امریکہ اور پاکستان دونوں جھوٹ بول رہے ہیں، مغوی امریکی خاتون نے خاموشی توڑ دی

چند روز قبل بازیاب ہونے والی مغوی امریکی خاتون کیٹلن کولمین نےاپنی اسیری سے متعلق پہلی مرتبہ زبان کھولتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بارے میں پاکستانی اور امریکی حکام جھوٹ بول رہے ہیں ،وہ نہ تو پانچ سال سے پاکستان میں تھیں اور نہ ہی انہیں پاکستان منتقل کرتے وقت بازیاب کیا گیا-۔۔جاری ہے ۔


کیٹلن کولمین نے کینیڈین اخبار ٹورنٹو سٹار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ اِس لیے اپنی خاموشی توڑ رہی ہیں کیونکہ اُن کی قید اور بازیابی کے بارے میں متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک سال قبل انہیں شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ منتقل کیا گیا اور انہیں جن گھروں میں منتقل کیا گیا انہیں ان کے نام تک یاد ہیں-انہوں نے بتایا کہ آخری گھر جس میں انہیں قید رکھا گیا اس کا نام “دارالموسیٰ “ تھا-انہوں نے دعویٰ کیا ہے اس گھر کے باہر بلا ناغہ ٹریننگ کا سلسلہ جاری رہتا-
جب انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہوتا تو نشہ آور ادویات دیکر گاڑی کی ڈگی میں چھپا دیا جاتا-۔۔جاری ہے ۔


اپنے شوہر کے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ طالبان نے ان کا ریپ کیا -طالبان کی طرف سے ان کے شوہر پر دبائو تھا کہ وہ حقانی گروپ میں شمولیت اختیار کر لیں-انکار پر ان کی ایک بیٹی کو قتل کیا گیا لیکن یہ قبل از پیدائش قتل تھا۔کیٹلن کولمین کے بقول وہ حاملہ تھیں تو انہیں کھانے میں اسٹروجن کی بہت زیادہ مقدار دی جاتی جس سے حمل ضائع ہو گیا-کولمین نے بتایا کہ انہوں نے ضائع ہو جانے کے بعد اس بچی کا نام ‘شہید‘ رکھ دیا اور اس کے بعد حمل کو اغواکاروں سے چھپا کر رکھا گیا-ان کے شوہر نے ایک ٹارچ کی مدد سے انہیں بچہ پیدا کرنے میں مدد دی اور عمل زچگی کو پوشیدہ رکھنے کی خاطر وہ یہ تکلیف سہہ گئیں –۔۔جاری ہے ۔


دوران قید بچےپیدا کرنے کے فیصلے سے متعلق انہوں نے اتنا کہا کہ ان کی ہمشیہ سے خواہش تھی کہ ان کا خاندان بڑاہو-کولمین کا تعلق ایک انتہا پسند مسیحی فرقے سے ہے ،وہ اس انٹریو کے دوران باحجاب نظر آئیں اور بقول ان کے انہوں نے قید کے دوران بھی حجاب کرنا ترک نہیں کیا-مگر جب جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے اسلام تو قبول نہیں کر لیا تو انھوں نے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ‘نو کمنٹ

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news