جوائنٹ فیملی۔ امی اور چچی کو اکثر، شاپنگ پر جانا ہوتامیں اور میرا کزن گھر میں اکیلے ہوتے اور۔۔

م لوگ جوائنٹ فیملی میں رہتے تھے، دادی جان، چاچو کی فیملی اور ہم۔ چاچو کی شادی ابو سے کچھ سال پہلے ہوئی تھی۔ ان کا سب سے بڑا بیٹا مجھ سے قریب 15 سال بڑا ہے۔ امی نے ہمیشہ یہی بتایا کہ یہ بڑے بھائی ہیں۔ وہ ہم کزنز میں سب سے بڑا تھا اور ہم سبھی اسے بھیا کہہ کر بلاتے تھے۔

 

 

امی اور چچی کی آپس میں اچھی دوستی تھی، اس لیے کبھی شاپنگ پر جانا ہوتا، یا خاندان میں کسی کی فوتگی پر جانا ہو، یا کبھی شادی میں صرف بڑوں کا بلاوا ہوتا تو وہ لوگ ساتھ چلے جاتے اور ہم سب کزنز بھیا کے زیرِ نگرانی ہوتے۔ امی جاتے جاتے کہہ جاتیں کہ وہ جلدی لوٹ آئیں گی، اور گھبرانے کی کوئی بات نہیں کیونکہ بھیا گھر پر ہیں۔ میں امی کو کیسے سمجھاتی کہ یہی تو فکر کی بات ہے کہ بھیا گھر پر ہیں۔ سب بچوں کو ٹی وی لگا کر دے دیا جاتا اور اس کے بعد میرے لیے بتانا ممکن نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہوتا۔ وہ اٹھارہ بیس سال کے ہوں گے اور میں چار پانچ سال کی بچی۔ اسے روکتی بھی تو کیسے؟ لگ بھگ پانچ سال یہی سلسلہ چلتا رہا۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ جو میرے ساتھ ہو رہا ہے غلط ہے۔ ڈر سے میں کسی کو بتا بھی نہ پائی۔ اب اس بات کو کئی سال گزر چکے ہیں لیکن میرے دل سے بھیا کی نفرت نہیں جاتی۔ مجھے لگتا ہے کہ میرا بھی قصور تھا کہ میں یہ سب کچھ روک نہ پائی۔ ہر بار جب امی کو جانا ہوتا، میں

 

 

رو رو کر انہیں کہتی کہ مجھے ساتھ جانا ہے۔ امی ہر بار مجھے کبھی پیار سے اور کبھی ڈانٹ کر چپ کروا دیتیں کہ جب بڑا بھائی گھر پر ہے تو ڈرنے کی کیا بات ہے، آپ اکیلی تھوڑی ہیں؟ میں انہیں کیسے سمجھاتی کہ آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی جائیں تو شاید میں محفوظ رہوں۔ بھیڑوں کی حفاظت کے لیے امی نے بھیڑیے کا انتخاب کیا تھا، اور انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا۔“یہ سب بتاتے ہوئے اس کی کیا حالت تھی، میں نہیں جانتی لیکن کمپیوٹر کے اس جانب میرے ہاتھ ٹھنڈے پڑ چکے تھے، میں کانپ رہی تھی، سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا سوچوں، کیا کہوں، کیا مشورہ دوں؟اس حوالے سے بعد میں مزید ریسرچ کی تو معلوم ہوا کہ %70 کے قریب ایسا کرنے والے قریبی خاندان، دوست، نوکر چاکر، ڈرائیور اور وہ لوگ جن پر ہم اعتماد کرتے ہیں۔ اتنا اعتماد کہ اپنی اولاد ان کے حوالے کرتے ہمیں ایک بار خیال بھی نہیں آتا کہ کہیں کچھ ایسا ویسا نہ ہو جائے۔ جس گفتگو کا ذکر میں نے اوپر کیا،

 

 

 

اس وقت یہ فیصلہ کیا کہ جب میرا کوئی بچہ ہو گا تو اس کو میں ضرور بتاؤں گی کہ پرائیویٹ پارٹس کسی کو دیکھنے/چھونے کی اجازت نہیں، اور نہ ہی ہمیں اجازت ہے کسی کے پرائیویٹ پارٹس کو دیکھنا/چھونا۔ اور میں نے ایسا ہی کیا۔ شاید آپ میں سے بھی بہت سوں نے اپنے بچوں کو یہ بنیادی تعلیم دے رکھی ہو گی اور پھر میری طرح بےفکر ہو گئے ہوں گے کہ فرض پورا ہوا۔ لیکن کچھ دن پہلے ایک کتاب پڑھی جس کو پڑھ کر احساس ہوا کہ یہ بتا دینا ہی کافی نہیں۔ اگر آپ نے اپنے بچے کو یہ بنیادی تعلیم دے رکھی ہے لیکن اگر کوئی اسے اپروچ کرے اور دھمکی دے کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تم سے دوستی ختم کر دوں گا، یا سب کو بتا دوں گا، یا نیٹ پر لگا دوں گا، یا لالچ دے کہ اگر تم میری بات مان لو تو میں تمہارا پسندیدہ کھلونا تمہیں دلواؤں گا، ایسے میں بچہ کیا کرے؟

 

فلموں ڈراموں سے، کسی کتاب سے، کسی سنی سنائی بات سے بہرحال آج کے والدین پر یہ حقیقت تو اچھی طرح واضح ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات اس گھٹن زدہ معاشرے میں عام ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا شعور ہی کافی ہے یا آگے بڑھ کر کوئی قدم اٹھانا ہو گا۔ کیا والدین واقعی اپنے بچوں کو اس صورتحال سے نبٹنے کے لیے تیار کر رہے ہیں؟ اور جو والدین بچوں کو بتاتے ہیں، وہ کیا بتا رہے ہیں؟ پرائیویٹ پارٹس کون سے ہیں اور کسی کو اجازت نہیں کہ آپ کو ہاتھ لگائے۔ کوئی ایسی کوشش کرے تو مجھے بتا دینا۔ بس؟ کیا اتنا بتا دینا کافی ہے؟ ایک بار کا بتا دینا بہت ہے؟ ہرگز نہیں! بچوں کو مختلف زاویوں سے، مثالیں اور

 

 

سامنے رکھ کر سمجھانا ہوگا، انہیں  سمجھانے ہوں گے۔یاد رکھیے کہ دشمن میری اور آپ کی طرح کا ایک نارمل دکھنے والا انسان ہے، ہنستا بولتا ہے، گھلتا ملتا ہے۔ وہ کوئی الگ دنیا کی مخلوق نہیں کہ چہرے سے دیکھ کر ہم پہچان جائیں بلکہ عموماً تو اتنے بہترین عادات و اطوار کا مالک ہوگا کہ آپ کو اپنی اولاد کے لیے اس انسان پر بھروسہ کرتے وقت ایک لمحہ کوئی منفی خیال بھی نہ گزرے۔ بچے کی عمر کے لحاظ سے دشمن مختلف طریقوں سے اس کو گھیرتا ہے اور انہی طریقوں سے ہم نے بچوں (لڑکوں اور لڑکیوں، دونوں کو) کو باخبر کرنا ہے۔

 

 

1- لالچ دینا:چونکہ دشمن کا گھر میں ہر وقت کا آنا جانا ہے اور وہ آپ کی اولاد کی پسند ناپسند سے اچھی طرح واقف ہے، اس لیے وہ اس کو چھوٹے موٹے تحائف دیتا ہے۔ کبھی ٹافی، کبھی آئس کریم، کبھی اپنے ٹیبلٹ پر اس کو کارٹون اور گیمز کی اجازت دینا۔ اور ساتھ میں اس کو لالچ بھی دیتا ہے کہ میں آپ کو وہ والی گڑیا لا کر دوں گا جو آپ کو بہت پسند تھی اور ماما نے نہیں دلوائی، یا ہم پارک میں جھولوں پر جائیں گے اگر آپ۔۔۔!

 
2۔ جھوٹ بولنا:اگر آپ امی ابو کو بتائیں گے، آپ کو ہی ڈانٹ پڑے گی۔ یا یہ کہ کوئی آپ کی بات کا یقین نہیں کرے گا۔ یا یہ کہنا کہ All cool t یا ایسے ٹچ کرنے میں کوئی غلط بات نہیں۔

 
3- دھمکی دینا:اگر آپ نے میری بات نہیں مانی، میں کبھی آپ کا دوست نہیں بنوں گا۔
4- بلیک میل کرنا:میں آنٹی کو بتا دوں گا کہ اس دن سکول میں آپ کی فلاں سے لڑائی ہوئی تھی۔ اگر آپ بات نہیں مانو گے تو میں انکل سے کہوں گا یہ ہمارے گھر میں ٹی وی دیکھتا ہے جو آپ نے اپنے گھر میں منع کیا ہوا۔
5- چیلنج کرنا:اگر آپ اتنے سمارٹ ہو تو 5 سیکنڈز میں اپنا انڈرویئر اتار کر دکھائیں۔ مجھے پتہ ہے آپ نہیں کر سکیں گے۔ بچوں کو  کیا جائے تو وہ فوراً اپنے آپ کو پروو کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

......
loading...

 

 

یہ پانچوں طریقے مزید مثالوں سے آپ بچوں کو سمجھائیں۔ ہر مثال پر ان سے پوچھیں اگر ایسا ہو تو آپ کیا کریں گے یا ایسا کبھی ہوا تو نہیں؟ ۔ اب آئیں حکمتِ عملی کی طرف:

 
1- سب سے پہلا کام بچے کو یہ کرنا ہے کہ بآوازِ بلند، واضح الفاظ میں ”نہیں، میں ایسا نہیں کروں گا“ کہے۔ (بچے سے کہلوائیں تا کہ اس کی پریکٹس ہو)

 

 

 

2- وہاں سے بھاگ کر فوراً محفوظ جگہ پر قابلِ اعتبار لوگوں میں پہنچے۔

 
3- پہلی فرصت میں امی ابو کو سب کچھ بتائے۔ سکول میں ہیں تو ٹیچر کو بتائیں، کسی کے گھر میں ہیں تو جو قابلِ اعتبار بندہ ہو اس کو بتائیں، اور موقع ملتے ہی امی ابو کو بتائیں۔

 

 

یہاں یاد دہانی کرواتی چلوں کہ بچے آپ کو تبھی اپنے دل کی بات بتائیں گے جب آپ ان کو اعتماد دیں گے۔ ان کے ساتھ اپنی چھوٹی موٹی باتیں شیئر کیا کریں تا کہ وہ بھی آپ کو اپنی باتیں بتانے میں جھجک محسوس نہ کریں۔ ان کو بتائیں کہ امی ابو کے ساتھ کوئی راز نہیں رکھنے ہوتے، ہر بات بتانی ہوتی ہے۔ اپنے بچوں کو بتائیں کہ ہمارے آس پاس ہر طرح کے لوگ ہیں، اچھے بھی اور برے بھی۔ ہمیں اچھا بننا ہے، لیکن کسی کو اپنے ساتھ برا کرنے کی اجازت بالکل نہیں دینی۔ انہیں سکھائیں کہ کوئی برا کرے یا کوئی ایسی بات کرے کہ آپ کو لگے کہ گندی بات ہے تو firmly انہیں کہیں کہ ”نہیں، میں ایسا نہیں کروں گا“ اور فوراً وہاں سے بھاگ جائیں۔

 

 

اب فرض کیجیے کہ کمرے میں اس وقت کوئی اور نہیں، بچہ اسی ”سرپرست“ کے ساتھ اکیلا ہے۔ بچے کو اپروچ کرے تو اور کچھ ممکن نہ ہو تو بچے کو کہیں کہ پیٹ کے درد کا بہانہ کر کے باتھ روم چلا جائے اور تب تک وہاں رہے جب تک دشمن نا امید ہو کے چلا جائے یا باقی گھر والے کمرے میں آ جائیں۔بچوں کے ساتھ رویہ دوستانہ رکھیں تا کہ وہ آپ کے ساتھ اپنی ہر بات شیئر کر سکیں۔ یہ بہت ہی ضروری ہے۔ بچوں کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہے۔ اگر آپ انہیں سوال کرنے پر ڈانٹ دیں گے تو ان کا تجسس ختم نہیں ہو گا۔ وہ کسی اور سے اس کے بارے میں پوچھیں گے۔ وہ کس سے پوچھیں، اگلا بندہ کیا جواب دے، یہ آپ کو معلوم نہیں۔ کچھ والدین شرم کے مارے ان ٹاپکس پر بچوں سے بات نہیں کرتے۔ ہوتے ہوتے والدین اور بچوں کے درمیان جھجک کا ایسا پردہ حائل ہو جاتا ہے جس کو پاٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے لیے اپنے بچے کے ساتھ یہ باتیں کرنا ممکن نہیں تو لاوارث چھوڑنے کے بجائے کسی خالہ، پھوپھو، کوئی بڑا بہن بھائی، کزن، کوئی ایسا بندہ جو بچے سے نزدیک ہے، اس کو اس طرف لگائیں اور ان سے بچے کے بارے میں ان ٹچ رہیں۔ بہتر بہرحال یہی ہے کہ خود بات کی جائے۔ انہیں آپ سے اتنا اعتماد ملنا چاہیے کہ وہ جھجھکے بغیر آپ سے جو دل میں آئے پوچھ لیں۔ جواب سچائی اور حکمت پر مبنی ہونا چاہیے۔

 

 

بچوں کے بدلتے رویوں پر نظر رکھیں۔ ان کی کوئی بات، کوئی عمل، کوئی غیر متوقع ری ایکشن، ڈراؤنے خواب، ہنستے کھیلتے بچے کا ایک دم چپ چپ سا ہو جانا، غصہ کرنا، یا کسی سے نفرت یا ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جو آپ کی نظر میں بہت اچھا انسان ہو؛ ایسی کسی بھی صورت میں غیر محسوس طریقے سے کریدنے کی کوشش کریں۔ بچہ کہیں جانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرے تو اس کو ڈانٹنے کے بجائے کھوج لگانے کی کوشش کریں کہ آخر یہ بچہ صرف اسی گھر میں جانے سے کیوں گبھراتا یا کتراتا ہے۔ بچے کی رائے کو مقدم رکھیں۔عام حالات میں بھی ہمیں معلوم ہے کہ بچوں کو بار بار یاد دہانی کروانی پڑتی ہے۔ ہم مائیں تو آدھا دن یہی بولتی ملتی ہیں ”بیٹا، یہ بات میں آپ کو اتنی بار پہلے بھی سمجھا چکی ہوں۔ تھوڑی دیر پہلے میں نے فلاں بات سے منع کیا تھا“ تو اسی حوالے سے اوپر دیا گیا مکالمہ ایک بار کر لینا کافی نہیں بلکہ ہر کچھ عرصے بعد drill کی جائے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے ہم اپنے بچوں کو ذہنی طور پر تیار کر سکتے ہیں۔ اور اس سب کے ساتھ بچوں کو دعاؤں کے حصار میں رکھیں۔ اللہ تعالی ان ننھے پھولوں کو اپنی امان مین رکھیں اور کبھی کسی کی میلی نظر بھی نہ پڑے۔

 

– جب اس موضوع پر بات ہو تو بعض لوگ جوائنٹ فیملی سسٹم ہی کو بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں:اس سے جزوی اتفاق ہے۔ کلی اس لیے نہیں کیونکہ فرض کیجیے کہ میرے دادا دادی میرے والد کے ساتھ رہتے ہیں۔ جوائینٹ فیملی نہیں ہے لیکن میرے چچا، پھوپھو وغیرہ اپنے والدین سے ملنے ہمارے گھر آئیں گے۔ ساتھ میں بچوں کو بھی لائیں گے۔ دور سے آئے تو شاید کچھ دن رکیں گے بھی۔ ایسے میں کیا کیا جائے؟– کچھ احباب کہتے ہیں کہ بچوں کو ہر وقت اپنی نگرانی میں رکھا جائے:کیا یہ عملی طور پر ممکن ہے؟ آپ کو بچوں کو سکول بھی بھیجنا ہے، کوئی فیلڈ ٹرپ ہو گا تو بچے وہاں بھی جائیں گے، رشتہ داروں سے بھی ملنا ہے۔ کبھی آپ کو خود کہیں جانا پڑ سکتا ہے جہاں بچے کو لے کر جانا ممکن نہ ہو۔ 10، 12 سال تک کے بچے victim بن سکتے ہیں۔ 12 سال تک یہ کس طرح ممکن ہے کہ آپ بچے کو ہمہ وقت اپنی نگرانی میں رکھیں؟– بعض کے نزدیک اسلام سے دوری وجہ ہے:

 
یقیناً ایسا ہے لیکن مدارس بھی اس غلاظت سے پاک نہیں۔ اور یوں بھی اسلام کو ہم راتوں رات ہر جگہ، ہر ایک پر نافذ نہیں کر سکتے۔ کوئی ایسا حل ہونا چاہیے جس پر ابھی فوری عمل درآمد شروع کیا جائے۔– کچھ کے مطابق ٹی وی، فون، انٹرنیٹ اصل وجہ ہے:
جو واقعہ میں نے لکھا وہ اب سے کوئی 15 سال پرانا ہے۔ انباکس میں بھی دو واقعات ایسے پتہ چلے جو اتنے ہی پرانے ہیں۔ اس وقت تو یہ خرافات نہ ہونے کے برابر تھیں۔واحد حل یہی ہے کہ بچوں کو مضبوط بنایا جائے، انہیں اعتماد دیا جائے، انہیں  سکھائے جائیں۔ بحیثیت والدین آپ پر بھاری ذمہ داری ہے۔ آپ کو یہ لگتا ہے کہ ایسی باتیں کر کے آپ ان سے ان کا بچپن چھین رہے ہیں تو تصور کی آنکھ سے ان بچوں کو دیکھیں جن کے ساتھ یہ زیادتی ہو چکی ہے۔

 

ان کی ساری زندگی ایک کرب میں گزرتی ہے۔ ایک ناکردہ گناہ کا مجرم بن کر، بنا کسی قصور کے خود کو کوستے ہوئے، بچوں کو اس اذیت میں مت جھونکیں۔ ان کو ایک مضبوط اور پراعتماد انسان بنائیں

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔