’ہمیں کچن میں لے جاکر وہاں یہ شرمناک ترین کام کیا جاتا ہے‘ مدرسے میں پڑھنے والی لڑکیوں نے خط لکھ دیا، ایسا انکشاف کردیا کہ پولیس والے بھی تصور نہ کرسکتے تھے

بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم پہلے بھی عام تھے لیکن شدت پسند مودی سرکار کے دور میں تو گویا جنسی وحشت کا ایک سیلاب اُمڈ آیا ہے۔سڑکوں، چوراہوں سے لے کر قانون کی محافظ عدالتوں تک ہر جگہ خواتین کے خلاف جرائم کی خبریں سامنے آرہی ہیں،۔۔جاری ہے۔

حتیٰ کہ درسگاہیں تک محفوظ نہیں ہیں۔ گزشتہ روز دارالحکومت کے ایک آشرم میں قید کی گئی درجنوں خواتین کو بازیاب کروایا گیا اور آج یہ خبر سامنے آ گئی ہے کہ ریاست اترپردیش کے ایک مدرسے میں درجنوں نوعمر لڑکیوں کو ہوس کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔انڈیا ٹی وی نیوز کے مطابق پولیس کو شہادت گنج کے علاقے میں واقع مدرسے کی لڑکیوں نے خط لکھ کر اپنی حالت زار سے آگاہ کیا تھا۔ جب وہاں چھاپہ مارا گیا تو پتہ چلا کہ 50 سے زائد لڑکیوں کو زبردستی مدرسے میں قید کر کے ہوس پرستی کے لئے استعمال کیا جارہا تھا۔۔۔جاری ہے۔

......
loading...

لڑکیوں نے پولیس کو بتایا کہ مدرسے کے منیجر کے کہنے پر ان پر تشدد بھی کیا جاتا تھا اور مدرسے کے باورچی خانے میں لیجاکر ان کے ساتھ دست درازی بھی کی جاتی تھی۔ کچھ لڑکیوں نے بتایا کہ مدرسے کا منیجر فحش گانے چلا کر ان سے رقص بھی کرواتا تھا۔
لکھنﺅ پولیس کے ایس ایس پی دیپک کمار کا کہنا تھا کہ مدرسے میں طالبات کی کل تعداد 125 بتائی گئی تھی لیکن چھاپہ مارا گیا تو وہاں صرف 51 لڑکیاں تھیں۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کررہی ہے۔۔جاری ہے۔

کہ باقی لڑکیاں کہاں ہیں۔ مدرسے کا منیجر پولیس کی حراست میں ہے اور اس سے تفتیش کی جارہی ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔