ایک آدمی کی پسلیوں میں شدید درد ہو گیا اُسکے گھر والے اُس حکیم کے پاس لے گئے

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بندہ پسلیوں کے شدید درد میں مبتلا ہو گیا‘ درد اس قدر شدت سے ہو رہا تھا کہ وہ زخمی پرندے کی طرح تڑپ رہا تھا‘ اس کے عزیز رشتے دار اسے ایک عالم فاضل پختہ کار حکیم کے پاس لے گئے‘۔۔۔-۔جاری ہے ۔

حکیم نے مریض کا بڑی تفصیل سے معائنہ کیا اور آخر کار یہ دعویٰ کیا کہ اگر یہ مریض آج کی رات خیر خیریت سے کاٹ لیتا ہے تو زندگی کے کچھ امکانات ہیں وگرنہ موت اس کا مقدر بن چکی ہے‘ انسان کیلئے دشمن کا تیر اس قدر زہریلا نہیں ہوتا جتنا کہ بدپرہیزی کا گھاؤ کاری ہوتا ہے۔ اگر ایک نوالہ بھی آنت کے کسی گوشتے میں اٹک کر رہ جائے تو انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے‘ یہ مریض کچھ ایسی ہی حالت سے دوچار ہے۔حضرت سعدیؒ فرماتے۔۔۔-۔جاری ہے ۔

ہے۔حضرت سعدیؒ فرماتے ہیں کہ وہ حاذق حکیم یہ کہہ کر رخصت ہو گیا اور شومئی قسمت اسی رات قضائے الہٰی سے وفات پا گیا لیکن وہ تکلیف سے تڑپتا ہوا مریض مزید چالیس برس زندہ رہا۔اس لئے کہتے ہیں موت کا دن مقرر ہے ۔لیکن انسان جیتا اس طرح ہے جیسے اس نے کبھی مرنا نہیں ۔اپنی سب محنت دنیا سنوارنے کے لئے لگا لیتا ہے۔۔۔۔-۔جاری ہے ۔

اور آخر ت کے لئے سوائے پچھتا وے کے کچھ نہیں چھوڑتا ۔اور مر ایسے جاتا ہے جیسے وہ کبھی دنیا میں آیا ہی نہیں تھا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news