آٹھ قسم کے لوگوں سے بچ کر رہیں

سب سے پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو دوسروں کی غیبت اور عیب جوئی کرتے ہیں۔ یہ لوگ عموماً خود کو بہت پھنے خان تصور کرتے ہیں اور ہر انسان کو منہ پرطعنے دینے میں اور بدمعاشی میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ دوسرے لوگوں کی زندگی کی تمام تر تفصیلات حاصل کرنے کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اور اندر ہی اندر دوسرے لوگوں کی ناکامیوں پر مسرت محسوس کرتے ہیں۔جو دوست یار ہر وقت آپ سے آپ کی اور اوروں کی زندگی کے حالات و واقعات کے بارے میں سوالات کرتے رہیں۔۔۔۔جاری ہے۔

ان سے حد درجہ دور رہیں کیونکہ یہ اوروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کے عادی ہوتے ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو بری عادات کا شکار ہوتے ہیں اور کوئی بھی تخلیقی یا تعمیراتی کام انجام نہیں دیتے۔ ان سے اجتناب کریں۔ یہکریں۔یہ خود کو مسلسل برباد کرنے پر تلے رہتے ہیں اور کوئی کام کا کام نہیں کرتے۔ یہ باقی لوگوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں حالانکہ دراصل ان کا اپنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ان کی کامیابی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ تیسری قسم کے لوگ خود کو پھنے خان سمجھتے ہیں اور دن رات ’میں میں ‘کی رٹ لگائے رکھتے ہیں۔ یہ دن رات اپنی ذات کی خوبیاں الاپنے کے عادی ہوتے ہیں اور دراصل کسی کام کے نہیں ہوتے مگر اپنی بات کرتے نہیں تھکتے۔ ان کو آپ کی زندگی یا مسائل سے کوئی دلچسپی یا لینا دینا نہیں ہوتا۔۔۔۔جاری ہے۔

وہ صرف اپنے بارے میں باتیں کرنا پسند کرتے ہیں۔چوتھی قسم کے لوگ انتہائی اور شدید جذباتی ہوتے ہیں۔ یہ نا صرف چھوٹی چھوٹی باتوں پر پہاڑ کھڑے کر لیتے ہیں بلکہ یہ یا تو خود ترسی میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنے رونے روتے رہتے ہیں یا مسلسل دوسرے انسان پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد ہی اسی غم کی حالت میں زندگی بسر کرنا ہوتا ہے۔ یہ آگے بڑھنے یا ترقی کرنے کے خواہاں نہیں ہوتے۔ان کو وقت ضائع کرنے کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ان سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ پانچویں قسم کے لوگ وہ ہیں جو ہر وقت تیار شیار رہتے ہیں اور لش پش لگتے ہیں۔ انہیں آپ نے کبھی بکھرے بالوں اور منہ دھلے بغیر نہیں دیکھا ہو گا۔۔۔۔جاری ہے۔

......
loading...

ہر وقت صاف ستھرے تیر شیار نظر آتے ہیں۔ ان کا ظاہر ان کے باطن کے بالکل بر عکس ہوتا ہے۔ یہ شدید احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور اپنا ظاہر اچھا بنا کر لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ کسی کا سہارا بننے کے قابل نہیں ہوتے جبکہ ان کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ اگر خود کو اتنا سنبھالا ہوا ہے تو اور لوگوں کو بھی سہارا دے سکتے ہوں گے۔یہ لوگوں کے سامنے صرف اپنی خوبیاں الاپتے ہیں ، کبھی اپنا کوئی عیب نہیں بتاتے۔ ان کی فیس بک وال بھی ان کے کارناموں، میڈلز اور جاب شاب کی ٹرافیوں کی تصاویر سے بھری رہتی ہے۔چھٹی قسم سے تو ہمیشہ دور بھاگیں یہ وہ لوگ ہیں جو ہر ایرے غیرے کو نصیحت کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔۔۔جاری ہے۔


یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو سب کچھ معلوم ہے اور یہ باقیوں سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ ہر محفل میں بیٹھ کر اپنا علم جھاڑنا ان کی خصلت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ بھی اپنا وقت اور موڈ برباد مت کریں۔ساتویں قسم کے لوگ آپ کے حق میں زہر سے بھی کڑوے ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کی ہر حرکت اور ہر حلیے پر تنقید کرتے ہیں۔ یہ دراصل آپ سے حسد میں مبتلا ہوتے ہیں اور آپ کو کوئی بھی انعام یا تمغہ جیتتے نہیں دیکھ سکتے۔ یہ آپ کی نوکری، کپڑوں جوتوں گاڑی وغیرہ کا مزاق بنا بنا کر آپ پر ہنستے رہتے ہیں۔ یہ آپ کے خیر خواہ نہیں بلکہ آپ کی جڑیں کاٹنے میں جتے رہتے ہیں۔آپ کا سچا دوست اور ساتھی وہ ہے جو آپ کے کارناموں پر آپ سے زیادہ چھلانگیں لگائے اور ناچے اور آپ کا حوصلہ بلند کرے کہ محنت کرتے رہو۔۔۔۔۔جاری ہے۔

آخری قسم کے لوگ وہ ہیں جو آپ کے رونے اور پریشان ہونے کو حقیقی خیال نہیں کرتے۔ یہ آپ کو بچہ یا بے وقوف تصورکرتے ہیں۔ ان سے فوراً کنارہ کشی اختیار کریں کیونکہ یہ آپ کی کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ آپ چاہے معمولی بات پر روئیں یا بڑی بات پر، آپ کا دوست وہ ہے جو آپ کی ٹینشن میں کمی کا باعث بنے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔