ایک عورت بیٹے کی شادی تُڑوانے ایک پیر بابا کے پاس پہنچ گئی اُس نے

بس بابا جی !دعا کریںیہ شادی ٹوٹ جائے ‘میں تو جب بھی اس کی طرف دیکھتی ہوں دل میں جیسے آگ سی بھر جاتی ہے ۔خاتون کی آواز رندھ سی گئی۔۔۔تو شادی کیوں ہونے دی ؟

 

 

بابا جی نے جواب دیا۔۔۔کیسے روکتی ؟بڑا بیٹا تھا ،کماؤ پتر تھا اس کی پسند تھی کہتا تھا وہاں شادی نہیں کی تو زہر کھا لوں گا ۔۔ماننا پڑا ،خاتون آنسو پوچھتے ہوئے بولی ۔۔جب وہ مان گیا تھا تو بہو کو بھی اپنا مان لیتی!!!با باجی خاتون کو سمجھاتے ہوئے بولے۔۔ ۔کیسے مانوں بیٹے نے ہر بات میری مانی ،اسکو کیا کھانا ہے ،کیا پہننا ہے کیا پڑھنا ہے کون سی خوشبو لگانی ہے ۔سب میری پسند سے کرتا تھا ۔اب یہ اتنا بڑا فیصلہ ۔۔؟؟اس نے مجھ سے پوچھے بغیر کرلیا ۔۔۔بابا جی نے خاتون کی طرف دیکھا اور پوچھا ’’تم چاہتی تھیں

......
loading...

 

 

 

’’تم چاہتی تھیں کے وہ محبت بھی تم سے پوچھ کر کرے ؟بس بابا جی ۔۔۔مجھ سے نہیں سہا جا تا !آگ بھر جاتی ہے میرے اندر ۔۔باباجی بس دعا کریں آپ کی دعا میں بڑا اثر ہے۔باباجی نے خاتون کی طرف غور سے دیکھا اور کہا !!!سوچ لے جھلی ۔۔؟خاتون نے پر یقین لہجے میں بابا جی سے کہا سوچ لیا ہے بابا جی اچھی طرح سوچ لیا ہے ۔۔۔باباجی کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے

 

 

!!انہوں نے ایک جھلتی ہوئی نگاہ خاتون پر ڈالی منہ ہی منہ میں بڑ بڑائے ‘انسان خسارے میں ہے خسارے میں ہے ۔۔صبح کی پہلی کرن بیٹے کی موت کی خبر لائی تھی

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔