حکیم صاحب میرے خاوند کو مردانہ کمزوری ہے – برائے مہربانی تمام خاوند ایک بار ضرور پڑھیں

حکیم صاحب میری بیوی مجھے کہتی ہےکہ تم مردانہ طور پر کمزور ہو تم میں مردانہ صفات نہیں ہیں میں یہ بات سن کر حیران رہ گیا
میں ایک حکیم ہوں یہ میرا پہلا مریض تھا جس کی بیوی اسے کہتی ہے کہ تم مردانہ کمزوری کا شکار ہو عمر سے تیس کے پیٹے میں ہوگا میں اسے اپنے مطب کے پیچھے بنے کیبن میں لے گیا ضروری ٹیسٹ سے فارغ ہوا تو پتا چلا کہ وہ تو ٹھیک ہے بالکل صحت مند ہے کوئی مردانہ کمزوری نہیں ہے اور دو بچے بھی ہیں۔جاری ہے۔

یہ عجیب مریض تھا جو دو بچوں کا باپ ہونے کے باوجود بھی خود کو کمزور محسوس کرتا تھا خیر اپنے کاروبار کو ایسے تو مندا نہیں کرنا تھا تو اسے دو تین بیماریوں کا بتایا کہ تمہیں جریان، سوز آتشک وغیرہ کی چند مخفی بیماریاں ہیں اسے کچھ کشتہ جات اور اور کافی ساری وٹامنز کی رگڑی ہوئی گولیاں جو کہ مختلف قسم کے میٹھے اور کڑوے لیکن گاڑھے محلولوں میں ڈوبی ہوئی تھیں اٹھا کر دے دیں اور پندرہ دن استعمال کرنے کے بعد پھر آنے کا کہا اصل میں ایسے ہوتا ہے تیس چالیس سال کے مردوں کو کوئی بیماری نہیں ہوتی حتی کے پچاس سال تک بھی کوئی بیماری نہیں ہوتی اصل بیماری بڑھاپا ہوتی ہے بڑھاپے میں عضو نے جواب تو دینا ہے۔جاری ہے۔


لیکن یہ لوگ ذہنی طور پر خود کو بیمار تسلیم کر لیتے ہیں ان کے اندر وہم تشکیل پاجاتا ہے کہ یہ بیمار ہیں اور یہ وہم ہم ہی تشکیل دیتے ہیں مختلف چھوٹے موٹے کتابچوں کو مفت بانٹتے ہیں جن میں ایک نارمل انسان کی تمام خصوصیات کو ہم بیماری بنا کر پیش کرتے ہیں پڑھنے والے خود میں تمام بیماریاں محسوس کرنے لگ جاتے ہیں حد تو یہ ہے کہ بیس سال کے کڑیل نوجوان بھی اس شعبدے بازی سے متاثر ہوجاتے ہیں اور متاثرین میں شامل ہوکر ہمارے پاس آجاتے ہیں اور ہم انکی جیب کے مطابق بیماری اور علاج تشکیل دیتے ہیں اب یہ وہم نا پیدا کریں تو ہم تو بھوکے مرجائیں ناکیا کریں جی گندہ ہے پر دھندہ ہے اور ہم حکیموں کی روزی اسی وہم سے چلتی ہے ہم کچھ دوائیاں دے دیتے ہیں کہ انکے ذہن میں ہمارے ہی پیدا کردے اس وہم کو ختم کرنے کے لیے رد وہم کی سوچ پیدا کی جا سکے جو زیادہ عمر والے ہوں انکے لیے سٹرائیڈز ہی بہتر کام کرتے ہیں خیر وہ مریض پندرہ دن بعد واپس آیا اسکی ذہنی حالت سے لگتا تھا کہ وہ ذہنی طور پر بہت زیادہ پریشان ہے پتا چلا اب بھی اسکی بیوی نے اسکی صحت سے انکار کر دیا ہے کہتا ہے حکیم صاحب کچھ کریں میں گھٹ گھٹ کے مرجاؤں گا میں دل میں حیران تھا کہ ایک صحت مند شوہر پر اسکی بیوی کیوں ذہنی تشدد کر رہی ہے خیر اسے اگلے پندرہ دن کی دوا دے کر اس نصیحت کے ساتھ ٹرخا دیا کہ ہگلی بار اگر تمہاری بیوی کو شکایت ہو تو اسے ساتھ لے کر آنا۔جاری ہے۔

......
loading...


کیونکہ میری دوائیاں تو مردوں کو زندہ کر دیتی ہیں اور تمہاری بیوی ابھی تک شکایت کر رہی ہے خیر وہ چلا گیا میں کچھ دیر سوچتا رہا دس بارہ دن گزرنے کے بعد اسے فون کیا اور حال وغیرہ پوچھا تو وہی صورت حال باقی تھی اسے بولا کہ اگلے دن شام کو وہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے آئے اگلے دن وہ دونوں میرے سامنے بیٹھے تھے ہاں بی بی آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے حکیم صاحب وہ مردانہ طور پر کمزور ہیں میں اسکی بے باکی پر حیران رہ گیا اسکے شوہر نے ایک نظر شکایت اس پر ڈالی اور میری طرف امداد طلب نظروں سے گھورنے لگا میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے تو میں نے بھی شرم و حیا کا تقاضا ایک طرف رکھا اور تیز تیز سوال کرنا شروع کر دیےجب اس سے پوچھا کہ اپنے مرد سے اسکا گزارہ نہیں ہوتا تو کہتی ہے۔جاری ہے۔

کہ دو بچے ہیں ہمارے وہ جسمانی طور پر ٹھیک ہے بالکل ٹھیک ہیں تو بی بی پھر مردانہ طور پر کمزور کیسے ہوئے حکیم صاحب! میرے بابا دیہات میں رہتے ہیں زمینداری کرتے ہیں ہم دو بہنیں ہیں ہمیں کبھی دھی رانی سے کم بلایا ہی نہیں اور میرے شوہر مجھے کتی بلاتے ہیں یہ کونسی مردانہ صفت ہے حکیم صاحب مجھ سے کوئی غلطی ہوجائے یہ میرے پورے میکے کو ننگی ننگی گالیاں دیتے ہیں بتائیں جی اس میں انکا کیا قصور ہے یہ مردانہ صفت تو نہیں نا کہ دوسروں کی گھر والیوں کو گالی دی جائےحکیم صاحب! میرے بابا مجھے شہزادی کہتے ہیں اور یہ غصے میں کنجری کہتے ہیں مرد تو وہ ہوتا ہے نا جو کنجری کو بھی اتنی عزت دے کہ وہ کنجری نا رہے اور یہ اپنی بیوی کو کنجری پکارتے ہیں۔جاری ہے۔


یہ کوئی مردانہ بات تو نہیں ہوئی نا حکیم صاحب اب آپ بتائیں کیا یہ مردانہ طور پر کمزور نہیں ہیں میرا سر شرم سے جھک گیا تھا اسکا شوہر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسکی طرف دیکھ رہا تھا اگر یہی مسئلہ تھا تو تم مجھے بتا سکتی تھیں نا مجھ پر ذہنی ٹارچر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کو کیا لگتا ہے آپ جب میری ماں بہن کے ساتھ ناجائز رشتے جوڑتے ہیں میں خوش ہوتی ہوں

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔