میں نے بھروسہ کیا اور اس نے میری عزت خاک میں ملا دی

ہم دو ہی بہنیں تھیں، اللہ نے بھائی کوئی نہ دیا۔ اس مقدس رشتے کو پانے کی حسرت رہی۔ بے شک بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں لیکن ان والدین کے دلوں سے پوچھئے جو بیٹے کی نعمت کو ترستے ہیں۔

 
بیٹیاں پرایا دھن کہلاتی ہیں۔ کیونکہ انہیں بیاہ کر بالآخر دوسرے گھر جانا ہوتا ہے۔ بوڑھے والدین تب یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اگر داماد اچھے نہ ملیں تو پھر ان کے بڑھاپے کا کون سہارا ہوگا، لیکن انسان جو سوچتا ہے وہ نہیں ہوتا، بلکہ اللہ جو چاہتا ہے وہ ہوتا ہے۔ آدمی کا اپنی سوچوں پر بس نہیں، سوچیں بے اختیار لہروں کی طرح آتی ہیں، کبھی ذہن کی سرزمین کو سرسبز کر دیتی ہیں اور کبھی سب کچھ بہا لے جاتی ہیں، پیچھے ریت رہ جاتی ہے یا جھاڑ جھنکار۔ جس سے دامن تار تار ہوتا رہتا ہے۔ہمارے والدین کو بھی بیٹے کی حسرت ہی رہی۔ والد چاہتے تھے کہ ان کی بیٹیاں پڑھ لکھ کر بیٹوں کی جگہ لے لیں۔ انہوں نے ہمیں ایک اچھے اسکول میں داخل کرا دیا۔ ربیعہ مجھ سے دو برس چھوٹی تھی، مگر پڑھنے میں تیز تھی، جبکہ میرا ذہن پڑھائی کی طرف مائل نہ تھا، کاموں میں زیادہ دلچسپی لیتی تھی۔ مشین پر سلائی کرنی ہو یا ٹوٹا ہوا گلدان جوڑنا ہو، بہت محنت سے یہ کام کرتی اور ایسی ہنرمندی دکھاتی کہ دیکھ کر سبھی دنگ رہ جاتے۔ مجھے رنگ ریزی کا شوق تھا۔

دکان سے مختلف رنگ لا کر دوپٹے رنگنا، چنری بنانا۔ باتک پرنٹ میں نئے نئے ڈیزائن تیار کرنا۔ کبھی کبھی والد کہہ اٹھتے کاش ہمارے شہر میں کوئی آرٹ اسکول ہوتا تو ضرور اپنی بیٹی کو اس میں داخل کرا دیتا۔ ان دنوں میں میٹرک میں تھی۔ امتحان سر پر تھے ابھی تک تیاری نہیں کی تھی، والد صاحب کہتے پڑھنے بیٹھو… میٹرک میں اچھے نمبر لائو گی تو آگے پڑھ پائو گی۔ جب کتاب کھول کر بیٹھتی تو ذہن اِدھر اُدھر بھٹک جاتا۔ کچھ پلے نہ پڑتا۔ بالآخر انہیں بتانا پڑا کہ ابو کچھ مضمون ایسے ہیں جب تک ٹیوشن نہ پڑھوں گی، پاس نہیں ہوسکتی۔ وہ متفکر ہوئے۔اٹھائیس برس قبل ہمارا شہر دیہات نما تھا، جہاں لڑکیوں کو ٹیوشن پڑھانے کا رواج نہیں تھا۔ کوئی خاتون ٹیچر مجھے گھر آ کر پڑھا جاتی، اس کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ ہم خوشحال لوگ تھے۔ ٹیوشن فیس منہ مانگی ادا کرنے پر تیار تھے، مگر کوئی خاتون آکر پڑھانے پر راضی نہ ہوئی۔والد صاحب اسی فکر میں غلطاں تھے کہ اچانک ان کو بلال کا خیال آیا جو ہمارے پڑوس میں رہتا تھا اور بی اے فائنل کا طالب علم تھا۔ والد صاحب نے اسے بلایا اور پوچھا بیٹے تم صبیحہ کو ٹیوشن پڑھا دو گے؟ کیوں نہیں تایا جان اس نے ادب سے نظریں نیچی کر کے جواب دیا۔ تو کل سے آ جائو۔ سالانہ امتحان میں تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ آجائوں گا تایا جی۔ والد صاحب نے چائے منگوا کر بلال کی تواضع کی اور یوں میرے لئے ٹیوشن کا انتظام ہوگیا۔

 
بلال کے بارے میں بتاتی چلوں کہ یہ ہمارے پینتیس برس پرانے پڑوسی تھے۔ ابھی ہم پیدا بھی نہ ہوئے تھے کہ بلال کے دادا میرے دادا کے اور اس کے والد میرے والد کے دوست تھے۔ بزرگوں کی وفات کے بعد بھی اس گھرانے سے وہی اپنائیت قائم تھی جو پہلے دن سے چلی آ رہی تھی۔جن دنوں بلال پانچ برس کا تھا اس کے ابو کا انتقال ہوگیا۔ دادا پہلے ہی فوت ہوگئے تھے۔ دادی بھی چلی گئیں۔ گھر میں اس کی والدہ اور بلال رہ گئے۔ بیوہ ماں نے بیٹے کو بڑی دقتوں سے پالا۔ بلال کو ایک اعلیٰ آفیسر کے روپ میں دیکھنا اس کی والدہ کا خواب تھا۔ وہ شروع دن سے ایک حساس اور نیک بچہ تھا۔ میری امی اسے یوں بھی پیار کرتی تھیں کہ ان کے کوئی بیٹا نہ تھا، بلال کو بیٹا کہہ کر بلاتی تھیں۔ ان دنوں غربت اور امارت میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا تھا۔ بلال کی امی خالہ فائزہ کو میری ماں نے بہن بنایا ہوا تھا۔ ان کی تنگ دستی اور بیوگی کا خیال کر کے آئے دن ہر طرح کی مدد کیا کرتی تھیں۔وہ بچپن میں بے دھڑک ہمارے گھر آ جاتا لیکن جب ہم شعور کی منزلوں تک پہنچے تو اس کی والدہ نے اسے ہمارے گھر آنے سے روک دیا۔ وہ اب والد صاحب کو باہر ہی سلام کرلیا کرتا۔ کبھی ابو کوکوئی کام پڑ جاتا اسے بلوا لیتے۔ تب بھی ہم کھلے بندوں اس کے سامنے نہیں جاتے تھے۔ اس کا تعلق اب صرف ہمارے والدین تک محدود تھا۔

 
جس روز ابو نے مجھے پڑھانے کو کہا وہ اگلے دن شام کو آگیا۔ اب یہ معمول تھا کہ روزانہ شام کو گھنٹہ، آدھا گھنٹہ مجھے پڑھاتا، اس دوران کبھی ربیعہ اور کبھی والدہ اس کو چائے کی پیالی لا کر دیتیں۔ نہیں معلوم کب میری بہن کے دل میں اس کے لئے جگہ بنی اور وہ چپکے چپکے بلال کو چاہنے لگی، تاہم اس نے اپنے جذبات مجھ پر ظاہر نہ کئے۔بلال کی کوششوں اور توجہ سے میں نے میٹرک نہ صرف پاس کرلیا بلکہ اچھی پوزیشن لی۔ جس پر سبھی حیران تھے۔ ابو خاص طور پر بلال کے مشکور تھے، جس نے پوری محنت اور توجہ سے مجھے پڑھایا تھا۔ سچ کہنا چاہئے کہ دولت کی ریل پیل نے ہم دونوں کو خاص طور پر مجھے کچھ مغرور کردیا تھا اور عام انسان میری نظروں میں جچتے ہی نہ تھے۔ میٹرک کے بعد میں نے بلال سے کلام ترک کردیا، اب مجھے اس سے میل جول کی ضرورت تھی اور نہ غرض لیکن ربیعہ اسے دل دے چکی تھی۔ وہ اس کے لئے بے چین و بے قرار رہتی۔ جب سامنا ہو جاتا تو لپک کر بات کرنے کی کوشش کرتی۔
بلال ایک بردبار اور سنجیدہ انسان تھا۔ ربیعہ کی اس نے کبھی حوصلہ افزائی نہ کی۔ مختصر بات کرتا یا صرف سلام کے جواب پر ہی اکتفا رکھتا۔ جانتی تھی اس کے اس رویّے سے میری بہن کی دل شکنی ہوتی تھی، میں یہ بھی جانتی تھی کہ ہم میں اور اس میں زمین آسمان کا فرق ہے، ہم لوگ امیر کبیر تھے اور ان کے گھر تو اکثر فاقوں تک نوبت پہنچ جاتی تھی۔ اسی بات کا بلال کو شدت سے احساس تھا بلکہ خوب ادراک تھا۔

 
اس کی فطرت میں شرافت تھی اور وہ کسی طور ہم لوگوں سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی کسی طرح کی بددیانتی کا مرتکب ہونا اسے گوارا تھا۔ اسی لئے اس نے والد کے سوا کسی سے رابطہ رکھنا معیوب خیال کیا۔ اپنی حد میں رہ کر ایک اچھے پڑوسی ہونے کا حق ادا کیا۔ یہ شرافت اس کی والدہ فائزہ میں بہ درجہ اتم موجود تھی۔ امی جان کی ہر تکلیف میں دوڑی آتیں، مگر ان سے کسی فائدے کی طمع اپنے دل میں نہ رکھتی تھیں۔ میری ماں ان کی اس نیک نیتی کو اچھی طرح سمجھتی تھیں ازخود فائزہ خالہ کی مدد کرتی تھیں اور ان کے حالات سے باخبر رہنے کے لئے ان کے گھر جاتی رہتی تھیں تاکہ ان لوگوں کی حاجتوں کا علم رہے، وہ اصرار کرکے مدد بہم پہنچاتیں۔میں اپنے گھر والوں سے کافی مختلف تھی۔ دولت کی ریل پیل نے مجھے اندھا کر رکھا تھا اور معاشرے کی اخلاقی اقدار سے پوری طرح آشنا نہ ہوئی تھی، جبکہ بلال نے ایک مفلس گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ اس کے والد محنت مزدوری کر کے اپنے کنبے کا پیٹ پالتے تھے۔ تاہم انہیں یہ اشتیاق ضرور تھا کہ بلال اعلیٰ تعلیم حاصل کر لے، تاکہ اسے محنت مزدوری نہ کرنی پڑے۔ وہ ابھی بی اے کے پرچے دے رہا تھا کہ اچانک اس کی والدہ کے انتقال سے گھریلو حالات دگرگوں ہوگئے۔ اس نوجوان نے ہمت نہ ہاری اور اپنی ماں کی خواہش کی تکمیل کے لئے تگ و دو جاری رکھی۔

 
ماں کی نیک تمنائوں اور مخلصانہ کاوشوں کی بنا پر بی اے کا امتحان فرسٹ پوزیشن مع اسکالر شپ پاس کرلیا۔ انگلش میں ایم اے کرنا چاہتا تھا، مگر محنت کرکے اس کو پڑھانے والی نہ رہی تو مجبوراً ملازمت کرلی۔جو شخص دیانت داری، ایمانداری اور خلوص نیت سے محنت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس اس کی محنت کا ثمر ضرور دیتی ہے۔ دوران ملازمت بیرون ملک جانے کا اتفاق ہوا اور غربت و افلاس کے ایام خوشحالی میں بدل گئے۔وہ وہاں سے کافی کما کر لوٹا۔ آتے ہی میرے والد کے حضور قدم بوسی کے لئے حاضر ہوا۔ کہنے لگا میرے والدین نہ رہے مگر آپ کو انہی کی جگہ سمجھتا ہوں۔ کاش آج میرے ماں باپ زندہ ہوتے، میری خوشحالی سے کس قدر خوش ہوتے۔ میں ان کو عمرہ و حج کرانے کی سعادت حاصل کرتا۔ یہ کہتے ہوئے آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے۔ والد نے اسے گلے لگا لیا اور بولے۔ مجھے اپنے والد کی جگہ سمجھو۔ آج سے تم میرے بیٹے ہو، جب دل چاہے آئو مجھے تم سے اظہار شفقت کرکے انتہائی خوشی حاصل ہوگی۔
انہی دنوں میرا رشتہ ایک اچھے گھرانے سے آگیا، بیاہ کر اپنے خاوند کے گھر چلی گئی۔ میری شادی پر بلال نے اس طرح کاموں میں والد کا ہاتھ بٹایا کہ ان کو قطعی بیٹے کی کمی محسوس نہ ہوئی۔ اس اثنا میں ربیعہ نے کئی بار چاہا کہ بلال سے قربت حاصل کرلے، مگر ناکام رہی کیونکہ وہ اسے ایک بھائی کی نظر سے دیکھتا تھا۔ والد سے کہتا تھا کہ یہ دونوں میری بہنیں ہیں۔ زندگی میں کبھی ان کو بھائی کی کمی محسوس نہ ہونے دوں گا۔

 
میں ایک بے نیاز مزاج رکھتی تھی۔ کبھی بلال کے بارے میں نہ سوچتی کہ وہ دکھی ہے، سکھ میں ہے، ماں باپ کا پیار چھن گیا ہے اکیلا رہ گیا ہے تو میری بلا سے۔ مجھے اس کے مسائل کے بارے میں سوچنے کی فرصت نہ تھی۔ کیونکہ اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی، میں اپنے شوہر اور گھر سے خوش و مطمئن تھی۔ یہ ربیعہ کی دردسری تھی کہ ہر کس و ناکس کے دکھ درد کو اپنے اوپر طاری کرلیتی۔ دوسروں کے لئے پریشان ہوتی اور ان کے بارے میں مسلسل سوچتی رہتی۔ بلال سے تو وہ محبت کرتی تھی، پھر کیوں نہ اس کے دکھ سکھ بانٹنے کی کوشش کرتی۔اسی نے ایک روز والد صاحب کو مشورہ دیا کہ ابو جان بے چارہ بلال اب اس دنیا میں اکیلا رہ گیا ہے ہوٹل سے کھانا کھاتا ہوگا کیوں نہ دوپہر کے کھانے کے وقت جب آفس سے آجاتا ہے تو اسے آپ کھانے کے لئے بلالیا کریں، ایک وقت تو گھر کا کھانا کھا لے گا، باہر کے کھانے سے تو بہت جلد آدمی کا پیٹ خراب اور صحت گر جاتی ہے۔والد صاحب نے کہا۔ ربیعہ تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ میں بس زبانی کلامی اس کے دکھ بانٹتا رہتا ہوں، یہ اچھا ہے کہ ایک بار دن میں وہ ہمارے ہاں کھانا کھا لیا کرے، یوں بھی تمہاری ماں نے اس وقت سے اسے بیٹا بنایا تھا جب وہ ابھی بہت چھوٹا ہوا کرتا تھا۔بلال نے بہت نہ، نہ کی لیکن والد نہ مانے اور اسے روز دوپہر کو اپنے ساتھ کھانے پر بلا لیتے تھے۔ ان کے اور ہمارے گھر کی دیوار ایک تھی اِدھر سے آواز لگاتے وہ اس طرف سے جواب دیتا۔ بابا جی حاضر ہوتا ہوں۔اب ربیعہ کی بن آئی جیسے اس کی زندگی میں بہاریں امڈ آئی ہوں۔ تتلی کی طرح اڑتی پھرتی، گلاب کے پھول کی مانند کھلی رہتی۔ مجھے ہراتوار کو توقیر والد صاحب کے گھر لے آتے، ہم صبح آتے شام کو جاتے۔ تب بلال سے ملاقات ہوتی۔ وہ ایسا بردبار، سنجیدہ اور خشک مزاج تھا کہ ربیعہ کے التفات کو سمجھتا ضرور تھا مگر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہ کرتا تھا۔ اسے والد صاحب کے اعتبار اور عزت کا پاس تھا۔ وہ ربیعہ کی نادانیوں کو نظرانداز کردیتا تھا۔ اس کی لاکھ کوششوں کے باوجود وہ اس کی جانب ملتفت نہ ہوتا تھا۔ شاید وہ اسے واقعی بہن سمجھتا تھا۔

 
ربیعہ مایوس نہ ہوئی لیکن وقت مایوس ہوگیا۔ ایک اچھا رشتہ آگیا تو ابو نے اس کی شادی کردی۔ شادی والے دن وہ بہت افسردہ تھی، پھوٹ پھوٹ کر روئی لیکن ہم مجبور تھے، والد کے فیصلے کے آگے کس کی مجال تھی کہ سر اٹھاتا، انہوں نے جو درست سمجھا کیا اور ربیعہ کو ایک ہم پلہ گھرانے میں بیاہ دیا۔ وہ رخصت ہو کر چلی تو گئی مگر اپنا دل میکے کی دہلیز پر ہی چھوڑ گئی۔ اپنے خاوند سے سمجھوتہ نہ کرسکی، ہر وقت بلال کو یاد کر کے روتی تھی۔وقت گزرتا گیا اس کے ہاں تین بچے ہوگئے۔ بلال کی محبت دل سے نہ نکال سکی، حالانکہ اس کا شوہر اسے بہت چاہتا تھا بلکہ جان چھڑکتا تھا۔ ایک امیر آدمی تھا کسی شے کی کمی نہ تھی ربیعہ کے پاس… لیکن کہتے ہیں کہ عشق اندھا ہوتا ہے۔ خدا بچائے اس مرضِ لا دوا سے۔ہم دونوں بہنیں بیاہی گئیں تو ابو اکیلے رہ گئے۔ امی بیمار تھیں، ان کو بہو کی ضرورت تھی اور بلال کو ایک خاندان، ایک کنبے کی جن کو وہ اپنا کہہ سکے۔ اس کی تنہائیوں کا بس یہی ایک مداوا تھا کہ جب تنہائی تنگ کرتی ابو کے پاس آ جاتا۔ وہ بھی اکیلا پن محسوس کرتے، اس کی آمد کے کچھ اس طرح منتظر رہتے جیسے کسی باپ کو بیٹے کا انتظار ہوتا ہے۔
امی بستر پر پڑگئیں۔ دن کو کچھ آنکھ لگ جاتی لیکن رات بھر سو نہ پاتیں۔ تکلیف سے کراہتیں۔ والد اکیلے کب تک راتیں ان کے سرہانے جاگ کر گزار سکتے تھے۔ بلال روز والدہ کی عیادت کو آتا۔ ان کے پاس دیر تک رہتا، دوا پلاتا اور جب بھی ڈاکٹر کے پاس جانا ہوتا لے جاتا۔ والد صاحب گاڑی چلانے سے معذور تھے۔ ڈرائیور شام کے بعد اپنے گھر چلا جاتا تھا۔

 
ایسے دنوں میں والدین جوان بیٹے کے مضبوط بازوئوں کا سہارا لیتے ہیں، بلال نے یہ کمی پوری کردی۔ اللہ کی کرنی، والدہ کچھ عرصے بیمار رہ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ اب والد صاحب بالکل تنہا رہ گئے۔ بلال نے ان کی دلجوئی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔
ایک روز والد صاحب نے اس سے استدعا کی کہ بیٹے ہو تو بیٹے بن کر دکھائو۔ ہمیشہ کے لئے میرے پاس آ جائو۔ تمہارے اور ہمارے مکانات کے درمیان بس ایک ہی دیوار ہے، اسے گرا دیتے ہیں۔ تم اکیلے رہو گے اور نہ میں۔ ملازمہ کھانا پکا کر اور دیگر ضروری کام کر کے چلی جاتی ہے۔ ملازم لڑکا موجود ہے، تم کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔ بلال بھی شاید آسرا ڈھونڈ رہا تھا، اسے باپ کے سائے سے محروم ہوئے عمر گزر چکی تھی۔ بچپن کی حسرت آج تک دل میں کچوکے لگاتی۔ کاش باپ زندہ ہوتا تو اس کی قربت اور شفقت سے خوشیاں سمیٹ سکتا۔
بلال اور ابو ساتھ رہنے لگے۔ وہ واقعی بیٹا بن گیا۔ ہم لڑکیاں اپنے گھروں کی تھیں، تاہم کبھی کبھار میکے جانا لازم تھا والد صاحب کی خیر خبر لینے۔ یوں بھی لڑکی کے لئے میکے کا گھر جنت جیسا ہوتا ہے۔ وہ لاکھ اپنے گھر میں خوش و خرم ہو جب تک سال میں ایک آدھ چکر میکے کا نہ لگا لے، سکون نہیں آتا۔ میں چار بچوں کی ماں تھی، کم ہی گھر سے نکلنا ہوتا لیکن جب سے ابو اکیلے ہوئے تھے ہر ماہ ایک دن کے لئے ضرور والد کے پاس جاتی تھی۔ دن بھر رہ کر شام کو ہم لوٹ آتے یا کبھی ان کے اصرار پر دو دن رہ بھی جاتے۔

 
ربیعہ البتہ جلد جلد آیا کرتی تھی۔ وہ ہر ماہ آ جاتی اور دو چار دن ضرور رہتی۔ جب سے بلال آیا تھا وہ کچھ زیادہ ہی آنے لگی تھی۔ اب اس کا دل میکے کی ڈور میں اٹکا ہوا تھا اور میں اس کے مسائل سمجھ رہی تھی۔ جب وہ آتی تو میں بھی پہنچ جاتی۔ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی میں کوئی رخنہ ڈالے یا پھر بلال کو اپ سیٹ کردے، کیونکہ وہ خلوص نیت سے ہمارے والد کا آسرا بنا تھا۔ اپنی بہن کو میں اچھی طرح جانتی تھی کہ جس کے دل میں بلال کی محبت کا شعلہ ایک دہکتے الائو کی مانند جلتا تھا۔ اللہ جانے وہ کس مٹی کی بنی تھی۔ لاکھ سمجھانے کے باوجود نہ سمجھتی تھی۔ مجھے ڈر تھا کہ اس کی لااُبالی اور ضدی طبیعت کی وجہ سے سب سے زیادہ ہمدردی مجھے خرم بھائی سے تھی جو اس کے شوہر تھے، نہایت نیک نفیس اور اس پر اندھا بھروسہ کرنے والے۔ سوچتی تھی اگر میری بہن چپکے چپکے ان کی محبت کے تاج محل میں نقب لگا رہی ہے تو یہ انہیں آخر کس بات کی سزا دے رہی ہے۔والد صاحب ربیعہ کے خیالات اور ذہنی خلفشار سے قطعی بے خبر تھے۔ بلال اب ہمارے گھر میں رہتا بستا تھا۔ میں اس سے عمر میں چھوٹی تھی، پھر بھی احترام سے باجی کہتا تھا لیکن ربیعہ صرف بلال کہتی تھی۔ میں ربیعہ کو ٹوکتی کہ وہ تم سے بڑا ہے امی ابو نے بیٹا بنایا تھا۔ تم اس کو صرف بلال کہہ کر کیوں بلاتی ہو، کیا بلال بھائی نہیں کہہ سکتیں۔ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا، تبھی تم کو پڑھانے کے بہانے آتا تھا… تو پھر میں کیوں اس کو بھائی کہوں۔ ہرگز نہیں کہوں گی۔ وہ بے دھڑک جواب دیتی اور میں اپنی چھوٹی بہن کا منہ تکتی رہ جاتی۔ میں جانتی تھی ایسا کچھ نہ تھا۔ کبھی اس نے ہم بہنوں میں سے کسی کو میلی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ اسے صرف اور صرف علم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ ان دنوں وہ زندگی کے ایک ایسے کٹھن راستے پر کھڑا تھا جہاں سے اسے اپنے اچھے مستقبل کے لئے تگ و دو کرنی تھی، مفلسی کے دیو کو پچھاڑنا تھا۔ چہ جائیکہ شادی کے بارے میں اس سے گفتگو کرتا۔

 
سب سے بہترین عمل یہ ہوتا ہے کہ انسان ’آج‘ میں جئے اور مستقبل کی فکر کرے، ماضی کو فراموش کردے، جو لوگ حال کو بھلا کر ماضی میں جیتے ہیں وہ غیرحقیقت پسند اور کسی نفسیاتی مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ رومانیت پرستی ان کو لے ڈوبتی ہے۔ ربیعہ بھی اپنے اور دوسروں کے لئے ڈوبتی کشتی بن گئی تھی۔ وہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے، کی نظیر بن گئی۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا اس کی وارفتگی بڑھتی جاتی تھی، اس کے جذبے کی شدت کو بلال نے بھی محسوس کر لیا تھا، اب وہ بچوں اور شوہر کو بھی ساتھ نہ لاتی، ڈرائیور کے ساتھ اکیلی آجاتی، پھر ڈرائیور کو واپس بھیج دیتی اور کہتی کہ جب فون کروں تب آ کر لے جانا۔ وہ ہمیشہ ہفتہ اور اتوار کو آتی، جن دنوں بلال کی آفس سے چھٹی ہوتی تھی۔ خود کھانا بناتی اور بلال کو پیش کرتی۔ شاید کہ اس نے مصمم ارادہ کرلیا تھا کہ بلال کا دل جیت کر رہے گی اور بلال نے بھی قسم کھائی تھی کہ ہرگز ربیعہ کی طرف مائل نہ ہوگا۔ وہ اس کے محسن کی بیٹی تھی اور وہ بھی شادی شدہ اور چار بچوں کی ماں۔ ظاہر ہے کہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس لڑکی کا واقعی دماغ خراب تھا۔اس نے کئی بار کوشش کی، کئی حربے استعمال کئے، لیکن مرد کے بھی اپنے اصول ہوتے ہیں۔ ان اصولوں کو توڑنا جرم کا ارتکاب ہوتا ہے۔ ربیعہ کو شاید یہ ادراک نہ تھا کہ جس شخص نے اعلیٰ تعلیم بڑی محنت مشقت سے حاصل کی ہو اور پھر غربت سے ایک طویل جنگ لڑی ہو، اس کو معاشرے میں اپنی عزت اور اخلاقی اقدار کی پاسداری ہر شے سے زیادہ مقدم ہوتی ہے۔ تعلیم جہاں انسان کو انسان بناتی ہے وہاں اسے اخلاقی اقدار کی پابندی کی تلقین بھی کرتی ہے۔ اگر ایک تعلیم یافتہ انسان محبت کے نشے میں اخلاقی اقدار کو ترک کردے تو اس کی روح ختم ہو جاتی ہے۔

 
یہ میری بہن کی بھول تھی۔ اس کی آنکھوں پر عشق کی پٹی بندھی تھی۔ اسے اپنے والد کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے تھا اور زندگی کے ایام صبر و شکر کے ساتھ اپنے وفادار شوہر کے ہمراہ وفاداری سے گزارنے چاہئے تھے، مگر وہ عشق کی آگ میں اندھی ہوگئی تھی۔ اس نے برملا بلال سے کہنا شروع کردیا کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ اپنے شوہر کو چھوڑ دوں گی۔ بچوں کو بھی اسے سونپ کر آ جائوں گی، بس تم مجھ سے شادی کرلو۔ بلال نے کافی سمجھایا، نہ سمجھی تو اس نے مجھ سے کہا۔ باجی آپ اس کو سمجھایئے کہ حالات سے سمجھوتہ کرے، اپنے چار بچوں کا ہی خیال کر لے۔ جو وہ چاہتی ہے ناممکن ہے۔ ایسا قیامت تک نہیں ہوسکتا۔ وہ جنونی ہوگئی ہے، مجھے ڈر ہے کسی روز سچ مچ خرم سے طلاق نہ لے لے… تب کیا ہوگا…؟ ذرا تصور کیجئے۔میں نے ربیعہ کو بہت سمجھایا۔ اس کے ذہن سے جنوں خیزی نہ گئی۔ اتفاق سے انہی دنوں ابو بیمار ہوگئے۔ ہم دونوں بہنیں ان کی خدمت کے لئے آگئیں۔ دونوں نے بچے اپنے اپنے گھروں میں ہی رہنے دیئے تاکہ بچے بیمار والد کے لئے باعث پریشانی نہ بنیں۔ایک رات جب والد صاحب کو بہت زیادہ تکلیف تھی، ان کو ڈاکٹر نے خواب آور دوا دے کر سلا دیا اور ہدایت کی کہ ہرگز ان کو جگایا نہ جائے، جس قدر آرام کریں گے افاقہ ہوگا۔ میں والد کے کمرے میں بیٹھی تھی۔ وہ سو رہے تھے۔ نجانے کس وقت ربیعہ بلال کے کمرے میں چلی گئی۔ وہ جاگ رہا تھا اور ربیعہ اسے اپنے دائرہ جنون میں لینے کی کوشش کرنے لگی۔
ربیعہ کے خاوند کی آمد اس وقت قطعی غیر متوقع تھی۔ وہ ہمارے شہر سے اسّی میل دور اپنے گائوں میں تھے، جہاں ان کی زمینیں تھیں۔ خدا کی کرنی کہ ان کی والدہ کو سانپ نے ڈس لیا اور ان کی آناً فاناً وفات ہوگئی۔ وہ اسی وقت گاڑی نکال کر بیوی کو لینے آگئے۔
جب میں نے دروازہ کھولا تو وہ سامنے کھڑے تھے۔ رات بارہ بجے کا وقت تھا۔ میں حیران ہوئی لیکن یہی سمجھا کہ اب فرصت ملی ہوگی۔ والد صاحب کی عیادت کا سوچا ہوگا تو رات گئے آگئے، صبح بیوی کو لے جانا ہوگا۔

 
میں نے کوئی سوال نہ کیا۔ بس اسی قدر بولی۔ آجایئے اندر۔ ابو ادھر ہیں اپنے کمرے میں۔ آگے آگے چلنے لگی اور وہ میرے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ مجھے قطعی علم نہ تھا کہ ربیعہ اس وقت بلال کے کمرے میں جا گھسی ہے اور اسے جگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بلال کی خواب گاہ سے بیوی کی آواز سن کر خرم تیزی سے مڑے اور کمرے کی طرف چلے گئے، دروازے کو دھکا دیا تو وہ کھل گیا۔ ربیعہ بلال پر جھکی اسے کہہ رہی تھی، اٹھو بھی… کیسے بنے پڑے ہو… کیا چاہتے ہو کہ تمہاری چاہ میں میرا دم نکل جائے۔ یہ الفاظ تھے کہ پگھلا ہوا سیسہ جو میرے بہنوئی کے کانوں میں پڑا۔ کمرے میں ہرے رنگ کی روشنی دینے والا زیرو کا بلب جل رہا تھا۔ انہوں نے بتی جلائی۔ ربیعہ بغیر دوپٹے کے موجود تھی۔ روشنی کی تیزی سے بلالہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ ابھی وہ کچھ سمجھ نہ پایا تھا کہ خرم نے بیوی کو اس کی کھلی زلفوں سے پکڑ کر اپنی جانب گھسیٹ لیا اور گھسیٹتے ہوئے صحن میں لے آئے۔بدکردار… بدچلن میں سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ تمہارے ناجائز مراسم بلال کے ساتھ چلے آ رہے ہیں، جس کو سب بھائی کہتے ہیں۔ اف میرے خدا۔ اب تو یہ خیال ہی مجھے زندہ درگور کرنے کو کافی ہے کہ میرے بچے میرے اپنے ہیں یا کسی اور کے۔ آج تو اپنے گناہ جھٹلا نہیں سکتی۔ آج میں نے تجھے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے، اگر میں اچانک نہ آگیا ہوتا تو تو اپنے عاشق کے پہلو کی زینت بننے جا رہی تھی۔ شاید مجھے اللہ نے اس وقت یہاں اس لئے بھیجا ہے تاکہ میں تیرے کالے کرتوت اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں۔ وہ غصے میں بڑبڑاتے ہوئے بیوی پر ٹوٹ پڑے۔ اس کا گلا اپنے دونوں ہاتھوں کی مضبوط گرفت میں لے لیا اور زور سے دبانے لگے۔

 
شور سن کر میں صحن میں آئی۔ ربیعہ زمین پر پڑی تھی اور خرم اس کے اوپر چڑھے پوری قوت سے گلا گھونٹ رہے تھے۔ ربیعہ کے حلق سے بس خر خر کی آوازیں نکل رہی تھیں وہ ایسی جکڑی ہوئی تھی کہ ہلنے جلنے سے بھی معذور تھی۔ اف میرے اللہ کس قدر خوفناک منظر تھا۔ بھلا مجھ میں اتنی سکت کہاں کہ میں تندرست توانا اور جوان شخص کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت سے بہن کی گردن کو آزاد کرا سکتی۔ میں تو چلانا بھی بھول گئی تھی، دماغ مائوف ہوگیا۔ شور پر کچھ نہ سمجھتے ہوئے جب بلال باہر آیا، سب کچھ اس کی سمجھ میں آگیا، تبھی میرے ذہن میں ایک خیال کوندے کی طرح لپکا۔ میں نے دوڑ کر بلال کا ہاتھ پکڑا اور زبردستی دھکیلتی دروازے تک لائی اور بولی۔ بھائی تم تو نکلو یہاں سے۔ اس وقت خرم کے سر پر خون سوار ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک کی جگہ دو خون ہو جائیں۔ اسے دھکیل کر دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی اور جب پلٹی تو ربیعہ بے جان پڑی تھی۔ والد نے شور سنا تو کہتے رہے۔ کیا ہوا بیٹا… صبیحہ کیا ہوا۔ میری بچی یہ کون لڑ رہا ہے کیا کوئی ڈاکو آگیا ہے۔

 
وہ بچارے قیاس ہی کرسکتے تھے، نقاہت کی وجہ سے اٹھ نہ سکتے تھے۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ میری بہن ربیعہ کی اپنی کارستانی ہے، اپنا کیا دھرا ہے بلال کا کیا قصور تھا، وہ بے گناہ تھا، اس نے صبح ہی مجھے بلا کر کہا تھا۔ باجی… ربیعہ کو سمجھائو کہ اپنے شوہر اور بچوں کا خیال کرے، بچوں پر توجہ دے، ان کی اچھی نگہداشت کرے، خدا جانے کب سمجھے گی، ہر وقت مجھے کہتی ہے، خرم سے طلاق لوں گی لیکن پہلے تم وعدہ کرو کہ مجھ سے شادی کرو گے۔ باجی آپ ہی بتایئے وہ اور آپ دونوں میری بہنیں ہیں۔ کیا کوئی اپنی بہن سے بھی شادی کرسکتا ہے۔ میں اسے سمجھائوں گی بلال۔ وہ نہیں سمجھنے کی باجی۔ اسے گھر بھیج دیجئے ورنہ میں اس گھر سے چلا جائوں گا۔ میں صرف ابوجی کی وجہ سے یہاں مجبوراً رکا ہوا ہوں کہ وہ شدید بیمار ہیں۔ میری ان کو اشد ضرورت ہے۔ کیا خبر تھی کہ آج شب ہی یہ المناک واقعہ رونما ہو جائے گا۔ ورنہ اسی وقت کہہ دیتی کہ ہاں بلال بہتر ہے کہ تم یہاں سے چلے جائو۔بلال چلا گیا، مگر ربیعہ کے عشق یکطرفہ نے بالآخر اس کی جان لے لی۔ خرم بھائی نے تھانے میں اقرار کرلیا کہ انہوں نے بیوی کو اس کے باپ کے منہ بولے بیٹے کے ساتھ آدھی رات کو اس کی خواب گاہ میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا، تبھی غصے پر قابو نہ رکھ سکا اور غیرت میں آ کر گلا دبا کر مار دیا۔

 
خرم بھائی جیل چلے گئے، ربیعہ اپنی آخری آرام گاہ میں منوں مٹی تلے جا سوئی۔ بچے خرم کی والدہ اور بہنوں کے پاس تھے۔ اس صدمے سے والد بس چند ہی روز جی پائے، میرے میکے کے گھر کو تالا لگ گیا اور بلال کے گھر کو بھی مقفل کردیا گیا۔ آخری سانسوں میں اباجی نے کہا تھا۔ اے کاش میں بلال پر بھروسہ نہ کرتا، پرائی اولاد کو اپنی اولاد نہ سمجھتا۔ پرائے پھر پرائے ہوتے ہیں، وہ اپنے بیٹے کب بن سکتے ہیں۔ میں نے بھروسہ کیا اور اس نے میری عزت خاک میں ملا دی۔ ایسا کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ بلال اتنا برا نکلے گا۔

 
اب میں والد کو کیسے بتاتی کہ بلال ہرگز بدکردار اور گناہ گار نہ تھا۔ وہ ایک اچھا انسان تھا۔ رشتوں کا پاس کرنے والا اور قدردان۔ یہ تو آپ کی بیٹی ربیعہ تھی جس نے آپ کو، اپنے شوہر اور بچوں کو ایسا دن دکھایا کہ خود مر گئی اور ہم کو بھی جیتے جی مار گئی۔ (ن … لاہور)

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani