” میں نے دیکھا گاڑی کی پچھلی سیٹ پر معصوم بچی کے ساتھ اس کا ملازم بیٹھا تھا، دیکھتے دیکھتے اس نے لڑکی کی قمیض اٹھائی اور ۔۔۔ “ شہری نے کراچی کی سڑک پر پیش آنے والا ایسا واقعہ بتادیا کہ تمام پاکستانی والدین کانپ اٹھیں گے

آئے روز بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے افسوسناک واقعات کی خبریں سننے کو ملتی ہیں لیکن اس کے باوجود بہت سے والدین اس پہلو سے طوطا چشمی کرتے ہیں اور بچوں کی طرف توجہ نہیں دیتے ۔ بعض لوگ اپنے گھریلو ملازمین پر اتنا زیادہ بھروسہ کرتے ہیں کہ انہیں نہ صرف بچوں کی مکمل ذمہ داری سونپ دیتے ہیں۔۔۔۔جاری ہے۔

بلکہ ان کے خلاف کوئی بات بھی سننا گوارا نہیں کرتے ۔ والدین کے اندھے اعتماد کا ایک واقعہ کراچی میں بھی پیش آیا جہاں اجنبی شخص نے ایک چھوٹی بچی کے والدین کو جب ان کے گھریلو ملازم کے کرتوت بتائے تو اس کی والدہ نے بات سننے سے ہی انکار کردیا۔شیخ جنید کمال نامی کراچی کے شہری نے فیس بک پر ایک چھوٹی بچی کے ساتھ جنسی ہراسگی کا واقعہ بیان کیا ہے۔ شہری نے بتایا کہ اس نے نکسر کالج سگنل کے قریب دوپہر ساڑھے 12 بجے سگنل پر ایک گاڑی دیکھی جس کی پچھلی سیٹ پر ایک چھوٹی بچی ایک آدمی کے ساتھ کھیل رہی تھی ،۔۔۔۔جاری ہے۔

دونوں گاڑیاں ایک ساتھ چلتی رہیں اور جب ہم کھڈا مارکیٹ کے سگنل پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ بچی اپنے گھریلو ملازم کے ساتھ کھیل رہی ہے جبکہ ڈرائیور گاڑی چلانے میں مصروف ہے اور آگے دیکھ رہا ہے۔ ’ میں نے دیکھا کہ گھریلو ملازم چھوٹی سی بچی کو غلط جگہ پر ہاتھ لگا رہا ہے ، مجھے اس وقت حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب اس نے بچی کا قمیض اوپر اٹھایا اور اس کا منہ اپنی ٹانگوں میں دبالیا‘شیخ جنید کمال نے مزید بتایا کہ گھریلو ملازم نے بچی کا منہ اپنی ٹانگوں میں دینے کے بعد اس کے اوپر تکیہ رکھ لیا تاکہ کوئی اسے دیکھ نہ سکے،۔۔۔۔جاری ہے۔

اس کے علاوہ اس نے بچی کو دو سے تین بار اپنی گود میں بھی بٹھایا۔ ’ یہ منظر دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میں نے ان کا پیچھا کرنا شروع کردیا، وہ گاڑی نیول ہاﺅسنگ سکیم میں زمزمہ کمرشل کے پچھلی طرف واقع ایک گھر میں گئی‘۔شہری نے آگے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ اس نے گھر کے دروازے پر دستک دے کر بچی کی والدہ سے ملاقات کی اور اسے بتایا کہ ان کا گھریلو ملازم ان کی بیٹی کو جنسی طور پر ہراساں کر رہا تھا۔ یہ بات سنتے ہی خاتون نے زور سے دروازہ بند کیا اور گھر کے اندر چلی گئی۔ ’ خاتون کے اس رد عمل پر میں ہکا بکا رہ گیا، لیکن پھر میں نے سوچا ممکن ہے کہ خاتون کو شاک لگا ہو اور وہ کسی اجنبی کے ساتھ اس موضوع پر بات نہ کرنا چاہتی ہو‘۔۔۔۔۔جاری ہے۔

شیخ جنید نے کہا بچے نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے کیونکہ انہیں تو صرف یہ پتا ہوتا ہے کہ وہ کھیل رہے ہیں، لیکن یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو سمجھائیں کہ اگر کچھ بھی غلط ہوتا ہے تو اس کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کریں۔ آخر لوگ اپنے مرد ملازمین کو اکیلے ہی بچوں کو سکول لینے کیوں بھیجتے ہیں؟ آئے روز خبروں میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعات کے باوجود بھی بہت سے لوگ اس طرف توجہ نہیں دیتے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news