۔ مقدمات نامعلوم حملہ آور کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔گلشن اقبال ویلفئیرکالونی میں 13 سالہ لائبہ، گلشن جمال میں سونیا، راشد منہاس روڈ پر نورین اور نیپا چورنگی کے قریب عریشہ نامی لڑکی کو چاقو کے وار سے زخمی ہوئی تھی،مقدمات نامعلوم حملہ آور کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں،۔۔جاری ہے

جس کے بعد چاقو بردار نامعلوم شخص کے خلاف مجموعی طور پر مقدمات کی تعداد سات ہوگئی ہے ۔دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ سول لباس میں ملبوس اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ جلد از جلد ملزم کا سراغ لگایا جاسکے۔گزشتہ روز مراد علی شاہ نے اس معاملے پر کارروائی عمل میں لاتے ہوئے آئی جی سندھ کو جلد ملزم پکڑنے کے احکامت بھی جاری کئے تھے۔ کراچی میں چاقو سے خواتین کو زخمی کرنے والا شخص قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے درد سر بن گیا، ملزم کہاں سے آتا ہے؟کہاں جاتا ہے؟ کس آلے سے وار کرتا ہے؟ پولیس کچھ پتا نہ لگا سکی۔تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم بائیں ہاتھ سے وار کرتا ہے، اگر وہ نفسیاتی ہوتا تو ہر واردات منظم نہ ہوتی، جبکہ گزشہ روز گلشن اقبال میں ہونے والے واقعے کی رپورٹ دو تھانوں کے درمیان حدود کے تنازع کے باعث اب تک درج نہ کی جاسکی ۔گزشتہ روز گلشن اقبال میں مزید 5 خواتین کونشانا بنایا گیا،اس سے قبل گلستان جوہر میں کئے گئے حملوں میں تفتیشی ذرائع کا کہنا تھا کہ ملزم نفسیاتی ہےلیکن گزشتہ روز کے واقعات کے بعد تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نفسیاتی ہوتا تو ہر واردات منظم نہ ہوتی، اب تک ہونے والی کسی بھی واردات میں ملزم کو شناخت کرنا ناممکن ہے۔ملزم نے گلستان جوہر کے بعد گلشن اقبال میں واردات کی،اگر ملزم نفسیاتی ہوتا تو ایسی حکمت عملی تیار نہیں کر سکتا تھا، ملزم کون ہے؟ کونسا تیز دھار آلہ استعمال کرتاہے؟۔۔جاری ہے

......
loading...

پولیس اب تک معلوم نہیں کرسکی۔ادھرگلشن اقبال بلاک 9 میں ہونے والے واقعے پر شارع فیصل تھانے اور عزیز بھٹی تھانے مین حدود کے تنازع پر واقعہ کی رپورٹ اب تک درج نہ کی جاسکی۔علاوہ ازیں گزشتہ روز خواتین پر ہونے والے 5 حملوں میں سے2 کے مقدمے شاہراہ فیصل تھانے میں درج کرلیے گئے، واقعات گلشن جمال اور گلشن اقبال بلاک 10میں پیش آئے۔پولیس کے مطابق مقدمات زخمی سونیا اورنورین کیاہل خانہ کی مدعیت میں درج کیے گئے۔ مقدمات نامعلوم حملہ آور کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق شارع فیصل تھانے میں اب تک خواتین پر حملوں کے 6 مقدمات درج کیے چکے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کے نائب صدر علی اکبر گجر نے کراچی میں خواتین پر حملوں کے سنگین واقعات کو بڑی سازش کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیا خواتین کو نشانہ بنانا خواتین کو گھروں میں قید رکھنے کی دہشت گردوں کی کوششوں کا حصہ تو نہیں جو وہ پاکستان سمیت تمام عالم اسلام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں.۔۔جاری ہے

پاکستان مسلم لیگ(ن)سندھ کے نائب صدر علی اکبر گجر، ضلعی رہنماں سلطان بہادر خان، علی عاشق گجر، محمد اسلم خٹک، رانا صفدر جاوید، صوبائی رہنماں غلام مصطفی ایڈووکیٹ،حاجی امین مانا، اقبال خاکسار، صالحین تنولی، سردار محمد نذیر، حاجی پرویز تنولی، رفیق خان، وقار تنولی، فصیح الرحمن، راو اسلم، رانا عارف، اعجاز باجوہ،رانا رضوان، اسامہ گجر، اظہر حسین گجر نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سندھ حکومت ایک چھلاوے نما مجرم کے سامنے بے بس ہوچکی ہے. بادی النظر میں یہ کوشش پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی خواتین کو گھروں میں قید کر دینے کی سازش نظر آتی ہے جو کسی فرد واحد کا کام نہیں ہو سکتا.پولیس رینجرز اور متعدد اہم اداروں کی موجودگی میں دو کروڑ سے زائد شہریوں کو غیر محفوظ بنانے کے پیچھے کوئی منظم گروہ بھی ہو سکتا ہے اور کسی دہشت گرد تنظیم کا ملوث ہونا بھی خارج از امکان نہیں. پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کے نائب صدر علی اکبر گجر نے کراچی میں خواتین پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ناقص حکمرانی کا سب سے بڑا ثبوت عوام کو گھروں تک محدود کرنے کے وہ فیصلے ہیں جن کی بدولت ڈبل سواری پر پابندی لگائی جاتی ہے۔۔جاری ہے

کبھی موبائل فون بندکئے جاتے ہیں تو کبھی شہر کو کنٹینر لگا کر بند کردیا جاتا ہے. سندھ حکومت صوبے کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے. دو ہفتوں کی کاروائیوں کے باوجود سندھ پولیس ایک تنہا مجرم یا اس کے گروہ یا اس مجرمانہ اور گھناونے فعل کے پیچھے کسی دہشت گرد تنظیم کا سراغ لگانے میں ناکام جبکہ سندھ کی حکمران جماعت بڑے بڑے دعوے اور اشتہارات کے ذریعے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہے.سندھ میں انتظامی مشینری اور حکومتی اقدامات کہیں دکھائی نہیں دیتے کراچی سمیت صوبہ سندھ مکمل طور پر جنگل کے قانوں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے. کراچی اور دیگر شہروں میں صفائی کے معاملات میں مکمل ناکام صوبائی حکومت اب عوام کی جان کی حفاظت کرنے میں بھی ناکام ہوچکی ہے. سندھ حکومت کی ایک مجرم تک پہنچنے میں مکمل ناکامی سندھ کے عوام کے لئے پیغام ہے۔۔جاری ہے

کہ اپنے شہروں کے بلدیاتی مسائل کے ساتھ اب اپنی حفاظت بھی سندھ کے عوام کو خود کرنا ہونگے.پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کی قیادت اور کارکنان سندھ کی انتظامیہ کی نا اہلی کی مذمت کرتے ہیں اور وفاقی حکومت سے درخواست کرتے ہیں فوری طور پر کراچی کی خواتین کو خوف و دہشت کے واقعات سے تحفظ کے لئے اعلی سطحی اقدامات کا فیصلہ کرے.

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔