ایران میں اور شعیہ نکاح متعہ کیسے کرتے ہیں؟ اور متعہ کے اصول کیا ہیں ؟

نکاح متعہ (عربی : نكاح المتعة ) جسے عرف عام میں متعہ یا صیغہ کہا جاتا ہے؛ ولی (شہادت) کی موجودگی یا غیرموجودگی میں ہونے والا ایک ایسا نکاح ہے جس کی مدت (ایک روز ، چند روز ، ماہ ، سال یا کئی سال) معین ہوتی ہے جو فریقین خود طے کرتے ہیں

 

اور اس مدت کے اختتام پر خود بخود علیحدگی ہو جاتی ہے یا اگر مرد باقی ماندہ مدت بخش دے تب بھی عورت نکاح سے آزاد ہو جاتی ہے مگر ہر صورت میں عدت اپنی شرائط کے ساتھ پوری کرنی پڑتی ہے ؛ اور اولاد انہیں والدین سے منسوب ہو تی ہے؛ اگر فریقین چاہیں تو مدتِ اختتامِ متعہ پر علیحدگی کے بجائے اسے جاری (یا مستقل) بھی کر سکتے ہیں۔

 

 

یہ نکاح ابتدا سے اسلام میں متعدد بار جائز ہوا اور اس سے روکا گیا پھر جائز ہوا۔ تاریخی اعتبار سے رسول اللہ کی وفات سے چند سال قبل تک اس کی موجودگی پر سنی بھی اور شیعہ بھی دونوں اتفاق کرتے ہیں یعنی اس کا اصل میں حلال ہونا مسلم اور مورد اتفاق ہے مگر اکثر شیعہ اور سنی نیز دیگر فرقے اس کے حلیت باقی رہنے یا حرام ہوجانے کے بارے میں مختلف نظریات رکھتے ہیں۔

......
loading...

 

 

متعہ کے اصول

اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ چاہے متعہ کیا جائے یا نہیں اسے حلال سمجھا جائے جیسے حلالہ کو حلال سمجھا جاتا ہے مگر ضروری نہیں کہ یہ کیا بھی جائے۔ اسی لیے اس کا رواج عمومی نہیں۔ متعہ نکاح کے کچھ احکام درج ہیں جو مختلف آیت اللہ اور مجتہدین کے مواقع الجال (ویب سائٹس) پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

 

 

نکاحِ متعہ میں صیغہ پڑھنا ضروری ہے اور اس میں مہر اور وقت کا معین کرنا لازمی ہے۔نکاح متعہ صرف انہی سے حلال ہے جن سے نکاحِ دائمی حلال ہے۔ مثلاً پہلے سے شادی شدہ یا دورانِ عدت خاتون سے یہ نکاح نہیں ہو سکتاکنواری لڑکی بغیر ولی کی اجازت کے یہ نکاح نہیں کر سکتی

 

نکاح متعہ کو دائمی نکاح میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔حقوق کے لحاظ سے متعہ اور دائمی شادی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔نکاح متعہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اگلے نکاح سے پہلے عورت کے لیے عدت کا پورا کرنا ضروری ہے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔