بڑے عرب ملک نے شراب پینے کی اجازت دینے پر غور شروع کر دیا تاکہ

قطرکی حکومت نے سنہ 2022ء میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد کو بچانے اور بائیکاٹ کی کوششیں ناکام بنانے کے لیے غیرملکی زائرین اور شائقین کوکھیلوں کے دوران شراب پینے کی اجازت دینے پر غورشروع کیا ہے

 

 

 

۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی فٹ بال فیڈریشن ’فیفا‘ اور شراب تیار کرنے والی بعض کمپنیوں کی ٹیمیں آئندہ سال کے اوائل میں قطر کا دورہ کریں گی جہاں یہ ٹیمیں غیرملکی تماشائیوں کے لیے مختص علاقوں میں بھی جائیں گی۔ ان ٹیموں کی طرف سے الکحل کی فراہمی کو یقینی بنانےکے لیے قطری حکام کے ساتھ باتچیت بھی ہوگی۔برطانی اخبار ’دا سن’ کے مطابق فیفا اور ایک غیرملکی شراب کمپنی کے مندوبین نے قطر کی فٹ بال ورلڈ کپ کی تیاریوں کی نگراں کمیٹی سے درخواست کی ہے کہ وہ تماشائیوں کو ٹھہرانے کے مقامات کے قریب شراب لانے اور اسے استعمال کرنے کی اجازت فراہم کرے۔

 

 

 

 

اخبار نے قطری پروجیکٹ کمیٹی کے سیکرٹری جنرل حسن الذوادی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ورلد کپ کے دوران مخصوص مقامات پر شراب پیش کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم انگلش یونائیڈ کے ایک عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ قطر نے خبردار کیا ہے کہ اگر شراب کی اجازت نہ دی گئی تو مغربی تماشائی قطر کا رخ نہیں کریں گے۔عہدیدار کا کہنا ہے کہ قطری حکومت ورلڈ کپ کیدوران بیرون ملک سے آنے والے زائرین اور تماشائیوں کو شراب کے استعمال کی اجازت دے گی مگرشراب کھیل کے میدانوں سے ایک گھنٹے کی مسافت پر دی جائیگی۔ انگلش یونائیڈ کے عہدیدار نے کہا

......
loading...

 

 

 

کہ اگر قطر کا یہ رویہ رہا تو کھیل کے موقع پر اس کا بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے۔بین الااقوامی فٹ بال فیڈریشن کے ایک عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ توقع ہےکہ 2022ء4 کے فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران قطری حکومت تماشائیوں کو ان کے مرغوب کھانوں کی فراہمی کا اہتمام کرے گی۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنےآئی ہےجب قطر کے خلاف عالمی سطح پر فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد کے حوالے سے شکایات میں اضافہ ہوا ہے

 

 

۔یہی وجہ ہے کہ بعض قطری عہدیدار سنہ 2022ء کے بین الاقوامی فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد کو کو خطرے میں سمجھتے ہیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔