میں نیازی کے خلاف کھل کر لکھتا تھا مگر ایک بار وہ اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ میرے گھر پہنچ گئے اور میں نے ڈاکٹر اجمل نےنیازی نے انوکھا واقعہ بیان کرڈالا

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ’ڈر ہے کوئی دوسرا نیازی پھر ملک کے ٹکڑے نہ کر دے۔ خورشید شاہ کو ”صدر“ زرداری نے قائد حزب اختلاف بنایا ہے تو میں اے مانتا ہوں۔ میرے خیال میں پاکستانی سیاست میں آج کل آصف زرداری بہت انوکھے کامیاب اور بڑے سیاستدان ہیں۔

 

 

نامور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ….وہ صدر پاکستان بنے اور پورے پانچ سال ایوان صدر میں رہے جبکہ کسی صدر نے اپنی مدت پوری نہیں کی کسی وزیراعظم نے کی۔ تین بار وزیراعظم بننے والے تینوں باہر نکالے گئے” مجھے کیوں نکالا“؟ فوجی صدر پانچ سال سے زیادہ اپنی مدت پوری کرتے رہے ایک ”صدر“ زرداری صاحب ہیں کہ انہوں نے اپنی مدت بڑے اطمینان اور بڑے وقار کے ساتھ پوری کی۔ خورشیدشاہ کو مبارک ہو کہ انہیں زرداری نے ”قائد“ بنایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جنرل نیازی بین الاقوامی سازش کا شکار ہوئے۔ خورشید نے عمران کے خلاف بیان عمران کے نیازی ہونے کی بنیاد پر دیا تو پھر شاہوں یعنی شاہ صاحبان کا ذکر بھی آئے گا خورشید کے لیڈر بھٹو ملک توڑنے کے حوالے سے پہلی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں

 

 

 

۔ایک بہادر اور کامیاب جرنیل ہونے کے کئی تمغے اور ستارے جنرل نیازی کے پاس تھے میرا خیال ہے کہ نیازی صاحب سے ہتھیار ڈالوئے گئے تھے اس کے باوجود اس لئے بے قرار ہوں کہ وہ بھارتی جرنیل اروڑہ سنگھ کے سامنے ہتھیار نہ ڈالتے ایک گولی اپنے سینے میں اتار لیتے میں انہیں شہید مان لیتا۔ جنرل نیازی بزدل نہ تھا بد قسمت تھا،؟ میں ان کے خلاف لکھتا رہا ہوں۔ ایک دفعہ میرے دس مرلے کے کوارٹر میں وہ آ گئے تھے ان کی ہمشیرہ بھی ساتھ تھیں۔ اس کے بعد میں نے کبھی جنرل نیازی کے خلاف نہیں لکھا۔

......
loading...

 

 

 

مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی ہمیشہ جنرل نیازی کی عزت کرتے رہے۔ میانوالی کے عام لوگ بھی خفا نہ ہوئے ۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم سے الگ ہونے کے بعد اس ملک کا نام بنگلہ دیش نہ ہوتا۔ مشرقی پاکستان ہوتا۔ بھٹو صاحب نے تاریخی زیادتی کی یا تاریخ سے زیادتی کی کہ مغربی پاکستان کا نام پاکستان رکھ دیا اور خود اس کے چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر پھر صدر اور پھر وزیراعظم بن گئے۔ شاہد یہ دنیا میں پہلی مثال ہے کہ ایک سویلین سیاستدان چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بنا۔ ہمارے کئی مارشل لاءایڈمنسٹریٹر صدر بنے صرف جنرل مشرف چیف ایگزیکٹو بھی کہلائے۔ بھٹو صاحب پاکستان کے حکمران نہ بن سکتے

 

 

اگر پاکستان دو ٹکڑے نہ ہوتا۔ مجھے شیخ مجیب الرحمان سے بھی شکایت ہے کہ اس نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا وہ سہروردی کے دوستوں میں سے تھے مگر بھٹو صاحب کیلئے اقتدار کی ہوس بہت بڑی رکاوٹ تھی۔ ادھر تم ادھر ہم اور پھر اپنے ممبران سے کہا کہ تم میں سے کوئی ڈھاکہ گیا اور ممبر پاکستان اسمبلی کے طور پر حلف اٹھایا تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا صرف بہادر اور جنونی ایم این اے احمد رضا قصوری نے بھٹو کے سامنے کچھ مزاحمت کی اور پھر قصوری صاحب کے والد قتل ہوئے

 

 

اور اس مقدمے میں بھٹو صاحب پھانسی پر لٹک گئے جسے آج بھی جیالے ”صاحب دار“ کہتے ہیں اور اس کیلئے عدالتی قتل کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔(ش س م)

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔