میرا دو سال میں پانچ مرتبہ حمل ضائع ہوا

برطانوی شہر نیوکاسل سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ لڑکی شینن ریڈ گزشتہ چھ سال کے دوران پانچ بار اسقاط حمل کے دردناک تجربے سے گزرچکی ہے۔ا س کا پہلا حمل محض ڈیڑھ ہفتے کے بعد ہی ضائع ہوگیا تھا۔۔۔۔جاری ہے۔

اس نے دوبارہ حاملہ ہونے کی کوشش کی لیکن اس بار بھی اس کا حمل محض چند ہفتے ہی برقرار رہ سکا۔ اس کے بعد یہ افسوسناک واقعہ پے درپے پیش آیا۔ آخری بار رواں سال جولائی کے مہینے میں جب اس کا حمل ضائع ہوا تو وہ تین ماہ کی حاملہ تھی۔ پانچ بار حمل ضائع ہونے کے بعد بالآخر شینن کو معلوم ہوا ہے کہ وہ ’سٹکی بلڈ سنڈروم‘ نامی بیماری میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے اس کا حمل برقرار نہیں رہ پاتا۔۔۔۔جاری ہے۔

ی مرر کے مطابق اس بیماری کو میڈیکل سائنس کی زبان میں ’اینٹی فاسفو لپرڈ سنڈروم (اے پی ایس)‘ کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں حمل کے کچھ عرصے بعد ہی آنول نال میں خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے کچھ ہی ہفتوں کے دوران حمل ضائع ہوجاتا ہے۔شینن کو ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ اب اگر وہ حاملہ ہونا چاہے گی۔۔۔جاری ہے۔

تو اسے ہر روز اپنی ٹانگ میں ایک انجکشن لگوانا ہوگا۔ اس کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ اس بات پر خوش ہے کہ اسے بار بار حمل ضائع ہونے کی وجہ معلوم ہوگئی ہے لیکن حاملہ ہونے کے لئے اسے جو طریقہ بتایا گیا ہے وہ خاصا پریشان کن ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news