بیوی کو خوش کرنے کا طریقہ۔ نوٹ: صرف شادی شدہ مردوں کے لئے

سیکس کی تعلیم٭مردوں میں سیکس کے مراحل:مرد میں سیکس کی بیداری کے 4مراحل ہیں۔پہلا مرحلہ:عورتوں کی طرح مردوں کو جنسی عمل کیلئے پیار کے کھیل کی ضرورت نہیں ہوتی جبگکہ چند افراد اس ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔مردوں میں سیکس کی آمادگی کا آغاز عضو تناسل کے کھڑے ہو جانے سے ہی ہو جا تا ہے۔جاری ہے۔

۔ نوجوانوں میں عضو تناسل کی اکڑاہٹ فوری طور پر ہوتی ہے کہ جبکہ بڑی عمر کے مردوں میں کچھ دیر سے ۔ چونکہ موجودہ صدی تناؤ کی صدی ہے جہاں مردوں کو گھریلو ضروریات زندگی پوری کرنے کیلئے شدید محنت اور ذہنی دباؤ برداشت کرنا پ؂ڑتا ہے جبکہ عورتیں گھر میں پڑی میڈیادیکھ دیکھ کر اپنے جنسی جذبات پور ی طرح بھڑکا چکی ہوتی ہیں اور اس انتظار میں ہوتی ہیں کہ کب مرد گھر آئے اور وہ اپنی دلی خواہشات کو عملی جامعہ پہنچائیں جبکہ مرد تھکا ہارا گھر آتا ہے ایسی حالت میں وہ اچھی طرح جنسی فعل انجام نہیں دے سکتا ہے ۔ سمجھدا ر عورت کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے مرد میں سیکس کی حس بیدار کرے ، خوبصورت کپڑے زیب دن کر کے اچھی طرح بن سنور کر، دیدہ زیب مسکراہٹ سے یا بعض پرفیوم مردوں کے حسی نظام میں جنسی تحریک پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد مرد کے مثبت رد عمل سے اس کا جسم کا ہلکا سا مساج اس کی ساری تھکاوٹ اتار دیتا ہے۔۔جاری ہے۔

براہ راست جنسی اعضاء کی تحریک مردوں میں جلد منی کے اخراج کا باعث بنتی ہے جو کہ عورت کی جنسی تشنگی کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ مردوں کی حیرت انگیز حد تک جنسی مشتعل کیا جاسکتا ہے۔ اگر ان کے جسم کے حسیاتی نسوں کے سروں پر ہلکا سا مساج کیا جائے مثلاً رانیں ، معدے کے سامنے کا پیٹ، کہنیوں کے اندرونی حصے ، عضو تناسل کے اپور کا ابھار، گردن کے اطراف اور کندھوں پر
دوسرا مرحلہ:اس میں مزید خون عضو تناسل میں پہنچتا ہے اور عضو پہلے سے بڑا ہا جاتا ہے۔ ؂تیسر امرحلہ:مختلف پتھوں کے سکڑنے سے منی کا اخراج ہوتا ہے کا ر پورا کیورنسا ااور کارپرا سپنجیوزم جو کہ عضو کے اندر خلا دار سلنڈر ہوتے ہیں جن میں سے خون نکلنا شرو ع ہو جاتا ہے یادر ہے کہ عضو تناسل کے اندر کوئی پٹھا نہیں بلکہ عضو تناسل کی سختی اس میں خون کے بھرنے سے ہوتی ہے۔
چوتھا مرحلہ:مردانہ عضو تناسل منی کے اخراج کے بعد ڈھیلا ہو جاتا ہے۔ اور اپنی پہلے والی حالت پر دوبارہ آجا تا ہے۔ ٭زنانہ جنسی اعضاء اور انکے افعال:مردا ور عورت کے جنسی اعضاء میں بہت فرق ہے اس فرق کی بنا پر دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ عورت کی جنسی اعضاء کو دو حصو ں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ۱۔ وہ اعضاء جن کو ہم باہر سے سیکھ سکتے ہیں۲۔ وہ اعضاء جو جسم کے اندر ہوتے ہیں اور جنہیں ہم دیکھ نہیں سکتے۔جاری ہے۔

عورت کے بیرونی جنسی اعضاء کو مجموعی طور پر اندام نہانی کہا جاتا ہے جس حصے پر بال ہوتے ہیں انہیں بیرونی لب کہا جاتا ہے۔ لب جنسی طورپر بہت حساس ہوتے ہیں اگر بیرونی لبوں کو کچھ کھولا جائے تو سب سے نیچے فرج ہے یہ اوپر نیچے دیواریں ہوتیں ہیں۔جو آپس میں ملی ہوتی ہیں۔ فرجVagina کی عمومی لمبائی ساڑھے تین تا ساڑنے چار انچ ہوتی ہے مرد اس سے مباشرت کرتا ہے ۔ اسی سے حیض کا خون باہر آتا ہے ۔ اور اسی سے بچے کی پیدائش ہوتی ہے ۔ فرج کے منہ کے کچھ اندر ایک جھلی سی ہوتی ہے جسے پردہ بکارتHaymenکہتے ہیں۔ فرج کے اوپر پیشاب کی نالی ہوتی ہے۔ جس کے ذریعے پیشاب مثانے سے باہر آتا ہے۔ اس کے اوپر جہاں اندرونی لب ختم ہوتے ہیں۔ وہاں بطر Clitoris ہوتا ہے جو مٹر کے دانے کے برابر مرغی کی کلغی کی طرح ہو تا ہے۔ اس کا سائز عموماً1/4تا1/5 امچ ہوتا ہے۔ اس کے اوپر ایک ایک ٹوپی Hood ہوتی ہے ۔ جنسی لحاظ سے عورت کا سب سے حساس حصہ یہی ہوتا ہے۔ جنسی لطف کے علاوہ اس کا کوء مقصد نہیں۔عورت کے اندرونی جنسی اعضاء میں اہم ترین حصہ جی سپاٹG-spotہے۔ بظر کے بعد جنسی لحاظ سے یہ دوسرا حساس حصہ ہے ۔۔جاری ہے۔

اگر عورت منہ آسمان کی طرف تو اس کی ناف کے نیچے فرج کی اوپر والی دیوار میں ایک تا ڈیڑھ انچ اندر کی طرف ہوتا ہے۔ یہ عموماً چھوٹے لوبیے کی شکل کا ہوتا ہے۔ اس میں اشتعال سے عورت زبردست جنسی تسکین حاصل کر تی ہے۔ مگر یہ جنسی تسکین اور مباشرت سے مختلف ہوگی۔ جی سپاٹ کے اشتعال سے 45فیصد عورتیں رطوبت کا اخراج کرتی ہیں۔ رج کے خاتمہ پر بچہ دانی ہوتی ہے۔ جس میں بچے کی نشوونما ہوتی ہے ۔ بچہ دانی امرودکی شکل کی ہوتی ہے ۔ اس کی دیوار یں مضبوط ہوتی ہیں۔ بچہ دانی کا نہ فرج میں کھلتا ہے ۔ بچہ دانی کے دونوں طرف دائیں اور بائیں دو نالیاں ہوتی ہیں۔ ان کو قاذف نالیاں کہا جاتا ہے۔ قاذف نالیاں ایک طرف بچہ دانی سے ملی ہوتی ہیں جبکہ دوسرے سرے پر بیض دانیوں سے ملی ہوتی ہیں۔ بیضہ دانیوں کی تعداد دو ہوتی ہیں۔ بیضۃ دانیوں میں لاکھوں تعدا د میں بیضے ہوتے ہیں۔ ہر ماہ باری باری سے بیضہ دانیوں میں سے کسی ایک سے بیضہ نکلتا ہے۔ بیضہ ریزی Ovulation کے وقت ایک انڈہ کسی ایک بیضہ دانی سے نکل کر متعلقی قاذف کی نالی میں آجاتا ہے۔ دوسری طرف سے مرد کا نطفہ آتا ہے دونوں کے ملاپ سے حمل ٹھہرجاتا ہے ۔ جونہی بیضہ اور سپرم ملتے ہیں تو پھر یہ بچہ دانی میں آجاتے ہیں جہاں بچے کی پرورش ہوتی ہے۔۔جاری ہے۔


٭عورتوں میں جنسی آمادگی کے عوامل:۱۔ مرد نفسیاتی یا تخیلاتی طور پ جنسی فعل کیلئے آمادہ ہو جاتا ہے۔ لیکن عورتیں دیکھنے کی نسبت چھونے سے زیادہ تر جنسی فعل کی طرف آمادہ ہو جاتی ہیں۔۲۔ مرد ہر کہیں اورہروقت جنسی فعل کیلئے آمادہ ہو سکتا ہے ۔ لیکن عورتوں کیلئے مناسب ماحول جی ضرورت ہوتی ہے ۔ رات کے سناٹے میں ، محبت بھری سرگوشیاں یا بالکل خاموشی اورتحفظ کا احساس یہ یہی وہ مناسب ماحول ہے جس میں عورت جنسی طور پر آمادہ ہو کر آخری منزل تک پہنچ جاتی ہے۔ ۳۔ ایسا معاشرہ جس میں سیکس پر بات کرنا گنا ہ اور شادی سے پہلے عورت کو ہاتھ لگانا جرم ہو تو ایسے معاشرے میں پروان چرھی ہوئی عورت جنسی آمادگی کے ساتھ ایک جرم اور گناہ کا احساس پیدا کر لیتی ہے ۔ اس کے برعکس آذاد ماحول میں پروان چڑھتی ہوئی عورت آذادانہ طور پر جنسی آمادگی ظاہر کرے گی اور اس کو جسم کی بنیادی ضرورتو ں میں شمار کرے گی ۴۔ بعض چھوٹے چھوٹے ایسے عوامل ہیں جن کی بنا پر ایک مر سے جلد جنسی طور رپر آمادگی ظاہر کر دیتی ہے۔ بعض خواتین اپنے ساتھی سے سچا پیار کرتی ہیں۔۔جاری ہے۔


۵، عورت کی سیکس کی خواہش حیض سے فوراً پہلے بہت شدد ہوتی ہے۔ اور ان دنوں اگر سیکس کیا جائے تو فوراً سیکس کیلئے تیار ہو جاتی ہیںَ بہت گرم جوشی سے شدت سے ساتھ دیتی ہیں۔۶۔ عورتوں میں جنسی آمادگی مردانہ سیکس ہارمون (ٹیسٹوسٹران) اور مردوں میں جنسی آمادگی زنانہ سیکس ہارمون (آسٹروجن) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایک عورت میں ان دونوں ہارمون کی مناسب مقدار جنسی آمادگی میں بہت اہم کردا ر انجام دیتی ہے۔ ٭جنسی آمادگی روکنے والے عناصر:۱۔ اکثر غیر شادی شدہ خواتین حمل کے ڈر سے جنسی طور پر آمادہ نہیں ہوتیں۔۲۔ بعض لڑکیاں پردہ بکارت کی ااور اپنی عصمت کی حفاظت کی خاطر جنسی طور پر آمادہ نہیں ہوتیں۔۳۔ مذہبی گرفت، خاندان کی عصمت اور معاشرتی عزت اکثرلڑکیوں کو جنسی طور پر آمادہ نہیں ہونے دیتے۔۴، بڑے شہروں میں یہ ہنگامہ گونج رہا ہے کہ فحاشی عام ہے ۔ ۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی لرکیاں کھلے بندوں ملک سکتی ہیں۔جاری ہے۔

یہ بات اور اندازے کسی حد تک درست مانے جاسکتے ہیںَ۔ بہت ہی معمولی تعداد میں وہ لڑکیاں ہیں جن کو لڑکے شادی کا چکر دے کر ان کی عصمت سے کھیلتے ہیں۔ لیکن ایک عرصہ کے بعد چھوڑ کر دوسری لڑکی کی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اور یہ لڑکیاں دل برداشتہ ہو کر عزت ناموس کی ہر حد عبور کر دیتی ہیںَ۔ دوسری کلاس ان لڑکیوں کی ہے جو مالی مسائل کا شکار ہیں۔ نوکری اور روپے پیسے کا لالچ دے کر ان سے سیکس کیا جائے لیکن کچھ عرصہ بعد یہی لڑکیاں مکمل طور پر کمرشل جاتیں ہیں۔ لیکن ان لڑکیوں کی تعداد بہت کم ہے۔ جو صرف سیکس اپنی جسمانی خواہش کو بجھانے کیلئے کرتی ہیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔