کس قسم کے مردوں میں لڑکا پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے ایک اہم ترین سوال کا تحقیقی جواب

زمانہ قدیم سے ہی یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کی ذمہ دار عورت ہے اور بعض لوگ تو بیٹا نہ پیدا ہونے کے الزام میں عورت کو طلاق کا حق دار بھی سمجھتے ہیں

یا کم از کم دوسری شادی کرلیتے ہیں۔ جدید سائنسی تحقیق کے نتیجے میں جو حقائق معلوم ہوئے ہیں وہ اس عام پائے جانے والے خیال کے بالکل برعکس ہیں اور ان تحقیقات نے واضح کردیا ہے کہ بچے کی جنس طے کرنے میں عورت کا کوئی کردار نہیں بلکہ بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کا انحصار مکمل طور پر مرد کے جینز پر ہے۔ اس سے پہلے متعدد تحقیقات ثابت کرچکی ہیں کہ جنسی ملاپ میں عورت کی طرف سے کروموسوم دیئے جاتے ہیں جبکہ مرد کی طرف سے کروموسوم دئیے جاتے ہیں۔ مرد کا کروموسم بیٹے اور کروموسوم بیٹی کی پیدائش کی وجہ بنتا ہے۔

اب نیو کاسل یونیورسٹی کے سائنسدانوںنے ایک حالیہ تحقیق میں یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ جن مردوں کے بھائی زیادہ ہوتے ہیں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ جن کی بہنیں زیادہ ہوتی ہیں ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جبکہ عورت کے بھائیوں یا بہنوں کی تعداد اس کی اولاد کی جنس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اس تحقیق میں 927 خاندانوں کے شجرہ نصب کا مطالعہ کیا گیا اور 556387 افراد میں بچوں کی پیدائش کے رجحان کا جائزہ لیا گیا۔ اس جامع تحقیق میں گزشتہ چار صدیوں کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا گیا

اور تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کوری گیلاٹلی کا کہنا ہے کہ اب یہ بات مکمل طور پر واضح ہوچکی ہے کہ بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کا انحصار صرف مرد کے جینز پر ہے اور اس میں خاتون کے جینز کا کوئی کردار نہیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔