درندگی کی انتہا ۱۲ سالہ بچی سر سے پائوں تک خون سے نہلا دی گئی ایک ایسی حقیقی کہانی جو آپ کو خون کے آنسورولادے گی

ایک 12 سالہ بچی پر مبینہ طور پر اس کے کپڑوں کی وجہ سے پابندی لگا دی گئی۔بچی کے کوچ کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کے منتظمین میں سے ایک کا موقف تھا کہ اس بچی کا لباس جو اس کے گھٹنے بھی ڈھانپے ہوا تھا، بہت ’ورغلانے والا‘ تھا۔۔۔جاری ہے۔

 
اس واقعے کی تفصیلات فیس بک پر شیئر کی گئیں جس کے بعد اس حوالے سے عام لوگوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ملائیشیا کی شطرنج فیڈریشن نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔یہ بچی گذشتہ ماہ شطرنج کے ایک قومی ٹونامنٹ میں شریک تھی جب یہ واقعہ پیش آیا۔بعد میں بچی کے کوچ نے فیس بک پر اس کی تفصیلات شائع کیں جن کے مطابق ٹورنامنٹ کے منتظم نے بچی کے میچ کے دوران اسے کھیلنے سے روک دیا اور کہا کہ ان کا لباس ٹورنامنٹ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔۔۔جاری ہے۔

......
loading...

 
کوچ کے مطابق ٹونامنٹ کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ بچی کا لباس بہت زیادہ پرکشش اور ایک خاص زاویے سے بہت ورغلانے والا ہے۔
بچی کے کوچ نے ملائیشیا میں شطرنج کھیلنے والوں کو شدید غصے والا ایک کھلا خط لکھا مگر بعد میں یہ ملک بھر میں شیئر کیا گیا۔
اس غم و غصے کے ردِعمل کی وجہ سے ملک کے مختلف سیاستدان اس بچی کی حمایت میں بیانات دے رہے ہیں۔ ایک رکنِ پارلیمان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس واقعے کی وجہ سے بہت غصہ ہے اور مجھے اس بچی کے لیے دکھ ہے جیسے وہ میری بیٹی ہو۔‘۔۔جاری ہے۔

 
اس بچی کے کوچ نے بچی کی شکل نمایاں کیے بغیر اس لباس کی ایک تصویر بھی شائع کی ہے اور ان کہنا ہے کہ بچی انتہائی شرمندہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بچی کو ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لیے پتلون خرید کر واپس آنے کی آپشن دی گئی مگر دکانوں کے بند ہونے کی وجہ سے بچی کو ٹورنامنٹ سے خارج ہونا پڑا۔

 

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔