لڑکیاں گھروں سے کیوں بھاگتی ہیں

ہم اپنے گھروں میں ایسا ماحول پیدا کر دیتے ہیں کہ جس میں بچوں اور خاص طور پر لڑکیوں کو یقین ہوتا ہے کہ ان کی جائز خواہشات کہ جن کا حق انہیں مذہب نے اور قانون نے دیا ہے وہ کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ اب یہ خواہشات شادی بیاہ سے متعلق بھی ہو سکتی ہیں اور کرئیر کے انتخاب سے متعلق بھی۔ اس کی ایک دوسری شکل بھی ہے ہم اپنے بچوں اور خاص طور پر لڑکیوں پر اپنے ایسے فیصلے مسلط کرتے ہیں۔۔۔جاری ہے

جو ہماری اور معاشرے کی نظر میں درست ضرور ہوں مگر وہ مذہب کی نظر میں بھی غلط ہوتے ہیں اور قانون کی نظر میں بھی۔ اس کو بھی ایک مثال سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ فرض کریں میں ایک والد ہوں اور اپنی بیٹی کی شادی چودہ یا پندرہ سال کی عمر میں کرنا چاہتا ہوں۔ اب میری نظر میں یہ فیصلہ بے شک ایک درست فیصلہ ہو کیونکہ میں بروقت اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو جاؤں گا مگر یہ فیصلہ قانون کی نظر میں ایک جرم ہے اب اس صورت حال میں میں نے اپنی بیٹی لئے کیا آپشن چھوڑا ہے۔ یہ کہ وہ میرے جرم پر قربان ہو کر اپنی ساری زندگی برباد کر دے یا پھر کسی طرح بھاگ کر اپنی جان بچانے کی اپنی سی کوشش کر دیکھے۔ ابھی بھی ہمارا معاشرہ اس قسم کا ہے کہ سو میں سے ننانوے بیٹیاں اپنے والدین کی ناجائز اور غیرقانونی خواہشات کی بھینٹ چڑھ کر اپنی ساری زندگی سسک سسک کر گزارنے پر راضی ہو جاتی ہیں۔۔۔جاری ہے

مگر کوئی ایک ان ناجائز اور غیرقانونی خواہشات پر قربان ہونے کی بجائے اپنے جائز اور قانونی حق کے تحفظ کے لئے گھر سے نکل جاتی ہے تو ہم اسے گھر سے بھاگنے والی غلیظ اور بد کردار لڑکی قرار دے کر میڈیا کو کوسنے دینا شروع ہو جاتے ہیں کہ میڈیا نے اسے یہ راہ دکھائی مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اسے یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہم نے کیا۔ہم سب اپنی زندگیوں میں بہت سے فیصلے کرتے ہیں۔ ان میں سے چھ فیصلے صحیح ثابت ہوتے ہیں اور کچھ غلط۔ یہ عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ ادھیڑ عمری میں بھی آکر بے شمار لوگ غلط فیصلے کرتے ہیں کیوں کہ عام طور پر ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ کہ ہمارے فیصلے کی کیا نتائج ہوں گے۔ گویا صحیح یا غلط فیصلوں کا عمر سے تعلق تو ہے مگر اتنا زیادہ نہیں جتنا ہم نے سمھ رکھا ہے اگر ایسا ہوتا تو جناب عمران خان اور جناب نواز شریف اپنی ساٹھ ساٹھ عمروں کے ساتھ اور اپنے عمر رسیدہ مشیروں کے ساتھ ایسی بونگیاں ناں مار رہے ہوتے جیسی کہ ہمیں پر روز دکھائی دیتی ہیں۔۔۔۔جاری ہے

تو ہم اپنے بچوں کو یہ حق دینے پر کیوں آمادہ نہیں ہوتے کہ وہ اپنی زندگیوں کے فیصلے خود کریں اور اس میں صحیح یا غلط ہونے کے امکان کی ذمہ داری اٹھائیں۔اس سے بھی بدتر صورتِ حال وہ ہوتی ہے جس میں ہم اپنے بچوں کی خواہشات کو اس لئے نہیں مسترد کرتے کہ ان کا یہ فیصلہ صحیح یا غلط ہے بلکہ اس لئے رد کرتے ہیں کہ ان کا فیصلہ ہماری رسوم روایات اور رواجوں یا جعلی معیارات کے خلاف ہے چاہے وہ اسلام اور قانون کی نظر میں درست ہی کیوں نہ ہو۔ برادری سے باہر شادی نہ کرنے کی روایات ہوں یا اپنے سے معاشی اور سماجی لحاظ سے کم تر طبقات میں شادی کرنے سے انکار، دونوں ہی اسلام اور قانون دونوں کی نظر میں غلط ہیں۔ گویا جرم ہم کریں اور توقع یہ کریں کہ سزا ہامرے بچے اور خاص طور پر بیٹیاں ہنسی خوشی بھگتیں۔ ورنہ نافرمان کا لقب پائیں اور بدکردار کہلائیں۔۔۔۔جاری ہے

قصہ مختصر یہ کہ جناب بچوں اور خاص طور پر اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے بچون کو اسلام اور قانون یہ حق دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگیوں سے متعلق فیصلے کریں چاہے وہ غلط فیصلے ہی کیوں نہ ہوں کیوں کہ یہ ان کی زندگیاں ہیں۔ اور ہم کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم ان کی نام نہاد بھلائی کے نام پر اپنی مرضیاں تھوپیں۔ یقیناً والدین اور خیر خواہان کی حیثیت سے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان کو سمجھائیں ان کو کو برا بھلا بتائیں اور ان کو اپنے فیصلوں کے نتائج اور عواقب سے آگاہ کریں۔۔۔جاری ہے

مگر اس کے بعد ان کو فیصلہ کرنے کا حق دیں اور اسے قبول کریں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمیں میڈیا کو الزالم دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی کہ اس نے ہمارے بچے بگاڑ دیے اور انہیں گھروں سے بھاگنے پر اکسایا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news