iگیارہ سعودی شہزادوں،4موجودہ،34سابق وزرا کی گرفتاریاں ان گرفتاریوں کے پیچھے راحیل شریف کا کیا کردار رہا،دھماکہ خیز انکشافات

سینئر صحافی اور سینئر اینکر پرسن ارشد شریف نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن جن ممالک کے ساتھ پاکستان کا الائنس ہے ان کو دیکھیں کہ وہاں کیسے احتساب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک چین سمیت اب سعودی عرب میں بھی کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔۔جاری ہے۔

یہاں بھی کرپشن کے خلاف جو مہم چل رہی تھی،اب اس سے متعلق بھی مطالبہ آئے گا کہ اس پر عملی اقدامات کیے جائیں۔اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہےکہ پاکستان میں بھی وی وی آئی پی احتساب ہونا چاہئیے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ ارشد شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل(ر) راحیل شریف بھی وہاں موجود ہیں اور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ضرب عضب سے ضرب غضب تک کا سفر ہے۔ ضرب عضب کے آغاز میں یہ کہا جاتا تھا کہ دہشتگردوں کا جو گٹھ جوڑ موجود ہے اسے ختم کردیں گے اور ایسا ہی ہوا، راحیل شریف کی محمد بن سلطان کے ساتھ ان کی تصاویر بھی آئیں۔جب وہ آرمی چیف تھے تب بھی کرپشن کو ختم کرنے کی بات کی جاتی تھی کیونکہ کرپشن کا یہی پیسہ دہشتگردی میں استعمال کیا جاتا تھا ، لیکن یہاں پر اس طرح سے عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔۔جاری ہے۔

 

پانامہ کیس میں اور لوگوں کے نام بھی آئے لیکن ڈیڑھ سال میں ہم ایک کیس کا بھی فیصلہ نہیں دے سکے ،دوسری جانب امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی بار بار پٹیشن دائر کر رہے ہیں کہ پانامہ لیکس میں موجود دیگر لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ ارشد شریف کا پروگرام کے دوران کہنا تھا کہ آج سعودی عرب میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اثرات پاکستان میں بھی مرتب ہوں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کیخلاف حکومت نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اینٹی کرپشن کمیٹی بنا 11شہزادوں اور 4 وزرا سمیت درجنوں سابق وزرا کو گرفتار کرلیا ہے،گرفتار افراد میں عرب کے امیر ترین آدمی شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل ،گرفتاریاں اینٹی کرپشن کمیٹی کی تشکیل کے چند گھنٹوں بعد کی گئیں جس کے سربراہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔مشتبہ وی آئی پی شخصیات ملکسے باہر جانے کیلئے جدہ میں تمام نجی پروازیں روک دی گئی،گرفتاریاں اینٹی کرپشن کمیٹی کی تشکیل کے چند گھنٹوں بعد کی گئیں ۔ متعب بن عبداللہ نیشنل سیکیورٹی گارڈکی وزارت سے سبکدوش ، قلمدان خالد بن ایاف کو سونپ دیا گیا۔عرب میڈیا کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف 11شہزادے، 4 وزرا اور درجنوں سابق وزرا گرفتارکرلئے ہیں،گرفتار ہونے والے سابق اور موجودہ وزرا کی کل تعداد 38 ہے۔ان کارروائیوں کے حوالے سے کمیشن کا مقصد لوگوں کے پیسوں کی حفاظت کرنا اور کرپٹ لوگوں کو سزا دلوانا ہے۔جاری ہے۔

......
loading...

جنہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا تھا۔ جزیرہ نما عرب کے امیر ترین شخص اور سعودی شاہی خاندان کے فرد شہزادہ الولید بن طلال بھی ان گرفتار افراد میں شامل ہیں تاہم ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوسکی۔شہزادہ متعب بن عبد اللہ سےنیشنل گارڈز کی وزارت لے کر خالد بن ایاف کو دی گئی ہے جبکہ عادل فقیہہ سے معیشت کے امور لے کر قلمدان ولی عہد کے نائب محمد تویجری کو دے دیا گیا ہے۔اس پیش رفت کے ذریعے ولی عہد محمد بن سلمان نے ملک کے تین اہم اداروں دفاع، سکیورٹی اور معیشت پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جو اس سے قبل سعودی خاندان کی الگ الگ شاخوں کے کنٹرول میں تھے۔سعودی عرب میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزام میںگرفتار ہونے والے شہزادوں میں شہزاد الولیدبن طلال بھی شامل ہیں ، جن کی گرفتاری کی تاحال سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ۔ذرائع سے سامنے آنے والی الولید بن طلال کی گرفتاری کی خبر درست ہے تو دنیا بھر کی بڑی کاروباری شخصیات کے لئے یہ بات کسی دھچکے سے کم نہیں کیونکہ کھرب پتی سعودی شہزادے نے دنیا کے نامور ترین مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے ۔شہزادہ ولید بن طلال سعودی شاہ سلمانکے سوتیلے بھتیجے ہیں۔جاری ہے۔

اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں،ان کے والد کا نام طلال بن عبدالعزیز آل سعود ہے ۔شہزادہ ولید بن طلال ذاتی سفر کیلئے سپر جمبو استعمال کرتے ہیں ،ان کے ذاتی ہوائی جہاز کی قیمت500 ملین ڈالرز ہے۔شہزادہ ولید دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں اور یہاں تک ہوچکا ہے کہ 2013 میںجب جریدے فوربز نے انہیں 26 ویں نمبر پر رکھا تو ان کی جانب سے اس پر شدید تنقید کی گئی کہ انہیں ان کا صحیح مقام نہیں دیا گیا۔شہزادہ ولید کی میڈیا کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری موجود ہے اور ایک مشہور عالمی بینک میں بھی ان کے شیئرز ہیں،وہ دنیا کے 100 بااثر افراد میں بھی شامل رہ چکے ہیں۔ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے پر شہزادہ ولید بن طلال نے کہا تھا۔جاری ہے۔

کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکا سعودیتعلقات بہت بہتر ہوں گے کیونکہ ٹرمپ کے خاندان کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں اور وہ ٹرمپ کو قریب سے جانتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین پر گاڑی چلانے کی پابندی ختم کروانے میں بھی ان کی کوششیں بھی شامل ہیں ۔انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی ختم کرنا نہ صرف ملکی معیشت بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے بھی ضروری ہے۔اس سے قبل سعودی شاہ سلمان ے متعدد اہم فیصلے کئے اور کرپشن کیخلاف تحقیقات کیلئے اعلی کمیٹی قائم کی، جسے کرپٹ عناصر پر سفری پابندی لگانے اور گرفتار کرنے کی اجازت دی گئی ہے، کمیٹی کو متعلقہ اداروں کے تعاون سے مناسب کارروائی کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔کمیٹی نے 2009 میں جدہ سیلاب اور 2012میں مرس وائرس سے اموات کے معاملے کی بھی ازسر نو تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔اینٹی کرپشن کمیٹی کے اقدامات کے بعد مشتبہوی آئی پی شخصیات ملک سے نکل نہ جائے اس لئے جدہ میں تمام نجی پروازیں روک دی گئی ہیں۔شاہی فرمان کے مطابق شہزادہ متعب بن عبداللہ کو نیشنل سیکیورٹی گارڈکی وزارت سے سبکدوش کر دیا گیا۔جاری ہے۔

اور وزارت کا قلمدان خالد بن عبدالعزیز کو سونپ دیا گیا۔ اسی طرح وزیر اقتصادیات اور منصوبہ بندی عادل فقیہ کوہٹادیاگیا ہے، شاہ سلمان نے بحریہ کے سربراہ جنرل عبداللہ کو سبکدوش کرکے جنرل فہد الغفیلی کومنصب سونپ دیا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔