شادی کے دوسرے روزمرنے والی ۱۸ سالہ دلہن کی میت قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف کہ جان کرآپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آجائیں گے

مانسہرہ: مانسہرہ میں نئی نویلی دلہن اٹھارہ سالہ اقرا ء کی موت کا معاملہ حل ہو گیا ۔قبر کشائی کے بعد ڈاکٹروں کی تین رکنی ٹیم نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اقرا ء کو قتل کر نے کی تصدیق کردی

۔اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ رواں ماہ اٹھارہ سالہ اقراء بی بی کی شادی حافظ احسان کیساتھ مانسہرہ میں بخیروخوبی سرانجام پائی۔پندرہ دسمبر کو اقراء کے سسرالیوں نے اس کے والدین کو اطلاع دی کہ اقراء نے خودکشی کرکے زندگی کا خاتمہ کرلیاہے۔ جس کے بعد اقراء کو نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد سپرد خاک کردیاگیاتھا۔

مقتولہ کے والدین نے بعدازاں پولیس کو لاش کا پوسٹمارٹم کرانے کیلئے درخواست دی۔ مقامی عدالت سے اجازت ملنے کے بعد ہفتہ کے روز اقراء کی قبرکشائی کرکے پوسٹمارٹم کیاگیا۔ڈاکٹروں کی تین رکنی ٹیم نے اقراء کی کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے رپورٹ میں انکشاف کیاکہ مقتولہ کے چہرے، جسم اور گردن پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔ میڈیکل رپورٹ ملنے کے بعد پولیس نے خودکشی کے کیس کو قتل کیس میں

تبدیل کردیا۔ اقراء کے والدین کی رپورٹ پر پولیس نے مقتولہ کے شوہر حافظ احسان،سسردلدار، دیور بشارت ساس نعیمہ اور جیٹھانی حاجرہ کیخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 34 302,201,202/ کے تحت ایف آئی آ ر درج کرلی ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news