میں ماں نہیں بننا چاہتی

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو یہ فخر حاصل رہا ہے کہ اس نے بھیڑ چال کا شکار ہونے کے بجاۓ ہمیشہ ایسے موضوعات کا انتخاب کیا ہے جن کی حیثیت ناسوروں کی ہوتی ہے

اور جو اندر ہی اندر ہمارے معاشرے کو اور ان کی اقدار کو کھا رہے ہوتے ہیں ماضی قریب ہی میں بننے والے ڈراموں اڈاری ،سمی ،التجا، وغیرہ جیسے ڈرامے اس کی ایک اہم مثال ہیں ۔اس بار بھی ہم ٹی وی کا آنے والا ڈرامہ میں ماں نہیں بننا چاہتی میں ڈرامہ رائٹر پریسا صدیقی اور مصطفی ہاشمی نے معاشرے کے ایک ایسے ہی موضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔ڈرامے کی ڈائریکشن فرقان آدم نے دی ہے اور نمایاں اداکاروں میں رباب ہاشم ، علی عباس ، اور روبینہ اشرف شامل ہیں ۔

ڈرامے کے ٹیزر کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ڈرامے کا موضوع اور کہانی ایسے گھرانے کے گرد گھومتی ہے جہاں پر بیٹے کی پیدائش کی خواہش ہوتی ہے اور بیٹیوں کی پیدائش کو ناگوار اور منحوسیت کی علامت سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔یہاں تک کہ گود بھرائی کی رسم کے دوران بھی حاملہ عورت کو ان تمام عورتوں سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جو کہ بیٹیوں کی ماں ہیں ۔

 
ایک اور اہم نقطہ جو اس ڈرامے کے ٹیزر سے ظاہر ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ اس سارے عمل میں عورتیں ہی ملوث ہوتی ہیں یعنی ایک عورت ہی اپنی جیسی دوسری لڑکی کی پیدائش اپنے لۓ ناگوار سمجھتی ہے ۔اگرچہ یہ موضوع کوئی نیا موضوع نہیں ہے اس پر بارہا ڈرامے بن چکے ہیں

مگر اس کے باوجود معاشرے کے اندر آج بھی بہت سارے گھرانوں میں یہ برائی کم یا ذیادہ مگر بدرجہ اتم موجود ہے ۔شائقین اس ڈرامے کے شدت سے منتظر ہیں اور ہم بھی امید رکھتے ہیں کہ یہ ڈرامہ عمومی رویوں کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرے گا

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news