نواز شریف سے کہو باز آجائےورنہ۔۔‘‘ سابق وزیراعظم نے ایسا کیا کام کیا کہ گمنامی میں زندگی بسر کرنے والی ایک بزرگ ہستی کو منظر عام پر آکر وارننگ جاری کرنی پڑ گئی، سچے واقعہ سے پردہ اٹھ گیا

پاکستان کے سابق بیوروکریٹ اور معروف کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ آج سے دو سال قبل جب نواز شریف پر سیکولر اور لبرل قوتوںکو خوش کرنےکا جنون سوار تھا تو اس نے نومبر 2015کو یوم اقبال کی تعطیل ختم کرنے کا حکم صادر کیا۔۔۔۔جاری ہے۔

میں اس وقت اسلام آباد میں ڈائریکٹر جنرل این سی ایچ ڈی تھا۔ میں خود وزارت داخلہ کے دفتر گیا۔ایک انتہائی نیک اور نماز روزے کا پابند شخص سیکرٹری داخلہ تھا اس سے پہلے وہ کئی سال ڈائریکٹر جنرل حج بھی رہ چکا تھا۔ میں نے اس سےدرخواست کی کہ آپ یہ تعطیل ختم کر کے اس پاکستان میں ایک نفرت کی علامت اپنے چہروں پر ثبت کر رہے ہو۔ اگر تو صرف چھٹی سے نفرت ہے تو یوم مئی، یوم کشمیر، یوم قائداعظم ؒ یہاں تک کہ 23مارچ کو یوم پاکستان کی تعطیل بھی ختم کر دو۔ اقبال کو منتخب کر کے تم لوگ اچھا نہیں کر رہے۔ میں ایسے بے شمار لوگوں کو جانتا ہوں جو اقبال سے بحیثیت عاشق رسولﷺ محبت کرتے ہیں اور ان میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو اگر دعا کیلئے ہاتھ اٹھا لیں تو اللہ ان کی دعائیں رد نہیں کرے گا۔ نواز شریف سے کہو کہ باز آجائے ورنہ ایک درویش نےمجھے کہا ہے کہ پھر نواز شریف اس ملک میں اپنا انجام دیکھ لے گا۔ بلکہ لوگ اسے عبرت کا مقام بنتے ہوئے دیکھیں گے۔۔۔۔جاری ہے۔

سیکرٹری داخلہ شاہد خان نے اس وقت کے وزیر داخلہ سے پھر گفتگو کی لیکن بے سود کیونکہ حکم مطلق العنان وزیراعظم نواز شریف کا تھا۔ اس سال ایوان اقبال میں مرکزیہ مجلس اقبال کی تقریب میں گورنر پنجاب اور اس وقت کے وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی موجود تھے میں نے درویش کی بات اس تقریب میں اپنی تقریر کے دوران کی اور کہا کہ اقبال اس ملک میں عشق رسولﷺ کی متاع ہے اس متاع سے کھلواڑ مت کرو۔ اللہ اپنے دشمنوں کو ڈھیل دیتا ہے لیکن یاد رکھوچودہ سو سال کی تاریخ شاہد ہے کہ اللہ سید الانبیا ﷺ کے معاملے میں کوئی ڈھیل نہیں دیتا۔ 9نومبر 2015سے لے کر 9نومبر 2017تک کے دو سال ایسے ہیں کہ مسمی نواز شریف اور اس کے خاندان کا کوئی قدم سیدھا نہیں پڑا۔ پانامہ لیکس تو ٹھیک چھ ماہ بعد 9مئی 2016کو سامنے آیا لےکن فلیٹس کی ملکیت کے اعترافات اور ھسین نواز کے انٹرویو پہلے شروع ہو گئے۔۔۔جاری ہے۔

......
loading...

جو بوکھلاہٹ عیاں کرتے تھے۔اس دوران 29فروری 2016کو ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی۔ غازی علم الدین کہ جس سے محبت اقبال کی پہچان ہے اس کی راہ پر چلنے والے ممتاز قادری کی پھانسی بھی نواز شریف کا مقدر بنی بلکہ اس نے منہ سے کھینچ تان کر اسے اپنے کھاتے میں ڈال لیا۔ اقبال وہ ہے جسے سید الانبیاﷺ نے ’’عندلیب باغ حجاز‘‘کے لقب سے رویا صالحہ میں نوازا۔ اقبال نے مجھے اور میرےجیسے ہزاروں لوگوں کی انگلی تھام کر رسول محترمؐ سے عشق کرنا سکھایا۔۔۔۔جاری ہے۔

وہ اس سرزمین پر رسول اللہ سے محبت کی شمع لازوال ہے اس سے دنیا کا ہر وہ شخص عشق کرتا ہے جو سید الانبیاﷺ سے محبت کے راستے کا مسافر ہے۔ میں نے تمام مسلم دنیا میں یہ دیکھا ہے میرا اقبال سے عشق، میری متاع جاں رسول اکرمﷺ سے محبت کا حوالہ ہے اس لئے اقبال کو میلی آنکھ سے دیکھنےوالے کو بھی میں نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ اسسے بغض کرتا ہوں کہ یہ بغض مجھے قرب الٰہی عطا کرتا ہے۔ یہ میرا ایمان ہے۔۔۔جاری ہے۔

کہ کیونکہ میرا اللہ مجھے الحب للہ (اللہ سے محبت)اور البغض للہ (اللہ کیلئے بغض)کا حکم دیتا ہے۔ سیاست کا کام ارباب سیاست جانیں، مجھے تو یہ بغض بہت عزیز ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز جو سات لوگ عرش الٰہی کے سائے میں ہونگےان میں سے ایک وہ ہو گا جو اللہ کیلئے دوستی کرے اور اللہ کیلئے دشمنی کرے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔